11 سالہ بچے نے سوشل میڈیا صارفین کو آبدیدہ کردیا

مصر کے گیارہ سالہ بچے نے عرب دنیا کے سوشل میڈیا صارفین کو آبدیدہ کر دیا۔ آج کل اس بچے کے جوابی پرچے کی تصویر عرب دنیا کے صارفین میں بڑی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ محمد عبد الکریم حسن پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس جماعت کے سالانہ امتحانات میں عربی کے پرچے میں پہلا سوال تھا: ’’ماں پر مضمون لکھیں، جس میں بچوں کے لیے ماں کی خدمات واضح کریں، نیز آپ اپنی ماں سے کیسے برتائو کرتے ہیں، وضاحت کریں۔‘‘

اس کے جواب میں عبد الکریم نے لکھا کہ ’’امی ماتت و مات معھا کل شیٔ‘‘ یعنی میری امی جان اس دنیا سے رخصت ہوگئیں اور ان کے ساتھ میری خوشیاں بھی قبر میں دفن ہوگئیں۔

عبد الکریم کے استاذ نے اس پرچے کی تصویر نکال کر سوشل میڈیا میں ڈل دی، جسے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد نے شیئر کیا اور اس پر کمنٹس دیئے۔ جبکہ بیشتر صارفین اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھیں چھلک پڑیں۔

گزشتہ دنوں ٹیوٹر پر یہ خبر سب سے آگے تھی۔ سوشل میڈیا کے بعد مصر کے تقریباً تمام اخبارات نے اسے نمایاں طور پر شائع کیا۔ مصری اخبار المحیط لکھتا ہے کہ عبد الکریم شمالی سینا کے شیخ زوید نامی اسکول کا طالب علم ہے۔ اس نے ایک سطر میں جواب لکھا ہے، مگر اس کے اندر معانی کا سمندر ہے، جس سے وہی سمجھ سکتا ہے، جو بچپن میں ماں کے فراق کا غم سہنا پڑا ہو۔

کئی کالم نگاروں نے عبد الکریم کے اس ایک جملے پر احادیث و اسلامی واقعات کی روشنی میں تفصیلی مضامین بھی لکھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس معصومانہ جواب سے گیارہ سالہ عبد الکریم کو کافی شہرت حاصل ہوگئی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں