سارا سال دھوپ، لیکن سولر پاور انڈسٹری بے حال

انویسٹمنٹ بینکنگ میں 30 سال سے زیادہ گزارنے کے بعد ہشام توفیق کو اعتماد تھا کہ وہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مصر کے سب سے بڑے ایسیٹ مینجمنٹ فنڈز میں سے ایک کی قیادت کی اور مصری ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین میں سے ایک کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2011ء میں جب آمر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کی تحریک کامیاب ہوئی اور معاشی بدحالی کے دور کا آغاز ہوا، تب بھی توفیق کو ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔

جب 2014ء میں بجلی بنانے کے جدید ذرائع میں دلچسپی پیدا ہوئی تو توفیق نے اسے ایک اہم موقع سمجھا، ایک ایسے ملک میں جہاں دھوپ کی کمی نہیں وہ شمسی توانائی لانے کے لیے کوشاں ہوگئے۔ شعبہ تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوتے ہوئے انہوں نے بینک کے معاملات روکے اور کینیڈا میں ایک ٹیکنیکل ورکشاپ میں داخل ہوگئے۔ واپس آ کر انہوں نے 'قاہرہ سولر' کے نام سے ایک کمپنی بنائی جس میں پانچ ملازمین رکھے، قاہرہ کے نئے شہر میں دفتر کھولا اور سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا۔

ابتدائی سال میں بہت تیزی کے ساتھ چیزیں تبدیل ہوئیں اور انہیں ہمیشہ کی طرح بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے وزیر بجلی و توانائی محمد شاکر سے ملاقات کی اور ان کی زبردست دلچسپی دیکھی۔ حکومت نے نجی شعبے کو 4.3 گیگاواٹ بجلی شمسی و ہوا کے ذریعے پیدا کرنے کے لیے مدعو کیا۔ توفیق نے بولی لگائی اور جنوری 2015ء میں 50 میگاواٹ کے سولر پلانٹ کی تعمیر کا معاہدہ کرلیا۔ حکومت کی جانب سے بجلی پیدا کرنے والوں کو دیے گئے پرکشش نرخ اور جنوبی مصر میں سال بھر کھل کر دھوپ نکلنے کی وجہ سے سرمایہ کار مطمئن اور خوش تھے لیکن اس سال مئی میں مصر کے صحراؤں میں سولر پینل لگانے والے ان اداروں کے خواب یکدم چکناچور ہوگئے۔

2015ء کے اواخر اور رواں سال کے اوائل میں وزارت بجلی و توانائی نے اس شق کو معاہدے کی شرائط میں ایک مرتبہ پھر شامل کردیا جو پہلے نکال دی گئی تھی کہ تمام تنازعات مقامی ثالثی کے ذریعے حل ہوں گے۔ قاہرہ سولر اور دیگر 45 اداروں کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد حاصل تھی جن کا زور تھا کہ تمام معاملات بیرون ملک ان کے ساتھ حل ہوں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قاہرہ سولر کا منصوبے کے تحت ایک منصوبہ بھی مکمل نہیں ہوا۔

اپنے دفتر میں بیٹھے توفیق کہتے ہیں کہ ”ہمیں بے وقوف بنایا گیا۔“ ان کا 6 لاکھ 75 ہزار ڈالرز کا نقصان ہوا اور وزارت کے ساتھ معاہدہ ختم کرکے انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ کبھی ان کے ساتھ کاروبار نہیں کریں گے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زیادہ نقصان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی نظر میں مصر کی ساکھ کو پہنچا ہے، وہ بھی اس وقت جب حالات اچھے نہیں تھے اور توانائی حاصل کرنے کے جدید ذرائع سے بجلی کا حصول کم تھا۔ ان کے علاوہ دیگر سولر کمپنیاں بھی جلد اپنے منصوبے ختم کر دیں گی۔ ”کوئی بھی عقل و شعور رکھنے والا ان نئی شرائط کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ہمارے بڑے منصوبے اب ختم ہو چکے ہیں۔“

ایک ایسے وقت میں جب بجلی بنانے کے لیے روایتی ایندھن کا استعمال دنیا بھر میں کم ہوا ہے۔ تیل اور کوئلے جیسے ایندھن 1960ء میں دنیا کی 94 فیصد بجلی پیدا کرتے تھے اور 2013ء میں یہ تعداد 81 فیصد تک آگئی ہے لیکن مصر میں 1971ء سے 2013ء کے دوران یہ تعداد 86 سے 96 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کی خاص وجہ بجلی کی پیداوار میں اسوان ڈیم کا حصہ کم ہونا ہے جو آبادی بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔

یہ وجہ ہے کہ مصر میں شمسی و ہوائی توانائی کا بہت امکان ہے، یہاں تک کہ اس کا مارکیٹ حصہ 2050ء تک دوگنا ہوسکتا ہے لیکن تیل و قدرتی گیس پر انحصار کرنے والا مصر اب مزید گہری کھائی میں جائے گا۔ سبسڈیز کی وجہ سے مصر میں تیل و گیس کی قیمت عموماً کم ہوتی تھی، لیکن جدید تاریخ کی پہلی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد آمر عبد الفتح السیسی نے 2014ء میں بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے سبسڈیز کو کم کردیا۔ یوں مہنگی ہوتی گیس سے بچنے کے لیے سرمایہ کاروں نے مزید خطرناک راستہ اختیار کیا۔ سیمنٹ فیکٹریوں نے اس کوئلے کو اپنی بھٹیوں کا ایندھن بنایا جو بہت تیزی سے دنیا بھر میں اپنا اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ اب ملک کے نصف سے زیادہ سیمنٹ کارخانے کوئلے سے چل رہے ہیں۔ ایک ایسے مرحلے پر جب حکومتی اقدامات سے شمسی و ہوائی بجلی کا راستہ رک رہا ہے، کوئلے کے استعمال میں اضافہ گویا زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں