ٹرمپ کے صدر بننے پر عالمی ردعمل

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب نے جہاں دنیا بھر میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی ہے، وہیں پر ایسے بھی موجود ہیں جو اس پر جشن منارہے ہیں۔ صرف ری پبلکن پارٹی کے اراکین اور ووٹ دینے والے ہی نہیں بلکہ ایسے بھی جنہیں 'غیروں کی شادی میں عبد اللہ دیوانہ' کہنا زیادہ مناسب ہوگا جیسا کہ بھارتی۔

ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے پر جہاں روس کے صدر ولادیمر پیوتن نے خیرمقدمی پیغام دیا ہے اور وہیں پر میکسیکو میں افراتفری ہے کہ جسے اپنی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ نے مجرموں اور زانیوں کی سرزمین کہا تھا۔ میکسیکو کے ایک تجزیہ کار الیہاندرو ہوپ کے مطابق میکسیکو میں یہ ہنگامی صورت حال کے مترادف ہے کہ جس کا سامنا گزشتہ دہائیوں میں نہیں کرنا پڑا۔ اگر میکسیکن باشندوں کو بڑے پیمانے پر امریکا سے بے دخل کیا جاتا ہے تو اس کا دباؤ میکسیکو کی معیشت پر پڑے گا۔

ٹرمپ نے مہم کے دوران نیٹو اتحاد پر کڑی تنقید کی تھی، جس نے یورپ میں خاصی ناراضگی پیدا کی تھی جو امریکا کا اہم اتحادی ہے اور اس وقت روس کے بڑھتے ہوئے قدموں کی وجہ سے پریشان ہے۔ اس لیے ان کے صدر بننے پر یورپ کا پریشان ہونا فطری امر ہے۔ جرمن وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یہ ”بہت بڑا صدمہ ہے اور واشنگٹن کے خلاف اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ ہے۔“ لیکن یورپ بھر میں پھیلی دائیں بازو کی تنظیموں نے ٹرمپ کے جیتنے کا خیرمقدم کیا ہے جیسا کہ فرانس کی مشہور مہاجر مخالف سیاست دان میرین لی پین نے ٹوئٹ کیا ہے ”امریکی عوام، آزاد!۔

آئرلینڈ، جہاں امریکا کے کئی بڑے ادارے ٹیکس بچت کے لیے موجود ہیں، ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے پر پریشان دکھائی دیتا ہے اور اس کا اظہار واضح طور پر ذرائع ابلاغ میں ہوا ہے۔ آئرش ٹائمز کے ایک کالم میں لکھا گیا ہے کہ ”واشنگٹن، جیفرسن، لنکن اور روزویلٹ کی جمہوریہ اب یونائیٹڈ ہیٹس آف امریکا بن گئی ہے۔“

برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مے نے کہا ہے کہ ان کی نظریں ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل المیعاد اور خصوصی تعاون جاری رکھنے پر ہیں۔ ان کے پیشرو ڈیوڈ کیمرون صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ کے کڑے ناقد تھے اور یورپی یونین سے اخراج کے بھی مخالف تھے، جس پر انہیں بعد میں عہدہ بھی چھوڑنا پڑا۔ یعنی اب برطانیہ اور امریکا ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہو گئے ہیں۔

چین میں بھی ٹرمپ کے انتخاب پر خوشی کا اظہار ہورہا ہےکیونکہ چین کی نئی خارجہ پالیسی کی راہ میں ٹرمپ روڑے اٹکاتے نہیں دکھائی دے رہے جبکہ ان سے پہلے ڈیموکریٹس حکومتوں کو پرائے جھگڑے مول لینے کا بڑا شوق تھا۔ کم از کم ٹرمپ نے مہم کے دوران تو ایسا ہی کہا ہے کہ ان کی ترجیح امریکا ہوگی، اور اگر انہوں نے آگے بھی ایسا ہی کیا تو یہ چین کے لیے نیک شگون ہوگا۔

ٹرمپ کے انتخاب نے جس ملک کے 'ہنی مون پیریڈ' کا خاتمہ کیا ہے وہ کیوبا ہے۔ 50 سے زیادہ سالوں تک سرد جنگ اور اس کے بعد سرد مہری کا نشانہ بننے کے بعد جیسے ہی امریکا اور کیوبا کے حالات معمول پر آنے لگے، کیوبا سیاحت سے فائدہ بھی اٹھانے لگا، ٹرمپ صدر بن گئے کہ جو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جب تک فیڈل کاسترو سیاسی آزادیاں نہیں دیں گے امریکا اوباما حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات واپس لیتا رہے گا۔

پاکستان کا کیا ہوگا؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن شاید پاکستان ہی نے سب سے پہلے اس حالت کا ادراک کرلیا تھا کہ امریکا کا سنگھاسن اب ڈول رہا ہے اس لیے اس نے اپنا وزن چین کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت امریکا کے بجائے چین پاکستان کو اسلحہ برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور روس کے ساتھ تعلقات استوار ہونے سے بھی حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں