جنید جمشید سے متعلق کچھ حیران کن باتیں

چترال سے اسلام آباد جانے والے طیارہ حادثے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے جنید جمشید سے متعلق ان کے قریبی دوست اور مشہور عالم دین مولانا طارق جمیل نے ایک ویڈیو پیغام میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے پیغام میں اپنے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بہترین ساتھی آج اچانک ہم سے بچھڑگیا۔ جنید ایک بہترین انسان تھا۔ ہماری رفاقت تقریباً 20 سال کی ہے۔ میں نے ایسے اخلاق والے بہت کم دیکھے ہیں۔ ان پر کتنی زیادتیاں ہوئیں، لیکن سب کو کھلے دل سے معاف کردیا۔

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے جنید جمشید سے اپنے تعلق کی ابتدا کے بارے میں بتایا کہ ان سے پہلی واقفیت اس وقت ہوئی جب کسی جگہ سامنے ٹی وی چل رہا تھا اور اس کی آواز بند تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان ساحل سمندر پر ڈانس کررہا ہے اور اس کے چاروں طرف لڑکیاں ناچ رہی ہیں۔ میرے جی میں آیا کہ اس نوجوان کو کیسے ہدایت ملے گی؟ اس سوچ کے ساتھ کہ اس غلط ماحول میں اس تک کون پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ 1997ء میں کراچی اجتماع میں مجھے بتایا گیا کہ پاکستان کے ایک مشہور گلوکار جنید جمشید کی آپ سے ملاقات کروانی ہے۔ جب یہ گلوکار اندر آیا تو وہی نوجوان تھا، جسے میں نے ٹی وی اسکرین پر ناچتے دیکھا تھا۔ میں ایکدم حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ میں نے پوچھا کیا کرتے ہو؟ کچھ تعارف کے بعد جنید نے مجھ سے پوچھا کہ ”آپ نے دل دل پاکستان تو سنا ہوگا؟ وہ میں نے ہی گایا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ اس ملاقات میں جنید جمشید نے کہا کہ آپ کی باتیں ایسی لگ رہی ہیں جیسے میرے زخموں پر کوئی مرہم رکھ رہا ہو۔ میرا ایک سوال ہے کہ ایک پاکستانی نوجوان جس گلیمر اور عیاشیوں کا خیال دیکھتا ہے، وہ مجھے فزیکلی حاصل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود میرے دل میں اندھیرا ہے۔ مجھے لگتا ہے میری کوئی منزل نہیں۔ ایسا کیوں؟

کچھ عرصے بعد وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ چار مہینے کے لیے چلے گئے۔ بالاکوٹ سے مجھے ان کا فون آیا کہ مولانا میں اس وقت ایک چھوٹی سی پرانی مسجد اور پھٹی ہوئی چٹائی پر لیٹا ہوا ہوں۔ ٹوٹا ہوا فرش ہے۔ لیکن جس سکون کو میں فائیو اسٹار ہوٹلز میں ڈھونڈتا تھا، آج وہ مجھے مل گیا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ ایک دفعہ ہم رائیونڈ کے اجتماع میں تھے۔ عشاء کے بعد ماضی کی باتیں چل رہی تھیں۔ جنید جمشید پر یکدم کیفیت طاری ہوئی اور زاروقطار رونا شروع ہوگئے۔ کبھی دائیں طرف روتے روتے گرتے، کبھی بائیں طرف۔ جیسے مچھلی تڑپتی ہے۔ آنکھوں سے آنسو اور منہ سے رال نکلتے نکلتے مجھے ان پر ترس آگیا اور میرے بھی آنسو نکل گئے۔ اس دوران کہنے لگے مولانا! آپ کو نہیں پتا، آپ نے مجھے کہاں سے نکالا؟ میری نسلیں بھی اس احسان کا بدلہ نہیں دے سکتیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں