”بغدادی ولی“ کا ہم نام ناکام رہا؟

ہر سفر نے تو ختم ہونا ہی ہوتا ہے سو ختم ہوا۔ وہ بلند پرواز تھا سو بلندی سے ہی حتمی سفر کا آغاز کرگیا۔ وہ بغدادی ولی کا ہم نام جنید، اسمِ بامسمٰی عابد و نبرد آزما ٹھہرا۔ سورج کی کرن کی مانند روشن ہوکر جمشید کہلانے کا حق ادا کرگیا۔ علمی، فکری و نظریاتی اختلافات اور غلطیوں سے کون بچا ہے جو وہ بچ پاتا۔ نہ اس کے چاہنے والوں کی کمی ہے نہ تبریٰ کرنے والوں کا قحط۔ مگر اس کی زندگی کی مانند اس کے چاہنے اور تبریٰ کرنے والے گروہ بھی بدلتے رہے۔

جب وہ کلین شیو ہاتھ میں گٹار تھامے، دھیمی دھمی دھنوں پر ’’او صنما، او صنما اب میری تنہائی ہے“ آسان گاتا تھا۔ ”سانولی سلونی محبوبہ“ کو پکارتا تھا یا ”ہم کیوں چلیں اُس راہ پر جس راہ پر سب ہی چلے! کیوں نا چنیں وہ راستہ جس پر نہیں کوئی گیا“ گنگناتا تھا تو عشق مجازی کے گرفتار، لہکتے، چہکتے اس پر فدا ہوتے تھے۔ جب کہ وہ زعم برگزیدگی میں مبتلا باریش اہلیان جبہ و دستار کے نزدیک ایک ڈوم میراثی کی سی حیثیت رکھتا تھا۔

پھر وقت نے پلٹا کھایا اور ”الٰہی تیری چوکھٹ پہ بھکاری بن کے آیا ہوں“ جیسی صداؤں نے کہیں مرحبا مرحبا کے نعرے بلند کیے تو کہیں ماتھوں پر سلوٹیں پڑیں۔ شخصی و فکری آزادی کے علمبرداروں کے ہاں سے رجعت پسند، شدت پسند کے سرٹیفکیٹ عطا کیے جانے کے بعد تبریٰ شروع ہوا۔ فرقہ وارنہ نفرت و تعصب کے سبب دشنام طرازی کا حقدار ٹھہرا۔ مگر پھر بھی اس کی چمک میں کمی نہیں ہوئی۔ شاید اسے نہ اپنی اولین زندگی اور شناخت کے وقت ناقدین کی پرواہ تھی نہ تبدیلی کے بعد۔

ممکن ہے جنید جمشید سے اختلاف کرنے کے لیے ہزار وجوہات ہوں، مگر نفرت کی ایک وجہ بھی موجود نہیں۔ سوائے اس کے کہ فکری بونا پن۔ وہ دلوں کو بے تاب و بے خود کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا، سو بے شمار آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ گو یہ بھی اپنی جگہ سچ کہ موت خاتمہ نہیں بلکہ ابدی حیات کا در ہے ”یہ تو ہے شام زندگی، صبح دوام زندگی“۔ خواہ گھر کی چارپائی پر آئے یا ہسپتال کے بیڈ پر، آنا تو ہے۔

ہاں! مگر وہ قدم جو صداقت کے پرچار کے لیے اٹھے ہوں وہ نامراد نہیں ہوسکتے۔ مالک کے ہاں اُس کا مقام و مرتبہ کیا ہے، یہ طے کرنا ہمارا کام نہیں، مالک کا اختیار ہے۔ مگر ایک بات تو طے ہے کہ جو بھی مالک کی جانب صدق دل سے بڑھا وہ نامراد نہیں ہوسکتا۔ مگر تبریٰ کرنے والوں کا صداقت سے کیا لینا دینا، انہوں نے تو فقط تبریٰ کرنا ہے، چاہے کسی کی زندگی ہو یا موت۔

اختلاف بھی ظرف کا متقاضی ہے۔ ورنہ کم ظرفی کے ایسے شاہکار تخلیق کرتا ہے کہ جنہیں کم ظرفی بھی دیکھ کر پانی پانی ہوجاتی ہے۔ سو اس موت نے فکری ناقدین اورکم ظرفوں کو جدا جداکردیا، مگر یہاں بھی فکری ناقدین کی واضح اکثریت کے ساتھ اُس کا پلڑا بھاری رہا۔ یہی اس کی کامیابی کی واضح دلیل ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں