دبئی ویزا فروشوں کی جنت

aakif-azad-urdutribe

عاکف آزاد

”سہانے خواب“ دیکھتے نوجوانوں کے لیے اہم معلومات پر مبنی تحریر


نوجوانوں میں وسیلۂ روزگار اختیار کرنے کا رجحان بہت ہی کم دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ تصور رائج ہے کہ تعلیمی اخراجات والد ین کے ذمہ ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وسیلہ روزگار تلاش کیا جاتا ہے جس میں بڑی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ اس طرح نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روز گار رہ جاتی ہے۔ محنت مشقت سے عاری نوجوانوں کی یہ جماعت جب روزگار کا کوئی وسیلہ نہیں پاتی اور چھوٹے موٹے کام کو اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہے تو مجبوریاں انہیں سہانے خواب دکھاتی ہیں۔ ان خوابوں میں سے ایک بہت ہی سہانا خواب غیر ملکی ملازمتوں کا، ہوائی جہازکے سفر کا، ترقی یافتہ ممالک کی رہائش کا ہوتا ہے۔

بہت سے نوجوان اپنے حصے کا رزق تلاش کرنے کےلیے ملک سے باہر جاتے ہیں۔ باہر جاکر محنت کا عزم رکھنے والوں کے لیے خلیجی ممالک سونے کی کان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن میں بحرین، قطر، یو اے ای اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ ہمارا نوجوان اپنا سارا سرمایہ خلیجی ممالک کے ویزے کے لیے قربان کرکے راتوں رات امیر ہونے اور لاکھوں کمانے کے خواب آنکھوں میں سجالیتا ہے۔ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، یہ الگ موضوع ہے۔ یقیناً بہت سے لوگ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں لیکن جو ناکام ہوتے ہیں، انہیں کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے اس کی روداد کچھ یوں ہے۔

متحدہ عرب امارات جو اس وقت کی بڑی معاشی منڈی ہے۔ جہاں لاکھوں لوگوں کی کھپت ہے۔ یہاں کے ویزے آسانی سے مل جاتے ہیں۔ لیکن عرب امارات میں خاص طور پر دبئی کا ویزا بہت آسانی سے مل جاتا ہے۔ دبئی کے قوانین کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں ملازمین کی اتنی گنجائش ہے کہ ساری دنیا اس میں سما جائے۔

دبئی کے قوانین کچھ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کی سرکاری فیس ادا کردیتے ہیں تو آپ مکمل آزاد ہیں، جو چاہیں جیسے چاہیں کریں۔ چنانچہ اگر آپ دبئی کے لیے اپلائی کریں گے تو آپ کو تین چار مرحلوں تک ایجنٹوں سے واسطہ پڑے گا۔ اگر آپ آن لائن اپلائی کرتے ہیں تو ان کی فیس ادا کرکےانٹرویو دیجیے۔ فیس اداکر کے سکلز کا ٹیسٹ دیجیے۔ فیس ادا کرکے ریکویسٹ/ ا یپلیکشن فارورڈ کیجیے۔ پھر فیس ادا کرکے ہائرنگ اتھارٹی کو انٹرویو دیجیے۔

بعد میں پتا چلتا ہے کہ یہ ہائرنگ اتھارٹی بھی مڈل مین قسم کی پارٹی ہے۔ اس طرح آپ بکتے بکتے کمپنی کے پاس پہنچتے ہیں۔ آپ کا سرمایہ دلالوں کے ہاتھ میں پہنچ چکا ہوتا ہے اور آپ خالی ہاتھ ہوتے ہیں۔ اب کمپنی آپ کے سر پردست شفقت رکھتی ہے کہ آپ سے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ آپ محنت مزدوری کرکے تھوڑا تھوڑا ادا کرتے رہیے۔

اتنے ہاتھوں میں بکنے کے بعد امیدوار بے چارہ ذہنی طور پر اتنا مفلوج ہوجاتا ہے کہ وہ ہر کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اس سارے مرحلے میں مڈل مین دونوں ہاتھوں سے دونوں طرف سے لوٹتے ہیں۔ اگر وہ امیدوار کی جیبیں خالی کرتے ہیں تو کمپنی سے بھی فیس وصول کرتے ہیں جو وہ امیدوار سے وصول کرتی ہے۔ ملازمت مل جانے کے بعد امیدوار جب تک کماکر وہ فیس واپس نہیں کرتا، تب تک اسے واپس جانے کی اجازت نہیں ملتی۔

کمپنیز کے کمانے کے بھی کئی طریقے ہیں؛ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ وہ کام کروائے اور معاوضہ دیدے۔ ایسا بہت کم ہے۔ دبئی کا ٹرینڈ یہ ہے کہ جب بھی کسی کمپنی نے کام کرانا ہوتا ہے تب اشتہار دیا جاتا ہےیا ہائرنگ ایجنسی سے رابطہ کیا جاتا ہےجس پر فوراً بندہ حاضر کردیا جاتا ہے۔ وہ بندہ عموماً کسی بھی ترقی پذیر ملک کا باشندہ ہوتا ہے جوکسی جگہ کی صفائی یا گھٹیا کام پر مامور ہوتا ہے اچانک اپنے آپ کو ایسی جگہ پاکر پھولا نہیں سماتا۔ چنانچہ جہاں اسے کام پر لگایا جاتا ہے، وہاں وہ دل لگاکر محنت کرتا ہے۔ یہاں اصل کمپنی جو اسے دبئی بلاتی ہے اس محنت کش کو دوسری کمپنی کے ہاتھ بیچ دیتی ہے۔ اس کی تنخواہ بھی پہلی کمپنی ہی طے کرتی ہے۔

اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر اس محنت کش کے ساتھ سات درہم معاوضہ فی گھنٹہ طے کیا جاچکا ہے اور موقع پر یہ تنخواہ پندرہ درہم دی جارہی ہے تو پہلی کمپنی اس کی پوری تنخواہ وصول کرکے اسے سات درہم ہی ادا کرتی ہے۔ گویا پہلی کمپنی کرائے پر مزدور دیتی ہے ۔ اور یہ سارا کام دبئی کے قانون کی رو سے بالکل درست ہے۔

دبئی جیسے انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ شہر کے قوانین پر بات کی جائے تو انسان مخمصے کا شکار ہوجاتا ہے۔ سامنے کے حالات تو یہ ہیں کہ دنیا کو کوئی بھی چور اچکا، لٹیرا بدمعاش، کرپٹ سیاست دان فرار ہونا چاہے تو وہ دبئی انٹر نیشنل چوک جاتا ہے کیوں کہ یہاں کی فیس دینے کے بعد وہ مکمل طور پر محفوظ ہوجاتا ہے اور آگے کی کوئی بھی پلاننگ کرسکتا ہے۔اگر آپ یہاں کی فیس ادا کرکے جعلی نوٹ بھی چھاپنا چاہیں تو آپ کو نہیں پوچھا جائے گا۔ متعدد فرمیں بطور خاص پاکستان سے پڑھے لکھے ذہین اور شاطر قسم کے لوگوں کو ہائر کرتی ہیں جنہیں بینکوں کا سیلز ایجنٹ مقرر کیا جاتا ہے۔ ان کاکام لوگوں کو انشورنس کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ انہیں واضح لفظوں میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور انہیں کس موقع پر کس طرح کا رویہ اختیار کرنا ہے اور کلائنٹ کو کس طرح پھانسنا ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ کلائنٹ کو بہت ہی کم رقم پر انشورنس دیتے ہیں اور اس کے اختتام پر بہت بڑی رقم انہیں واپس کی جانی ہوتی ہے۔ لیکن کاغذات اور شرائط کے ہیر پھیر سے انہیں بری طرح پھنسایا جاتا ہے اور وہ قانون کے ہاتھوں مجبور ہوکر یاتو انشورنس سے دست بردار ہوجاتے ہیں یا پھر ایک بڑی رقم بینکوں کے حوالے کردیتے ہیں۔

یار لوگ جن کو دبئی کے رموز سے بخوبی واقفیت ہے، ٹوور ویزا لے کر بلیک مارکیٹ سے موبائل فون، جیولری، لیپ ٹاپ، آئی فون وغیرہ ہر قسم کی چیز سستے داموں خریدکر پاکستان واپس آجاتے ہیں اور یہاں لوگوں کو الو بناتے ہیں۔ جن کو کاروبار نہیں آتا صرف الو بنانا آتا ہے وہ دبئی ویزوں کی دکان کھول لیتے ہیں۔

کئی لوگ جو دبئی کے ”پوسٹ پرفیشنل ازم “سے متاثر ہوکر واپس آتے ہیں یہاں ٹریننگ سینٹر کھول لیتے ہیں اور ہائرنگ ایجنسی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہاں کام سکھاکر دبئی میں آن لائن انٹرویوکراتے ہیں ۔سو فیصد ملازمت کی گارنٹی دے کردو سے تین لاکھ فیس لے کر دبئی میں دھکیل دیتے ہیں۔ آگے جاکر وہی کچھ ہوتا ہے جو پہلے بتایا گیا۔

دبئی میں ملازمت دینے والے اکثر لوگ وہ ہیں جو تعلیم اور کارکردگی کے لحاظ سے صفر ہیں۔ لیکن وہاں لمبا عرصہ گزارنے کی وجہ سے انہیں اچھا خاصا تجربہ ہے۔ لہٰذا ان کی روٹین اس طرح سے ہے کہ کچھ عرصہ محنت کرکے اپنی ہائرنگ کمپنی رجسٹرڈ کراتے ہیں ۔ کسی کمپنی سے مل کر (فیس کے عوض)چھوٹا ساکنٹریکٹ لے کر دوچار افراد بلانے کی منظوری دبئی کی سرکار سے لے لیتے ہیں۔ یوں وہ دبئی کے ڈان بننے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی پذیرائی کے لیے پاکستان کے چپے چپے پر پھیلے ویز ا تقسیم کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی منظوری اور رجسٹریشن کے بل بوتے پر اشتہارات دیتے ہیں اور پھر لوگوں کی درخواستیں ،فیسیں اور ڈرامے بازی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔

ایک بہت ہی سمجھ دار پڑھے لکھے نوجوان کا تجربہ ہے کہ وہ یہاں بہت اچھی طرح سیٹ تھا۔ کاروبار کی ماہانہ بچت ایک لاکھ روپے تک تھی۔ ایک ایجنٹ نے دبئی کے فضائل بیان کیے اور ماہانہ دس لاکھ منافع کا لالچ دیا اور اسے دبئی کا ویزا لے کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم نے حد درجہ محتاط رہتے ہوئے اپنے ذرائع سے ویزے کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ پتا چلا کہ یہ کمپنی واقعی رجسٹرڈ ہے اور افراد کی ہائرنگ کا سلسلہ شروع ہے اور پاکستان سےسیلز منیجرز بھرتی کیے جارہے ہیں۔ چنانچہ پانچ لاکھ فیس اداکرکے یہ صاحب دبئی پہنچے اور ائیرپورٹ پر تین دن انتظار کرنے کے بعد واپس آگئے کیوں کہ انہیں لینے کے لیے کوئی نہیں آیا تھا۔

دوسرے ذرائع سے معلومات لینے کے بعد پتا چلا کہ بلانے والی کمپنی کے مالک بھی پاکستانی تھے جنہیں صاحب کی زیادہ تحقیق اور تفتیش کا انداز پسند نہیں آیا اور انہیں ائیرپورٹ پر لاوارث چھوڑ دیا گیا کہ جو پاکستان میں رہتے ہوئے قابو نہیں آرہے وہ باہر کی ہوا کھانے کے بعد کیسے قابو میں آئیں گے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو اس صورت حال کا اتفاق ہوا اور وہ ائیر پورٹ سے الٹے پاؤں لوٹ آئے۔

یہ ساری باتیں کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ دبئی جاتے نہیں اور وہاں ملازمتیں نہیں ملتیں۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے مگر آنکھوں میں دیار غیر کے سہانے خواب سجائے نوجوانوں کی خدمت میں التماس ہے کہ یہاں لنگر کی تھالیوں میں دبئی کے ویزے بانٹنے والوں پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ اگر آپ دبئی کے لیے اڑان لینے کا ارادہ کر ہی چکے ہیں تو یہاں ایجنٹ کا شکنجہ کس کے جائیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں