نصابِ تعلیم سے اسلامی مواد کا اخراج، حقائق کیا ہیں؟

محمد بلال خان

بلاگر


جس سال ہم جماعت نہم کی اسلامیات پڑھ رہے تھے، اسی سال اے این پی حکومت نے سابقہ نصاب تعلیم تبدیل کرکے مکمل سیکولر قسم کا نصاب متعارف کرایا۔ صد شکر کہ ہم نے سابقہ ہی پڑھایا، مگر ہمارے جونیئرز کے ساتھ ہی یہ کھلواڑ ہوا۔ پھر ہم ایف ایس سی میں گئے تو اے این پی کا پانچ سالہ ترتیب کردہ نصاب تعلیم ہمارے سامنے منہ کھولے بیٹھا تھا، جس میں اردو سے علامہ اقبالؒ کا تصور، اہم تاریخی مسلمان فاتحین کی جگہ ملالہ، نیلسن منڈیلا، عبدالغفار خان، بے نظیر بھٹو اور جمعیت علمائے اسلام کے پریشر میں آکر مفتی محمود کا سبق بھی ڈال دیا تھا۔۔۔

ہمارے ایف ایس سی فرسٹ ائیر 2014ء میں تو نئے نصاب کی اُردو اور اسلامیات پڑھائی گئی، جس میں پاکستان میں جمہوریت کو اسلامی بنانے کی کوشش کے مصداق اسلامی نصاب کو سیکولر پسند بنانے کی کوشش میں نہایت ہی دل گرفتہ تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ 2013ء میں تحریک انصاف برسراقتدار آئی تو ابتدائی مراحل میں اے این پی کا سیکولر نما جمہوری نصاب چلنے دیا گیا۔ ساتھ ہی وزارتِ تعلیم کو نصاب کی جانچ پڑتال کی ہدایت کی گئی۔ خدا بھلا کرے اسلامی جمعیت طلبا اور جماعتِ اسلامی کے اراکین اسمبلی سمیت ایم ایس او کا، جو تعلیمی اداروں میں اسلامی شعور کا نام ہی کم از کم زندہ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ کی وساطت سے طلبا نے تحریک انصاف کی حکومت کو اے این پی کے تیار کردہ متنازعہ نصاب کی ازسرنو تصحیح کرنے یا ترمیم کرکے اسلامی تشخص پر مبنی نصاب تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔۔۔۔

انہی دنوں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد میں ہمارے حلقے سے منتخب ایم پی اے محترم مشتاق احمد غنی صاحب بطورِ وزیر تعلیم تعلیمی سال کا افتتاح کرنے آئے۔ تقریب میں بندہ بھی کسی کھو کھاتے لگ کر صوبائی مقابلہ مضمون نگاری کے ایوارڈ کا حقدار قرار پایا۔ مشتاق صاحب کے ہاتھوں ایوارڈ وصول کیا۔

تقریب کے بعد مشتاق غنی صاحب سے چائے کے دوران نصاب بدلنے کے متعلق بات ہوئی۔ ہمارے ساتھ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہمارے استاد پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد صاحب، ڈاکٹر شکیل جدون صاحب اور ڈاکٹر اشفاق احمد شفتہ صاحب سمیت چند دیگر اساتذہ بھی حمایت میں آئے۔ مشتاق غنی صاحب کے سامنے بات چیت رکھی گئی، اور انہیں باور کرایا گیا کہ اسلام پسند طلباء کلاسز کا بائیکاٹ بھی کرسکتے ہیں۔ اس لیے کم از کم اسلامیات کا سابقہ نصاب بحال کیا جائے۔ مشتاق غنی صاحب نے حامی بھری اور چند دن میں خوشخبری سنانے کا وعدہ کیا۔ مشتاق صاحب چونکہ والد محترم کے پرانے واقف کار اور والد محترم ان کے کالج میں پڑھاتے بھی رہے، اس لیے ان سے بے تکلفی بھی ہے۔

ایک ماہ بعد ان سے دوبارہ ایبٹ آباد میں ہی ملاقات ہوئی تو پوچھ لیا کہ انکل نصاب کا کیا بنا۔۔۔؟ کہنے لگے کہ اسمبلی میں جماعت اسلامی اور جمعیت نے بھی بات اٹھائی ہے، لیکن ہم نے اس سے قبل ہی ایبٹ آباد پوسٹ گریجویٹ کالج کے وفد سے ملاقات کے ساتھ ہی نصاب کی تبدیلی پر کام شروع کردیا ہے۔ ان کے اس جواب سے تسلی ہوئی، اور یہ تسلی حقیقت میں تب بدلی جب چار یا پانچ ماہ بعد نصاب تیار تھا، جس میں اسلامی مواد، نہم کی اسلامیات، انٹر کا نصاب اور چھوٹی کلاسوں میں اسلامی ہیروز کے اسباق کی بحالی ہوچکی تھی، جو مشتاق احمد غنی صاحب کی جانفشانی اور ان کی ٹیم کیساتھ ساتھ عمران خان کی خصوصی توجہ سے ممکن ہوا۔

مشتاق غنی صاحب کے اس بہترین اقدام کے ساتھ ساتھ ایبٹ آباد کے لیے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بہترین یونیورسٹی کا قیام ایک سال کے اندر اندر مکمل کرنا ایبٹ آباد کی تعلیمی تاریخ کا واقعی ایک انقلابی اور تاریخی اقدام تھا، جہاں اب ہزاروں طلباء وطالبات سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سمیت درجنوں شعبہ جات میں زیرتعلیم ہیں۔

آج فیس بک پر کچھ تصاویر گردش کرتی دیکھیں تو ضروری سمجھا کہ اس حوالے سے چند سطور بطورِ گواہی کے لکھ دوں تا کہ اظہارِ حق کی حجت تمام ہو۔ یہ نصاب 2014 اور 2015ء کے دوران ہی درست کردیا گیا تھا، جو اے این پی کے خرافاتی نظریات کی بدولت قوم کے بچوں کو اپنے اصل تشخص اور پاکستانی تاریخ سے انتہائی عیاری سے دور کرنے کا سبب بن سکتا تھا۔ میں عمران خان، محترم مشتاق غنی صاحب اور تعلیمی نصاب بورڈ خیبرپختونخوا کو اس بہترین کاوش پر خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی سمجھتا ہوں۔

اس کے ساتھ ہی اس تحریک میں شامل ان تمام افراد کو داد نہ دینا بھی ناانصافی ہے، جنہوں نے حکومت کی توجہ دلائی، جس میں اہم کرادر اہلسنت والجماعت نے صوبائی اسمبلی کے سامنے اس نصاب تعلیم میں تبدیلی کے خلاف دھرنا دے کر ادا کیا، جو مطالبات کی منظوری تک ختم نہ کرنے کا اعلان کیا گیا، مگر صوبائی وزیرتعلیم اور حکومتی ارکان نے اہلسنت والجماعت خیبر پختونخوا کی قیادت سے تفصیلی مذاکرات کیے اور نصاب کی بحالی کا وعدہ کیا، جس پر دھرنا ختم کردیا گیا، جبکہ اسمبلی میں موجود جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور اہلسنت والجماعت کے حمایت یافتہ ارکان نے بھی سابقہ حکومت کا نصاب برقرار رکھنے کے خلاف آواز اٹھائی۔

باقی تحریک انصاف کی حکومت کو یہودی ایجنٹ کہہ کر نصاب تعلیم میں تبدیلی کا الزام عائد کرنے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ اے این پی کے سیاہ کرتوت دھونے اور نظام تعلیم کی تطہیر سے آپ کے نزدیک عمران خان کی حکومت یہودی ایجنٹ ہے تو ہمیں ایسے ایجنٹ منظور ہیں۔ میں بطور عینی گواہ کے اس واقعے اور معاملے کو قلمبند کرنا اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ میری گواہی اللہ کے دربار میں لکھی جائے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں