امریکی مسلمان سخت پریشانی کے عالم میں

امریکی مسلمان اب صدمے میں، خوف کے سائے تلے اور ممکنہ تعصب سے نمٹنے کے عزم کے ساتھ آیندہ زندگی گزار سکیں گے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر بن گئے ہیں۔ وہی شخص کہ جس نے اپنی صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگادے گا۔

عرب سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر خلیل جشن نے کہا کہ ”امریکا کا ہر شخص اب جانتا ہےکہ اب وہ گزشتہ کل جیسا امریکا نہیں رہا۔ ہمارے لیے یہ سفید فاموں کی غیر معمولی بغاوت ہے۔ ہمارے لیے یہ ایک خوفناک و ناگہانی حملہ ہے۔“

آج امریکا ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں مسلمان اور دیگر تارکین وطن کو خطرہ ہے کہ اب ان کا خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔

”میرے پاس الفاظ نہیں۔ میں سخت صدمے میں ہوں۔ میں نے اپنے بھیانک ترین خوابوں میں بھی یہ نہیں سوچا تھا۔“ یہ امریکا کے مشہور امام یاسر قاضی کے الفاظ تھے کہ جو سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہیں اور ایک ملین سے زیادہ فالوورز رکھتے ہیں۔

مسلمان عموماً شراب نہیں پیتے لیکن ایک سابق امریکی سفیر آصف چودھری نے ازراہ مذاق کہا کہ ”رات سونے سے پہلے میرے آخری الفاظ تھے کہ شاید یہ میری زندگی کا آخری دن کہ جب میں نے شراب پینے کے بارے میں سوچا۔“

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم پہلے ہی امریکا میں ریکارڈ سطح کو چھو رہے ہیں۔ کئی مسلمان ٹرمپ کی فتح کے بعد اب پریشان ہیں کہ اب ان نسل پرستوں کو لائسنس مل جائے گا کہ وہ جسے چاہیں ڈرائیں اور دھمکائیں۔ ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران بارہا یہ الفاظ استعمال کیے کہ ”اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے۔“

میمفس میں مقیم یاسر قاضی نے مزید کہا کہ ”مجھے سب سے زیادہ پریشانی اپنی بیوی کی ہے جو حجاب پہنتی ہیں۔ میں نے انہیں کہہ دیا ہے کہ اکیلے کہیں بھی خریداری کے لیے مت جائیں۔ میں نے بچوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بہت محتاط رہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اسکول میں ان کا مذاق اڑایا جائے گا، لیکن یہ صرف طنز طعنے تک ہی محدود رہیں تو بہتر ہے۔“

پرنسٹن یونیورسٹی میں امام صہیب سلطان کہتے ہیں کہ اگر ٹرمپ نے اپنی ہی لگائی ہوئی آگ پر کچھ پانی ڈالنے کی کوشش کی تو بہت زیادہ تشدد نہیں ابھرے گا۔ امریکا اس وقت بہت بہت مشکل مرحلے میں ہے۔ ان کے الفاظ میں ”جن بوتل سے باہر آچکا ہے۔“

ٹولیڈو، اوہائیو کی ایک وکیل شریفہ قادری کہتی ہیں کہ ”مجھے جس چیز کی سب سے زیادہ پریشانی ہے وہ یہ کہ اب لوگوں کو نفرت کرنے اور امتیاز برتنے کا لائسنس مل جائے گا۔“

صحافت کی پروفیسر شاہین پاشا نے انتخابات کی رات کہا تھا کہ ”میں اس وقت تو سونے جا رہا ہوں۔ صبح اٹھوں گا، خبریں دیکھوں گا اور اس کے بعد اپنی بچوں کو سمجھاؤں گا۔ لیکن اس وقت میں اس یقین کے ساتھ بستر میں جارہا ہوں کہ جس ملک میں میں پیدا ہوا وہاں امید کا چراغ روشن رہے گا۔“

مسلمانوں کے علاوہ میکسیکن اور سیاہ فام باشندوں بھی پریشان ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں