”شور“، جسم اور ذہن پر بدترین اثرات ڈالنے والا عنصر

آپ کے ذہن میں عیش کا تصور کیا ہے؟ ایک خوبصورت ساحل جہاں اور کوئی نہ ہو؟ یا بقول شاعر ”دامن میں کوہ کے ایک چھوٹا سا جھونپڑا ہو“؟ ان دونوں میں ایک قدر مشترک ہے، دونوں مقامات شہر کی ہنگامہ خیزی سے دور ہیں۔

آج کی دنیا میں جہاں واشنگ مشین بھی شور مچاتی ہے، ٹریفک چنگھاڑتا ہے، گاڑیوں کے ہارن سے دماغ پھٹتا ہے، ریل گاڑی کی آواز ہلا کر رکھ دیتی ہے اور جو کسر رہ گئی ہے وہ موبائل فونز نے پوری کردی ہے۔ یہاں عیش کا سب سے بڑا تصور خاموشی بن گیا ہے۔

خاموشی اب اتنی اہم ہو چکی ہے کہ اس موضوع پر ایک نئی فلم بھی آ گئی ہے جس کا نام 'خاموشی کے تعاقب میں' ہے اور موضوع سکون کے ساتھ ہمارا تعلق اور شور کے ہماری زندگی پر اثرات ہے۔ حقیقت میں شور واقعی ہماری صحت پر اثرات ڈالتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق شور کی آلودگی عوام کی صحت کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے، بلکہ فضائی آلودگی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس میں ذہنی تناؤ سے لے کر نیند کے مسائل اور دل کے مسائل سے لے کر دورے تک شامل ہیں۔

اب تو خاموش گاڑیوں سے لے کر خاموش گھریلو مصنوعات تک آ رہی ہیں اور 2014ء سے اب تک برطانیہ میں خاموش مصنوعات کی قیمت میں 78 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی جسم شور کے جواب میں ردعمل دکھاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے ممکنہ خطرے کے شور کے بعد انسان فیصلہ کرتا تھا کہ اسے بھاگ جانا ہے یا لڑنا ہے۔ ایسی کسی بھی صورت حال میں اس کے جسم میں ایک کیمیائی مادہ نکلتا ہے جسے ”ڈوپامائن“ کہتے ہیں۔ یہ خبردار رکھتا ہے پھر اینڈرینالین اور نوریڈرینالین جیسے تناؤ والے ہارمونز ہیں، جو بھاگنے یا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرواتے ہیں۔ لیکن اگر شور جاری رہے تو جسم سے کورٹیسول خارج ہونا شروع ہو جاتا ہے جو تناؤ ہی کا ایک ہارمون ہے لیکن ہماری صحت پر انتہائی منفی اثرات رکھتا ہے۔ اگر جسم میں کورٹیسول کی مقدار زیادہ ہو تو اس سے پیٹ کے امراض، نیند کے مسائل، سر درد، بانجھ پن اور بلڈ پریشر میں اضافے جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ مستقل شور کی وجہ سے انسان کا جسم مستقل چوکنا رہتا ہے اور یہ صحت کے لیے بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ مسلسل شور کی زد میں رہنے سے بلڈ پریشر میں اضافہ دل کا دورے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

کم از کم 20 ایسی تحقیق ہیں جو بتاتی ہیں کہ جو بچے ہوائی جہاز یا ٹریفک کے شور کی زد میں رہتے ہیں وہ دیگر بچوں کے مقابلے میں پڑھنے اور چیزوں کو یاد رکھنے میں کمزور ہوتے ہیں۔

بنگلا دیش میں ہندو- مسلم فسادات کا خطرہ
سعودی اخبار ”عرب نیوز“ کے مطابق بنگلا دیشی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے وسطی علاقوں میں توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹ پر غم و غصے کے شکار مسلمانوں نے مندروں پر حملے شروع کر دیے ہیں اور اس کے نتیجے میں ملک میں فسادات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

سعودی اخبار کے مطابق پولیس نے پرتشدد واقعات میں حصہ لینے والے 15 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ پر تشدد واقعات سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کی وجہ سے، جس میں ہندو دیوتا، شیو کی تصویر مسلمانوں کے مقدس ترین مقام، خانہ کعبہ کی تصویر پر لگائی گئی تھی، رونما ہوئے۔

بنگلا دیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ جب یہ توہین آمیز پوسٹ بنگلادیش کے مسلم اکثریتی علاقوں میں پھیلی، تو سیکڑوں مسلمان شدید غصے کی حالت میں ڈھاکا کے مشرق میں مقیم ہندو آبادیوں میںداخل ہو گئے۔

مقامی پولیس کے مطابق، مشتعل افراد نے ایک سو گھروں اور پانچ مندروں میں لوٹ مار کی۔ اس دوران بعض افراد نے اس 27 سالہ شخص کو بھی پکڑ لیا کہ جس پر یہ توہین آمیز تصویر پوسٹ کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، پولیس ابھی تک اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ تصویر اسی شخص نے شیئر کی ہے یا کسی اور نے۔

ہندو، مسلم فسادات کے خطرے کے پیشِ نظر ڈھاکا کے مشرق میں 150کلومیٹر کے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں اور بنگلادیش پیرا ملٹری بارڈر گارڈز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اگر چہ بنگلادیشی حکومت انتہا پسند مسلمانوں کی جانب سے ملک میں موجود مذہبی اقلیتوں اور ملحدوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، بنگلادیش میں مختلف مذہبی طبقات کے دوران تصادم کے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں