”ہمیشہ اسلام نے مسلمانوں کی مدد کی“

آج دودھ لینے بھینسوں والے باڑے پر پہنچا تو وہاں بیٹھے ایک جلالی صورت بزرگ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کچھ ایسے مبہم انداز میں کررہے تھے کہ میں بے چین ہوکر پہلو بدلنے لگا۔ اٹھنے کی جلدی تھی۔ انتظار میں تھا کہ وہ جلد ”اپنی وابستگی“ شو کریں تو میں احتراماً ایک آدھ جملہ اس وابستگی کی فیور میں کہہ کر جان چھڑاؤں۔ مثلاً: اگر بی بی نمودار ہوئی تو کہہ دوں گا: ”آہ، بے چاری۔ ایک ہی تو لیڈر تھی۔ مار دی ظالموں نے!“ اگر وابستگی جنرل ضیاء مرحوم سے نکلی تو کہہ دوں گا: ”بھٹّو کا تو بس نام ہی بن گیا۔ ایٹم بم تو اسی مردِ مومن نے بنایا تھا۔“ میاں صاحب سامنے آئے تو کہہ دوں گا: ”بڑی ہی نا شکری قوم ہے یہ۔ روز موٹر وے پر سفر کرتی ہے، نعرے اس بے وقوف خان کے لگاتی ہے!“ اور وابستگی اگر خان سے نکلی تو بھی کیا کمی ہے۔ شوکت خانم وغیرہ۔

خیر، خدا خدا کرکے وہ جب سامنے آئی تو پتا چلا بزرگوار جنرل ایوب کے دیوانے ہیں۔ میں نے جھٹ سے فلسفیانہ سا منہ بنایا اورکہا: ”واہ جی واہ۔ بزرگو، کیا نام لیا ہے آپ نے! اس قوم کا کوئی والی وارث نئیں، جب تک جنرل ایوب ایسا مخلص ہیرو نہیں مل جاتا، جس کے دور میں ساری انڈسٹری لگی۔ سچ پوچھیں تو ہم تو کھا ہی اسی کا رہے ہیں۔۔۔“

یہ کہتے ہی میں نے اٹھنے والا پوسچر بنایا۔ لیکن یہ کیا!!! بزرگ نے مجھے بازو سے جکڑ کر تقریباً گھسیٹ ہی لیا۔ پھر دائیں ران پر ہتھیلی پٹخ کرجوش بھری چیخ ماری: ”ایتھے رکھ سُو (یہ ہوئی نا بات!)!“
آگے آپ بھی سن لیں، کیا کہا بابا جی نے میرے بارے میں۔ کہنے لگے: ”اے بندہ دانشور اے۔ اج مل گیا ہم خیال بندہ!!“ ساتھ میں ایک چھوٹے کو آواز لگائی: ”اوئے سلیمے، پروفیسر صاحب کے لیے ایک کپ چائے لا!! کوئی بندہ دیکھ وی لیا کرو۔ ان جیسا پڑھا لکھا بندہ اللہ کی نعمت ہوتی ہے۔ قدر کیا کرو۔“ میں جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔ میری سٹریٹجی یا چالاکی بری طرح پِٹ چکی تھی۔ میں انہیں پسند آگیا تھا۔

اگلی چند ہی ساعتوں میں بابا جی پرانی باتوں اور سہانی یادوں کے سمندر میں غوطہ زن تھے۔ میں' ہوں، ہاں، جی با لکل ' وغیرہ کی فرمانبردانہ تکرار کی تسبیح نبھاتےاپنی دانشوری کے پھندے پر لٹکا منہ بسور رہا تھا۔ یکا یک خالص دودھ پتی کے خیال نےتقویت بخشی تو ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگا۔

چارپائی کے دائیں جانب گوبر کے ایک خوبصورت ڈھیر پر نظر پڑی، جس کے آس پاس منڈلاتی بطخوں، مصری مرغیوں، ایک باوقار مرغے، اور وہی عمومی لُک دینے والی پنجابی مرغیوں کا منظر دیدنی تھا۔ میں دلچسپی سے دیکھنے لگا۔ خیال گزرا، ان کی دنیا بھی خوب مزے کی دنیا ہے جس میں بریکنگ نیوز کے ہوشربا گردو غبار کا گزر تک نہیں۔ نہ اِنہیں ڈونلڈ ٹرمپ بمقابلہ ہلیری کلنٹن کے نتیجہ میں امریکہا کے آیندہ صدر میں دلچسپی۔ نہ بنی گالہ کے محاصرے سے کوئی سروکار جہاں کپتان نے پاکستان بھر کی پولیس کو بدلتی رُت مونگ پھلی کی دعوت پر بلا رکھا ہے۔ نہ کینڈی کرش کا کوئی شعور اور ایڈکشن۔ نہ پاکستان کے جے ایف 17تھنڈر کی صلاحیتیوں میں اضافے کی خبرپر کوئی جوش و خروش۔ نہ انہیں نواز شریف اور زرداری مافیا کی بے لگام ہوتی دولت بمقابلہ عام لوگوں کے سکڑتے وسائل پر تشویش ہی۔ وقت کی بھاری بھر کم گزران کے احساس کا سارا بوجھ مجھ غریب کے لیے رکھ چھوڑا تھا مالک نے!

پاس ہی ایک بفلو بے بی بندھا تھا جو کبھی آسمان کی جانب دیکھتا، تو کبھی مرغیوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر رشک کرتے ہوئےبے چین دکھائی دیتا۔ یا شاید یہ سوچتا ہو کہ Galaxy Note 7کی نئی ایپلیکیشنز کیا ہیں؟ نیو یارک ٹائمز میں ڈیوڈ بروک نےاپنے نئے کالم میں کیا نکتے اُٹھائے ہیں؟ یا شاید وال سٹریٹ جرنل کی کسی شہ سرخی پر بے چین ہو۔ خیر! مرغیوں، گوبر اور بھینسوں والا یہ نیچرل ماحول دل کو چھو لیا کرتا ہے۔ رہ رہ کر علّامہ کی نظم کا وہ مصرع یاد آتا ہے:
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

مجھے ہوش آیا تو خود کو ہنوز بابا جی کےپاس پایا، جو اپنی دھن میں رواں مجھے تاریخ پاکستان کا پرچہ حل کرانے میں اسی طرح مصروف تھے۔ چائے نہ صرف آچکی تھی، بلکہ میں آخری گھونٹ تک جاپہنچا تھا۔ شکر ہے، مغرب کی اذان ہوگئی۔ نماز کا بہانہ کام آگیا۔ علامہ اقبالؒ یاد آئے، ُان کا ایک خوبصورت کومنٹ کہ 'ہمیشہ اسلام نے مسلمانوں کی مدد کی۔“

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں