والدین نے بھی ہوم ورک کے خلاف ہڑتال کر ڈالی

بچے تو ہمیشہ زیادہ ہوم ورک کی شکایت کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اسپین میں تو والدین بھی اب بچوں کے ساتھ مل گئے ہیں اور فیصلہ کیا ہے کہ پورا نومبر اسکول کے خلاف ہڑتال کریں گے۔

ملک بھر کے 12 ہزار اسکولوں کا احاطہ کرنے والے نیٹ اسپینش الائنس آف پیرنٹس ایسوسی ایشن (CEAPA) نے کہا ہے کہ ان کی ہڑتال پرائمری اور ہائی اسکولوں کے طالب علموں کو اختتام ہفتہ (ویک اینڈ) پر ملنے والے کام کے خلاف ہوگی۔ صدر ہوزے لوئس پازوس نے کہا کہ یہ غیر معمولی قدم اٹھانے کا مقصد اس بات پر یقین ہے کہ ہوم ورک کا بوجھ بچوں کی غیر نصابی نشوونما کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

2012ء کی پیسا ایجوکیشن رپورٹ برائے آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے مطابق اسپین روس، اٹلی، آئرلینڈ اور پولینڈ کے بعد بچوں کو سب سے زیادہ ہوم ورک دینے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہ جائزہ کل 38 ممالک کا کیا گیا تھا جن میں بچوں کو اوسطاً 4.9 گھنٹے فی ہفتہ کا ہوم ورک ملتا تھا لیکن اسپین میں یہ شرح 6.5 گھنٹے تھی۔

اس بوجھ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچوں کے نتائج اچھے آتے ہیں، کیونکہ پیسا رپورٹ ہسپانوی بچوں کو ریاضی، مطالعے اور سائنس میں روایتی طور پر کمزور بتاتی ہے۔

اس کے مقابلے میں فن لینڈ اور جنوبی کوریا کہ جو اس رپورٹ کے مطابق طلبہ کی بہترین کارکردگی رکھتے ہیں، میں ہر ہفتے دیے گئے ہوم ورک کا اوسط وقت تین گھنٹے سے بھی کم ہے۔

پازوس نے کہا کہ اسپین میں اب بھی تعلیم انتہائی روایتی انداز میں دی جا رہی ہے، جس میں رٹا لگانا تک شامل ہے۔ ہم نے بچوں کو سمجھانا ہے کہ رٹا لگانا سب کچھ نہیں بلکہ معلومات حاصل کرنا اور اسے منظم کرنا زیادہ اہم کام ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں