رپورتاژ ”سیک سیمینار“ کا

zulfiqar-urdutribe

ذوالفقار خان


آغازِ وقت سے بیس منٹس پہلے میں نے جب فلیٹیز ہوٹل کے گیٹ نمبر1 پہ پہنچ کر ثاقب ملک کو فون کیا تو جواب ملا ہم خوش آمدید کہنے کے لیے کرسٹل ہال میں موجود ہیں۔ وقت کی پابندی کی عمدہ مثال نے دِل خوش کردیا، حالانکہ سوچ رہاتھاکہ بروقت کون آتا ہے۔ ثاقب ملک اور اُن کے ساتھی سر ظفراقبال مغل اور شاہد اعوان، حماد بلوچ اور عزیزم دانش اپنے چند دیگر دوستوں کے ہمراہ ”ہائی الرٹ“ ملے۔

سوشل میڈیا کے تن آسان دوست البتہ عملی میدان میں پہنچتے پہنچتے ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوگئے۔ باقاعدہ پروگرام 5:08 شام اسراراحمد کی آواز میں تلاوتِ قرآن اور مفہومِ قرآن سے ہوا۔

5:18 پر متعدل و خوش اخلاق محترم ڈاکٹر عاصم اللہ بخش نے SEEK کے مقصد پر گفتگو کی۔ بڑی بات کی کہ صرف سوچ کو ہی نہیں، سوچ والے شخص کو بھی جانیں۔

5:25 پر نوجوان اسکالر عظیم الرحمن عثمانی کا ریکارڈ شدہ تقریباً بیس منٹس کا پیغام یوٹیوب سے لے کر ملٹی میڈیا پر پیش کیا گیا۔ بعدازاں عثمانی صاحب نے براہِ راست شرکا کے سوالات کے جوابات دیے۔ عثمانی صاحب نے ”نہ کرنے“، ”کرنے“ اور ”کیسے کرنے“ کے کاموں کے متعلق قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کی۔ ماشاء اللہ خوب حق ادا کیا۔ اور آخر میں کہاکہ یاد رکھیے! دعوت بغیر محبت کے نہیں ہوسکتی۔

seek-seminar-02-urdutribe

5:53 پر احمدحماد صاحب نے اپنا کلام پیش کیا۔ پنجابی میں شاید کچھ اس طرح کا تھا۔ ”ہتھ میرے وچ تیریاں لکھیاں۔۔۔
موتی موتی موتی۔۔۔
ہائے ہائے ہائے۔۔۔
آری آری آری۔۔۔
سونا سونا سونا۔۔۔
5:58 پر انعام رانا سے رابطہ کی کوشش ناکام ہونے پر 6:01 بجے دوبارہ احمدحماد کو زحمت دی گئی اور پھر تو انہوں نے خوب بھڑاس نکالی۔ ثاقب ملک کی کوشش کے باوجود بھی ہمارے محترم شاعر نے اپنا کلام سُناکر ہی دَم لیا۔

6:09 پر انعام رانا صاحب سے اسکائپ پر رابطہ ہوگیا۔ وائی فائی کی رفتار شاید مدثر نذر یا سنیل گواسکر والی بیٹنگ کی سی تھی (مصباح الحق کی بیٹنگ اتنی سُست نہیں ہوتی کہ سُست رفتاری کے لیے اُسے بطورِ مثال پیش کیا جائے)۔ انعام رانا نے بہت شرمیلے، شرارتی انداز اور اطوار کے ساتھ اپنا مدعا بیان کیا۔ آدھے ننگے سر پر بار بار کھُجلی بھی فرماتے رہے۔ اُن کاپیغام تھا کہ بطورِ انسان ایک دوسرے سے جُڑنے کی کوشش کرنی ہے۔ سامنے بیٹھے ہوئے اپنے اُستاد پروفیسر ہمایوں احسان کے بہت زیادہ احسان مند ہوتے رہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اُستاد کے سامنے گفتگو کو اعزاز گردانتے رہے۔ اس کاوش پر ثاقب ملک کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

6:40 پر پندرہ منٹس کا چائے کا وقفہ ہوا جو ثاقب ملک کی کوشش سے بہرحال 28منٹس پر اختتام پذیر ہوا۔

7:08 پر عارف انیس ملک صاحب سے بیرونِ ملک رابطہ ہوا۔ اُن کا تعارف پیش کیاگیا۔ انہوں نے اپنی کتابیں ”آئی ایم پاسیبل“ اور ”خواب سچے ہوسکتے ہیں“ پر بات کی۔ اپنی وادی سون سکیسر سے نکل کر ترقی کی منازل طے کرنے کے گُر بھی بتائے۔ پندرہ منٹ کی ہیپناٹزم کی مشق بھی خوب کرائی۔ زندگی میں ہمارا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اور تو کچھ ملا یا نہ ملا تھکاوٹ خوب رفع بلکہ دفع ہوئی۔

7:54 پر سر ظفراقبال مغل نے ثاقب ملک کی خواہش پر مائیک و ڈائس سنبھالا اور پروفیسر سر ہمایوں احسان کو نہایت احسان مندی اور ممنونانہ انداز میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تقریر کے چبوترے پر بُلایا۔

7:58 منٹس پر سر ہمایوں احسان نے اس تمام خراجِ تحسین کو کمال عاجزی کے ساتھ چبوترے اور شرکا کے ذہنوں سے دُور پھینک کر اپنی شاندار گفتگو کا آغاز کردیا۔

کیا ہی شاندار گفتگو تھی۔ سچائی کا راستہ سچائی ہے۔ سچائی کا راستہ راستوں کی سچائی ہے۔ سچائی سے ہٹ کر سچائی نہیں پہنچا جاسکتا۔

مزید کہا کہ آپ نے، ہم نے اس قوم کو اُٹھانا ہے۔ معاشرہ سچائی کے بغیر کھڑا نہیں ہوسکتا۔۔۔ سچائی، کلچر آف ہارڈ ورک، ورک ایتھکس، حقیقت پسندی کی کمی، تہذیب، قانون، انصاف کی عادت، فنکشنلی جگہ ڈھونڈیے، وغیرہ وغیرہ پر خوب بات کی۔ دِل و دماغ کے بند دریچے کھولنے کا خوب سامان مہیا کیا۔ ہر دلعزیز و مشہور اشعار کے بخیے پہلی بار سر ہمایوں احسان کی زبان سے اُدھڑتے دیکھے۔

سوال و جواب میں مزید وضاحت ملی۔

seek-seminar-10-urdutribe

9:00 بجے رات رعایت اللہ فاروقی صاحب نے عسکریت پسندی کو خوب لتاڑا، بلکہ اِس کی دُرگت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اُن کا کہنا تھاکہ عسکریت ہلاکت خیزی ہے۔

انٹیلی جنیس ایجنسیوں کے کردار پر خوب سے زیادہ روشنی ڈالی۔ ایم آئی سِکس کا نام لیا تو میرے ذہن میں نواب آف کالاباغ سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان کی جیپ یاد آگئی جس کانمبر بھی ایم آئی سکس تھا اور وہ جیپ آج بھی کالاباغ میں نواب خاندان کے زیرِ استعمال ہے۔ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے کردار پر بھی بات کی۔ آئی ایس آئی کی باقی ایجنسیوں سے انفرادیت بھی بتائی۔ عسکریت پسندی سے نجات کا نسخہ کیمیا بھی بیان کیا۔

اس دوران عامر کاکازئی اور الطاف حسین رندھاوا (سانگھڑ سندھ) نے اپنے اپنے علاقے کی چادریں ثاقب ملک کے کندھوں پر ڈالیں۔ زندہ انسان پر چادریں چڑھانے کا یہ نظارہ بہت خوش دِید لگا۔ ثاقب ملک کی خوشی بھی دیدنی تھی۔

وقفہ ڈنر میں ڈنر بھی خوب چلا۔ کیا ہی اچھے اچھے کھانے اور وہ بھی وافر مقدار میں پیش کیے گئے۔ ہاضمہ کے لیے سبز چائے کا بھی انتظام تھا۔

10:24 پر سیک کے روح رواں میزبان و مہمان معروف کالم نگار، سچے، سُچے اور کھرے انسان سر عامر ہاشم خاکوانی نے خاک سے اُٹھ کر فرش و سنگ مرمر تک اپنے پہنچنے کی داستان پیش کی۔ قسمت، مواقع اور محنت کو اس کے اسباب قرار دیا۔ احمد پور شرقیہ کی اپنی خاک کا ذکر کیا۔ نئے لکھاریوں کی راہنمائی کرتے ہوئے کہاکہ زبان پر کنٹرول، ناول، فنکشن، شاعری، ادب، عالمی ادب کا مطالعہ، خیالات میں گہرائی اور رائے پہ نظرثانی کی ترغیب دی۔ سر عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی پُرمغز باتیں اتنی ہوتی ہیں کہ سمٹتے سمٹتے ہی سمٹتی ہیں۔ جیسے ہمارے عظیم اُستاد وائس چانسلر سوات یونیورسٹی شہید ڈاکٹر محمد فاروق خان اپنی پیاری باتیں سمیٹتے سمیٹتے ہی سمیٹ پاتے تھے۔

seek-seminar-11-urdutribe

11:00 بجے نوجوان اور پُرزور و پُرجوش سوال پسند فرنود عالم کو بات کرنے کا موقع مل ہی گیا۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں اسے معاشرے کے لیے ایک نکڑ کا، ایک تھڑے کا، ایک بیٹھک کا اضافہ سمجھتاہوں۔ جہاں ہر بندے کواپنی بات کہنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ سوال کی آزادی دینا ہوگی۔ سوال جب اُٹھ جائے تو اُس کو دبانے سے سوال ختم نہیں ہوسکتا۔ سوال صرف جواب ہی سے بیٹھ سکتا ہے۔ سوال ہر چیز پر پیدا ہوسکتا ہے۔ چاہے وہ خدا ہی کی ذات کیوں نہ ہو۔ جناب عامر ہاشم خاکوانی نے اپنے بیان میں اس کا جواب یہ دیا کہ ہر چیز پر سوال نہیں اُٹھایا جاسکتا۔ کئی چیزیں اتنی محکم اور روزِروشن کی طرح عیاں ہوتی ہیں کہ اُن پر سوال کرنا ہی مضحکہ خیز بات ہوگی۔ فرنود عالم نے کہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ کے استعمال کے لیے قانون سے زیادہ اخلاقی مسئلہ کے تناظر میں دیکھا جائے۔ فرنود عالم نے پہلے مقررین کی طویل تقاریر کے مقابلے میں اپنی بات چیلنج کے طور پر بروقت مکمل کی۔ مختصر اور جامع بات کرنا بھی ایک اعزاز کی بات ہے۔

11:23 پر جناب سجاد خالد صاحب کو ایک نہایت ہی اہم اور لمحہ موجود کا ایک مسئلہ پر گفتگو کا موقع ملا۔ موضوع تھا ”اسلامی جمالیات“ جسے سجاد خالد نے مذہبی جمالیات میں تبدیل کرکے بیان کیا۔ شرکا کی تھکاوٹ اور وقت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بات کو نہایت مختصر کردیا۔ گو جتنا بولے بہت اچھا اور نپی تُلی بات کی۔ بہت زبردست باتوں کی طرف توجہ دلائی۔ تصاویر اور خطاطی، نعت، آیات وغیرہ پر کئے گئے کام وغیرہ پر بہت خوب بات رہی۔ اس موضوع پر سر سجاد خالد کو مختصر نہیں مزید بات کرنا چاہیے تھی مگر بے وقت کی راگنی کے خوف سے بات مختصر ہی کی۔

11:35 پر ایک دفعہ پھر ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کو بلایا گیا۔ سوشل میڈیااور پاکستان پر بات کی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہاکہ جو چیز منفی چلتی ہے وہ کبھی نہیں بنتی۔ پاکستان اور ہندوستان کے مسائل پر بہت اہم زاویے سے بات کی۔ جس کا پہلے کبھی پڑھنے سُننے کو مجھے کم ازکم موقع نہیں ملا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک نوزائیدہ مملکت ہے جبکہ ہندوستان تو پہلے سے بنا بنایا تھا۔ اس لیے نوزائیدہ ملک کو اپنی بقا کے لیے زیادہ جدوجہد اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

seek-seminar-01-urdutribe

11:50 پہ مقررین کے ایک گلدستہ کو چبوترے پر پڑے گلدستوں اور مائیکس کے سامنے بٹھا دیاگیا۔ جن میں محترمہ رامش فاطمہ، فرنود عالم، عامر کاکازئی، کرامت بھٹی، ژان سارتر، عامر ہاشم خاکوانی، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش اور درمیان میں ثاقب ملک کو سر ظفراقبال مغل نے براجمان کردیا۔ موضوع تھا ”قوموں کا عروج و زوال۔۔۔“

پروفیسر سر ہمایوں احسان صاحب کے لیکچر کے بعد اس موضوع پر گفتگو کرنا بنتا بالکل نہیں تھا، مگر پہلے سے طے شدہ ہونے کے لیے یہ مرحلہ بھی طے کرنا پڑا۔ کوئی سیر حاصل بات نہ ہوسکی۔ وقت کی کمی کی وجہ سے بات کی وضاحت کی جاسکی اور نہ بات کو سمیٹا جاسکا۔

اس پروگرام کے دوران اور اختتام پر مقررین کو سیک کی طرف سے شیلڈز پیش کی جاتی رہیں۔

12:30 بجے پروگرام کا اختتام ہوا۔ سر وجاہت مسعود اور سر یدِبیضا کی طرف سے پروگرام میں شرکت کا آخری وقت تک کیا جاتے رہنے والا وعدہ البتہ پورا نہ ہوسکا۔ پتا نہیں ہمارے ان معززلکھاریوں کو کیا معاملہ پیش آیا کہ وہ شرکت نہ کرسکے۔ ان سے تو شیخیاں بگھارنے والے پنڈی والے شیخ بھی چنگے اور وعدہ وفا نکلے کہ پولیس کے سخت پہرے کے باوجود لال حویلی میں پہنچ کر اپنا وعدہ پورا کردکھایا۔

پروگرام کے اختتام پر کرسٹل ہال کے باہر سر عامر ہاشم خاکوانی صاحب سے ہلکی پھلکی بات چیت ہوئی۔

seek-seminar-05-urdutribe

ثاقب ملک نے تھری پِیس سوٹ کا بوجھ بھی پروگرام کے بوجھ کے ساتھ ہی اُتارا اور شلوار قمیص میں دیسی بابو بن کر مزید اپنے اپنے سے لگنے لگے۔ ہمیں رات ایک بہت اچھے ہوٹل میں قیام کے لیے پہنچایا اور خود محسن نامی ایک دوست کے ہاں رات بسر کرنے کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہوٹل میں صبح ناشتہ تک کا انتظام کرکے گئے۔ بلکہ فلٹیز ہوٹل کا پیک شدہ تین چار قسم کے کھانے بھی دیتے گئے۔

جس مقصد کے لیے یہ پروگرام تشکیل دیاگیا، میری نظر میں یہ کامیاب رہا۔ نئے دوست بھی بنے۔ جن میں ضیاء بگھوی سرگودھا سے اور الطاف حسین رندھاوا سانگھڑ سندھ سے قابلِ ذکر ہیں۔ الطاف حسین رندھاوا صاحب سے تو ہوٹل میں روم میٹی کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ اپنی روایت کے مطابق جاتے جاتے سندھی اجرک کا تحفہ بھی میرے گلے میں ڈالنا نہ بھولے۔ ثاقب ملک بھائی کے چھوٹے بھائی دانش سے بھی کچھ دیر کے لیے باہم کلامی ہوئی۔ ماشاء اللہ جذبے والے نوجوان ہیں۔ حماد بلوچ بھائی کا بلوچ پن بھی دیکھنے اور سُننے کو ملا۔

اس تقریب میں بہت کچھ کہا گیا، سُنا سنایا گیا مگر ہماری محدود کھوپڑی میں جو کچھ سماسکا وہ لکھ دیا۔ باقی تفصیل اور تقریب کا نچوڑ تو ثاقب ملک خود ہی شیئر کریں گے۔ جس کا ہمیں انتظار رہے گا۔

سر ہمایوں احسان کو بندہ ناچیز کی طرف سے نواب آف کالاباغ کی سوانح حیات پیش کرنے اور اپنے کمرے میں سر ظفراقبال مغل کے ہاتھوں تصویر بنوانے کی سعادت بھی میسر آئی۔ باقی تو مجھے لگتاہے کہ کیمرہ مینوں کے جھرمٹ کی ہماری طرف نظر نہیں پڑی ورنہ وہ بھی ہماری کچھ تصاویر بنالیتے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں