ٹریفک جام، صبر کا روزانہ امتحان

ایک شخص گھر سے باہر نکلا اور کچھ ہی دور چلنے کے بعد کیلے کے ایک چھلکے پر پیر پڑنے کی وجہ سے بری طرح گرگیا۔ بجائے دفتر جانے کے اسے واپس گھر آنا پڑا۔ ایک، دو دن بعد جب صحت مند ہوکر دوبارہ نکلا تو اسی جگہ پر ایک اور کیلے کا چھلکا پڑا تھا۔ کہنے لگا "اف، آج پھر پھسلنا پڑے گا۔" یہ تو محض ایک لطیفہ ہے لیکن دنیا کے تمام بڑے شہروں میں صبح و شام کے دفتری اوقات میں بے ہنگم ٹریفک سے گزرنا اس کی عملی مثال ہے۔ یہ وہ "چھلکا" ہے جس پر سے ہر بڑے شہر میں کروڑوں لوگ روزانہ پھسلتے ہیں، چاہے وہ کراچی ہو یا دبئی، ممبئی ہو یا ریو، نیو یارک ہو یا قاہرہ۔

مصری دارالحکومت میں گاڑیوں کے ہارنز کی کانوں پر گراں آواز کا شور اور حد نگاہ تک سست روی سے چلنے والی گاڑیوں کی قطاریں ہیں، جن سے گزر کر مصطفیٰ اکرام روزانہ گھر پہنچتے ہیں۔ اس ٹریفک کے اندر سڑک پار کرنے والے پیدل افراد بھی ہیں، تو شور مچاتے رکشے یہاں تک کہ گدھا گاڑیاں بھی۔ مصر کے گنجان آباد شہر میں وہ کچھ دیر قبل غلط سمت سے آنے والے ایک رکشے سے ٹکراتے ٹکراتے بچے، لیکن ان کے چہرے پر ناگواری یا تشویش کا شائبہ تک نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی کا "رونگ سائیڈ" سے آنا ایک معمول ہے۔ یہ گویا افریقہ کا کرچی ہے کہ جہاں ٹریفک قوانین کی شاذ ہی کوئی پروا کرتا ہے اور ٹریفک جام صبح سے لے کر رات گئے تک عام ہیں۔

اکرام کہتے ہیں کہ ایسا لگ رہا ہے میں ایک قیدی ہوں جو اپنی گاڑی میں بند ہے اور فرار کے لیے راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ یہ ٹریفک جام آپ کی توانائی اور وقت کو چوس لیتے ہیں۔

مزیدار بات یہ ہے کہ اگر کوئی سڑک خالی ہے تو مصری ایک ہاتھ میں موبائل فون لے کر ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرنے کے عادی ہیں، یہی نہیں بلکہ وہ برابر والی گاڑی سے ریس بھی لگاتے ہیں اور سگنل اور سڑک پار کرنے والوں کی کوئی پروا نہیں کرتے۔

دو سال قبل مصری حکام نے تمام چوراہوں اور حادثات کے لیے نازک مقامات پر کیمرے نصب کرنے کا کام شروع کیا تھا جن کا 80 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس عہدیدار عماد حماد کی نظر میں قاہرہ کی سڑکوں پر اس ہنگامہ خیزی کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ "اصل مسئلہ لوگوں کا 'رویہ' ہے، نوپارکنگ ایریاز میں پارکنگ اس کی ایک عام مثال ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے ڈرائیوروں کی پریشانی کی قطعی پروا نہ کرتے ہوئے لوگ بیچ سڑک پر گاڑی روک کو راستہ پوچھنا شروع ہو جاتے ہیں یا دوست سے حال احوال کرنے لگتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 33 لاکھ گاڑیاں قاہرہ کی سڑکوں پر ہیں۔ رنگ روڈز، ہائی ویز اور فلائی اوورز کے باوجود ٹریفک جام ہے کہ ختم نہیں ہو رہے۔ عالمی بینک کے مطابق یہ مسئلہ مصر کو 2011ء میں مصر کو 8 ارب ڈالرز کا نقصان دے چکا ہے یعنی کل جی ڈی پی کا 3.6 فیصد اور 2030ء تک یہ دوگنا ہو جائے گا۔

اس معاشی نقصان کی پیمائش سامان کی فراہمی میں تاخیر اور ٹریفک جام میں ضائع ہونے والے ایندھن کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

ایک مقامی یونیورسٹی کے پروفیسر اسامہ عقیل کہتے ہیں کہ اس کا واحد علاج بہتر معیار کی پبلک ٹرانسپورٹ ہے، جو لوگوں کو قائل کرے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے بجائے اس کا استعمال کریں۔ "ایک بس 50 مسافروں کو لے جا سکتی ہے جو عموماً 40 کاروں میں جاتے ہیں۔"

حکام قاہرہ میٹرو کو بھی توسیع دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کی موجودہ تین لائنٹیں پہلے ہی 35 لاکھ افراد کو روزانہ سفر کی سہولیات دیتی ہیں۔ نئی میٹرو کے مقابلے میں باقی پبلک ٹرانسپورٹ پرانی، بے آرام اور بہت رش کی حامل ہوتی ہے۔

انجینئر محمد محمد کہتے ہیں کہ "اگر پبلک ٹرانسپورٹ بہتر اور منظم ہو تو وہ اپنی گاڑی چھوڑنے کو تیار ہیں۔ جبکہ ایک ملٹی نیشنل ادارے میں کام کرنے والی ہبہ اعصام کہتی ہیں کہ انہوں نے ٹریفک جام سے بچنے کا ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ وہ ہفتے میں دو دن گھر میں کام کرتی ہیں۔ کام پر جانے اور گھر واپس پہنچنے میں ان کے روزانہ 4 گھنٹے ضائع ہوتے ہیں۔ کہتی ہیں کہ "کام کے لیے دفتر پہنچنے سے پہلے ہی میں بری طرح تھک جاتی ہوں"۔

2015ء میں مصر کی شاہراہوں پر ساڑھے 14 ہزار حادثات ہوئے جن کے نتیجے میں 6 ہزار اموات ہوئیں اور 19 ہزار لوگ زخمی ہوئے جو روزانہ 17 اموات بنتی ہیں۔ اس صورت حال میں قاہرہ کے زیادہ تر باسی موٹر سائیکلوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں تاکہ وہ ٹریفک میں سے نکل سکیں جیسا کہ 34 سالہ محمد عبد الوحید، جو کہتے ہیں کہ "اب میں 45 منٹ میں گھر پہنچ جاتا ہے، یوں کچھ آرام کے بعد دوستوں سے ملنے کا وقت مل جاتا ہے۔"

ویسے قاہرہ اور کراچی کی کہانی کتنی ملتی جلتی ہے نا؟

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں