برما کے مسلمان: بے ریاست، بے آسرا، مظلوم و مفرور

اکتوبر کے اوائل سے اب تک برمی فوجکے کریک ڈاؤن میں روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد قتل کی گئی ہے۔ پہلے بدھ انتہا پسندوں کے مظالم سہے اور اب سرکار کے "مرے ہوئے پر سو درّے"، جس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی سرحد کے ساتھ پولیس چوکیوں پر روہنگیا مسلمانوں نے حملے کیے ہیں جس کا جواب اب گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جدید اسلحے کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔ علاقے میں صحافیوں اور آزاد میڈیا کے جانے پر پابندی ہے لیکن انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں مسلمانوں کے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ہیں، ان کا بلا امتیاز قتل کیا جا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات کی شہادتیں بھی ملی ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومانہ تاریخ میں یہ ایک نئے باب کا اضافہ ہے، جو 10 لاکھ کی بڑی تعداد میں برما میں رہتے تھے اور اپنے ہی ملک میں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیے گئے اور ان سے شہریت کا پیدائشی حق تک چھین لیا گیا حالانکہ وہ صدیوں سے اس علاقے کے رہنے والے ہیں۔

یہ بے ریاست لوگ ہیں کہ جنہیں اقوام متحدہ نے دنیا کی مظلوم ترین اقلیتوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں چٹاگانگ کے نواحی علاقوں سے ملتی جلتی بولی بولنے والے روہنگیا سنی مسلمان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بدھ اکثریت کے حامل برما میں انہیں غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے اور "بنگالی" کہا جاتا ہے حالانکہ ان کی نسلیں اسی سرزمین پر پید ہوئی ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت مغربی ریاست اراکان میں رہتے ہیں، لیکن انہیں برماکی شہریت حاصل نہیں اور ان کی نقل و حرکت اور کام کرنے پر خاصی پابندیاں عائد ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 2012ء میں شروع ہونے والے فسادات کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار روہنگیا اراکان سے ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں، اور یہ سفر تمام تر مشکلات کے باوجود اب بھی جاری ہے۔

گزشتہ سال تھائی لینڈ جانے کی کوشش کرنے والے ہزاروں اراکانی مسلمان سمندر میں ڈوب کر جان دے گئے جن کی لاشیں ملائیشیائی سرحد کے ساتھ ساحل پر ملیں۔

اس وقت 3 لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش کے جنوبی ساحلی اضلاع میں مقیم ہیں کہ جو برما کی سرحد کے ساتھ ہیں۔ ان کی اکثریت نے حالیہ دہائیوں میں برما سے ہجرت کی ہے۔

بنگلہ دیش ان کی بہت معمولی تعداد کو مہاجرین سمجھتا ہے اور اکثریت کو سرحد پار نہیں کرنے دی جاتی۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ برما کی رہنما اس وقت نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی ہیں، جنہوں نے اس وقت مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ اپنے دورۂ جاپان میں سوچی نے تشدد کی حالیہ کارروائیوں کی تحقیقات پر تو بات کی لیکن فوج پر تنقید سے گریز کیا۔

برما میں ایک قانون کے ذریعے روہنگیا سمیت دیگر نسلی و مذہبی اقلیتوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ 1982ء میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کے مطابق ملک میں رہنے والی اقلیتوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ 1823ء سے پہلے اس علاقے میں مقیم تھیں، جب اینگلو-برمیز جنگ ہوئی تھی۔ اسی صورت میں انہیں شہریت ملے گی۔

rohingya-muslims

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں