نو عمر لڑکیاں تیزی سے ذہنی تناؤ کا شکار ہونے لگیں

دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ دنیا میں نوجوانوں میں ڈپریشن یعنی ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے اور لڑکوں کے مقابلے میں نوعمر لڑکیاں خاص طور پر اس کا نشانہ بن رہی ہیں۔

پیڈیاٹرکس نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں ذہنی تناؤ میں اضافہ اتنا ہوچکا ہے کہ اب والدین، اساتذہ اور معالجین کو تشویش ہونی چاہیے۔ کیونکہ ان رحجانات کی مدد سے ہی بروقت تشخیص اور علاج کی حکمت عملی بنے گی۔

تحقیق میں پایا گیا کہ امریکا میں ہر سال 11 میں سے ایک 1 نوعمر لڑکے یا لڑکی کو ذہنی تناؤ کے سخت مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں اس میں خاصا اضافہ ہوا ہے خاص طور پر 12 سے 20 سال کی عمر کے بچوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ عمر کے اس حصے میں امریکا میں مرنے والے افراد کی موت کی دوسری بڑی خودکشی ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے 2005ء سے 2014ء کے دوران ذہنی تناؤ اور اس کے علاج کے حوالے سے اعدادوشمار کو اکٹھا کیا۔ جس کے دوران انہوں نے 12 سے 17 سال کی عمر کے ایک لاکھ 72 ہزار نوعمر افراد اور 18 سے 25 سال کے ایک لاکھ 79 ہزار نوجوانوں کا جائزہ لیا۔

12 ماہ کے عرصے میں لڑکیوں میں ذہنی تناؤ کو زیادہ دیکھا گیا ہے جو 2005ء میں 13 فیصد تھا اور 2014ء میں 17 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ لڑکوں میں یہ 2005ء میں 4 اور 2014ء میں 6 فیصد پایا گیا۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح تو نہیں ہے کہ لڑکیوں میں ذہنی تناؤ کیوں بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن دیگر تحقیقات کہتی ہیں کہ لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں ذہنی تناؤ اور منفی رویوں کا زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔ برطانیہ میں اگست میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ نے بتایا کہ ایک تہائی برطانوی لڑکیاں اپنی شکل و صورت کے حوالے سے ناخوش ہیں جو پانچ سالوں میں 30 فیصد اضافہ ہے۔

پیڈیاٹرکس میں شائع ہونے والی تحقیق نے موبائل فون کے استعمال کو بھی ذہنی تناؤ میں اضافے کی ایک وجہ بتایا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں