مقامی زبان کی فلمیں۔۔۔ ایک مختصر جائزہ

سائرہ عبداللہ


ہمارے ملک میں فلم کے ساتھ انڈسٹری لکھنا، انتہائی بھونڈا مذاق ہوگا کیونکہ ابتدا سے ہی کسی نے اسے سنجیدہ لیا اور نہ ہی کوشش کی گئی جبکہ پڑوسی ملک کا سب سے زیادہ انحصار اسی انڈسٹری پر قائم ہے۔ وہ نہ صرف پیسہ کما رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی زبان و ثقافت کا پرچار بھی کررہے ہیں۔ ایسے میں جہاں اُردو فلموں کا مستقبل ہمیشہ دائو پر لگا رہا وہاں مقامی زبان کی فلموں کا کیا حال ہوگا؟ پچھلی ایک دہائی میں تو فلم انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا، اب اِکا دُکا فلموں نے کچھ بوجھ اٹھاکر پھر سے فلمی صنعت کی رونقیں بحال کرنا شروع کی ہیں۔

یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ فلمی صنعت کو پشتو فلموں نے کچھ سہارا دیئے رکھا اور اب بھی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اچھے بجٹ کی بہترین فلمیں تیار کی جارہی ہیں لیکن اسے مخصوص زبان کی وجہ سے وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو ملنی چاہیے۔

اگر ہم سندھی فلموں کی بات کریں تو وہ ہالی ووڈ سے بھی پرانی فلم انڈسٹری رہی ہے جس پر قومی چینل پر باقاعدہ ایک پروگرام ’’سندھی فلم سنسار‘‘ کے نام سے نشر بھی کیا جارہا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس پروگرام میں یہ بتایا گیا ہے کہ بڑے پردے کی سندھی فلمیں اب ناپید ہوگئیں اور سی ڈی پر انتہائی پرلے درجے کی ناقص فلمیں بن کر ڈب ہورہی ہیں۔

ایسے میں سرائیکی زبان کی فلموں کی بات کی جائے تو حقائق انتہائی تلخ سامنے آتے ہیں۔ لگ بھگ چار کروڑ کی آبادی سرائیکی ناظرین پر مشتمل ہے جو سکھر ، روہڑی سے شروع ہوکر رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، مظفر گڑھ ، ڈی جی خان اور میانوالی سمیت پورے جنوبی پنجاب پر مشمل ہے جبکہ بھارت میں بھی سرائیکی زبان بولنے والے لاکھوں گھرانے موجود ہیں۔ لیکن پنجابی فلموں کے عروج کے دور میں بھی چند ایک ہی سرائیکی زبان کی فلمیں بنائی گئیں جن میں ’’دھیاں نمانیاں‘‘ اور ’’آرزو‘‘ سرفہرست دکھائی دیتی ہیں۔ یہ اپنے دور کی انتہائی بہترین فلمیں تھیں اور اس کے بعد ایک طویل خاموشی اور پھر ’’پرائی دھی‘‘ جیسی فلم کی آمد مگر اپنی زبان کے متوالے سرائیکی ناظرین کی تشنگی کہاں ختم ہوئی۔

سرائیکی ناظرین کی خواہش تھی کہ ان کی زبان میں بھی اچھی فلمیں بنیں اور یہ اس سے محظوظ ہوسکیں مگر کسی بڑے فلم ساز نے کوئی خاص توجہ نہ دی تو پھر چند مقامی شوقین فنکاروں نے مل جل کر کچھ سی ڈی فلمیں جن میں ’’روہی دی رانی‘‘ اور ’’کھوٹے سکے‘‘ تیار کی اور اس کے بعد سرائیکی سی ڈی فلموں کا نیا دور شروع ہوگیا لیکن چند ایک سی ڈی فلموں کے بعد ناتجربہ کاری کے ناگ نے اس نومولود صنعت کو نگل لیا۔ ذو معنی جملوں سے لبریز، فحش گانوں اور بے سروپا کہانیوں کی وجہ سے سرائیکی ناظرین کی تعداد صرف چھڑے تماش بینوں تک محدود رہ گئی۔ سلجھے ہوئے سرائیکی گھرانوں نے ایسی سی ڈی فلموں کا غیر محسوس انداز میں بائیکاٹ کردیا۔ حالانکہ سرکاری سرپرستی نہ ہونے کے باوجود سرائیکی ٹیلی فلمیں اندرون و بیرون ملک دیکھی اور پسند کی جارہی تھیں۔

ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اُردو میڈیا کے کچھ سنجیدہ لوگوں نے اس پر محنت کی اور ایک مکمل اصلاحی و مزاحیہ فلم کی تیاری شروع کی۔ مختلف سرائیکی فنکاروں سے ملاقاتیں، وسیب کے لوگوں کے رہن سہن، وہاں کی مشکلات اور مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کہانی پر کام شروع ہوا اور پھر کھلے دل سے مقامی فنکاروں کو ہی کاسٹ کیا گیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو نئے انداز سے سیکھنے کا موقع ملے۔ نئے ٹیلنٹ کو اُبھارا جائے۔ چراغ سے چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی اور یہی ایس جے (شوکت، جنید) پروڈکشن کی سوچ تھی۔ یہی خواب تھا جس کی تعبیر 30 دسمبر 2016ء کو ملنے جارہی ہے۔

sa-muzaffar

نئے سال2017ء میں سرائیکی ناظرین کے لیے ’’ڈزو بادشاہ‘‘ فلم ایک انوکھا تحفہ ثابت ہوگی۔ جس میں ایک مکمل کہانی ہے۔ وسیب کے اپنے گھروں کی کہانی، اپنے کرداروں کی کہانی۔ کامیڈی ہے تو فیملی کے لیے ہے۔ گانے اور میوزک ہے تو دل کو سرور بخشنے والا ہے۔ یوں سمجھیے کہ سرائیکی فلموں کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی ہے۔ اب یہ سرائیکی ناظرین پر منحصر ہے کہ وہ اگر اچھی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں تو ’’ڈزو بادشاہ‘‘ کو کس طرح پذیرائی دیتے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں