اسمارٹ فون، والدین کے لیے نئے راہنما اصول

اب یہ بات اکثر دیکھنے میں آرہی ہے کہ بچے بہت زیادہ متحرک اور غصے میں نظر آتے ہیں۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ چیزوں کو اِدھر اُدھر پھینکنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اِن وجوہات کی بنا پر والدین پریشان دکھائی دیتے ہیں، لیکن ایسے تمام پریشان حال والدین کے لیے ”امریکی اکیڈمی برائے اطفال“ نے والدین کے لیے نئے رہنما اصول پیش کیے ہیں جس میں والدین کو سختی سے اسمارٹ فون دینے سے منع کیا ہے، چاہے بچوں کو اسمارٹ فون دینے سے گھر میں سکون ہی کیوں نہ رہتا ہو۔

امریکا میں واقع یونیورسٹی آف مشی گن کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ وقت ایسے ہوتے ہیں جب والدین اپنے بچوں کو تحمل اور سکون سے بٹھانے کے لیے انہیں اسمارٹ فون دے دیتے ہیں۔ لیکن بچوں کو سکون سے بٹھانے کا یہ طریقہ بالکل غلط اور نقصان دہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کو سکون میں لانے کے لیے اگر اسمارٹ فون استعمال کیے جائیں تو وہ اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھنا نہیں سیکھ پاتے۔

یہ رپورٹ شائع کرنے والی جینی ریڈیسکی کہتی ہیں کہ آج کل ڈیجیٹل میڈیا چھوٹے بچوں کی پرورش کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن اِس میڈیا کے بچوں پر پڑنے والے اثرات پر کسی نے بھی غور نہیں کیا۔ ”ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ بچوں کی نشوونما چھوٹی عمر میں ہی ہوتی ہے۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ کھیلنا، پڑھنا، اپنے جذبات پر قابو پانا اور لوگوں سے تعلق قائم کرنے کے طریقے سیکھتا ہے لیکن اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال بچوں کی ان صلاحیتوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔“

شائع کیے جانے والے رہنما اصولوں میں بتایا گیا ہے کہ دو سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو میڈیا کی کوئی بھی ڈیوائس دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اِس ایک گھنٹے میں بھی بچہ جو بھی چیز دیکھ رہا ہو، والدین کو ساتھ بیٹھ کر دیکھنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو بچے کی نیند، اُس کی نشوونما اور ذہنی اور جسمانی صحت پر غلط اثر پڑتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں