”برطانوی راج“ تو ختم ہوگیا، ”انگریزی راج“ برقرار ہے

پاک و ہند میں برطانوی راج کے خاتمے کو 70 سال بیت چکے ہیں لیکن انگریزی بولنے والے طبقے کی حکمرانی آج بھی برقرار ہے۔ ایک اردو، ہندی کا کوئی بھی مقامی زبان بولنے والے سنجیدہ اور باشعور شہری کو وہ مرتبہ اور اہمیت حاصل نہیں ہے، جو انگریزی بولنے والے ایک بے وقوف کو مل جاتا ہے۔ یہ انگریزی ہی کی ”برکتیں“ ہیں کہ آپ ہر جگہ خود پر ایک ”نمونہ“ مسلط دیکھتے ہیں، چاہے وہ دفتر ہو یا ملک۔

پاکستان ہو یا ہندوستان، یہاں انگریزی ایک زبان نہیں بلکہ ایک کلاس ہے اور غلط کلاس یعنی طبقے میں موجودگی کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟ یہ سب جانتے ہیں۔ بالی ووڈ کے ایک مشہور اداکار کو محض اس لیے کئی بار انڈسٹری میں داخل ہونے کا موقع نہیں مل سکا کہ انہیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ ایسی مثالیں ایک، دو نہیں بلکہ درجنوں ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کو ہندی فلم انڈسٹری میں کام کرنا ہو اور آپ کو سرے سے ہندی نہ آتی ہو، تب آپ کو ہندی سکھانے کا جھنجھٹ پال لیا جائے گا لیکن کسی کو اگر اچھی ہندی آتی ہے تو اسے صرف اس کی بنیاد پر ہرگز جگہ نہیں ملے گی۔

دراصل برصغیر میں اشرافیہ کی زبان کا تصور نیا نہیں ہے۔ قدیم زمانے میں سنسکرت کو یہ مقام حاصل تھا اور پھر فارسی کو ملا۔ آدھے سے زیادہ ہندوستان اردو بولتا تھا اور سرکاری زبان فارسی تھی۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کثیر اللسانی ملک ہیں، انہیں ہمیشہ ایک مشترکہ زبان کی ضرورت رہے گی جو ملک کے طول و عرض میں بولی اور سمجھی جائے لیکن ایک ایسی ”مشترکہ زبان“ جو غلامی کے دور کی یادیں ہی تازہ نہ کرے بلکہ ایک علم اور جہالت کے درمیان ایک لکیر بھی سمجھی جائے، ناقابل فہم ہے۔

ایک بڑی جامعہ سے اردو یا ہندی میں سند حاصل کرنا ایسا ہے جیسا بندہ تعلیم کے ذریعے خود کو دھوکا دے۔ انگریزی ایک طاقتور زبان ہے اور ہر شعبہ زندگی میں یہی ”قابلیت“ سب پر بھاری ہے، گویا یہ زبانوں کی زرداری ہے۔

مقامی زبان میں بہترین تعلیم بھی ایک ٹیچر یا سرکاری دفتر میں کلرک کی نوکری سے زیادہ کچھ نہیں دلا سکتی۔ یہ ”زبان کے قیدی“ ہیں کیونکہ یہ غلامی کے دور کی زبان نہیں جانتے۔

ہماری دو تین نسلیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کی انگریزی پر بہت دھیان دیا ہے۔ وہ رابندر ناتھ ٹیگور، منشی پریم چند اور علامہ اقبال کی طرح دو، تین زبانیں کیا سیکھتے، مادری زبان سے بھی چلے گئے۔ جو کام صدیوں تک کوئی غیر ملکی اور دوسرے مذہب کا حاکم نہ کر سکا، یہاں تک کہ خود انگریزی کے دور میں ایسا نہ ہو سکا، وہ کام ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے کردیا، یعنی

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں