حلب نے کیا کھویا؟

ایک ہزار سال پرانا مینار جو حلب کی اموی مسجد سے شہر کا نظارہ دیتا تھا، ایک شاندار قلعہ جو شہر کے مرکز میں واقع تھا، ایک قدیم بازاراور 21 ویں صدی کا ایک جدید خریداری مرکز۔ بدترین خانہ جنگی سے قبل شام کا سب سے بڑا شہر حلب مالی طور پر بہت مضبوط شہر تھا اور ایک فخریہ تاریخ بھی رکھتا تھا۔ اس کا قدیم ورثہ ان عمارات سے ظاہر ہے جو اب بھی تاجروں، سیاحوں اور زائرین کے استعمال میں آتی رہتی ہیں۔ لیکن 2011ء میں ملک میں پھیلنے والی خانہ جنگی نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

2012ء کے موسم گرما میں حلب میں حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان ہوا اور اس کے ساتھ ہی شہر کے برے دن شروع ہوگئے۔ حکومت مخالف باغیوں کو امید تھی کہ ان کا قدم صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا آغاز ہوگا، جبکہ حکومت نے ان "باغیوں" کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی شروع کردی۔ ہدف کو دونوں کو نہیں مل لیکن چار سالہ جنگ نے حلب کو ہزاروں سال پیچھے پہنچا دیا۔ فریقین کی بمباری ہو یا حکومت اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملے، ہر بم اس خوبصورت شہر کے چہرے پر ایک داغ لگاتا گیا۔ اب حلب ایک چیچک زدہ چہرے کی طرح موجود ہے۔ قدیم بازار ختم ہو چکا ہے، 11 ویں صدی عیسوی کا خوبصورت اموی مینار تین سال سے زمین بوس ہے۔ یہی نہیں شاپنگ مالز سمیت جدید عمارات بھی ختم ہو چکی ہیں۔ وہ ہوٹل جس نے جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک، مشہور برطانوی فوجی کرنل تھامس لارنس المعروف لارنس آف عربیہ اور شاہ عراق و شام فیصل کی میزبانی کی، اور وہ قدیم شہر جسے اقوام متحدہ نے "عالمی ثقافتی ورثہ" قرار دیا تھا، وہ بھی جنگ کی نذر ہوچکا ہے۔

اب شام کی افواج، جنہیں اتحادی روس اور ایران کا ساتھ حاصل ہے، شہر پر ایک مرتبہ پھر قبضہ کرنے کے قریب ہیں۔ حکومت کی نظریں کامیابی پر ہیں لیکن کون سی کامیابی؟ ایک صحت مند مریض کے دونوں بازو اور پیر کاٹ دینے کے بعد اس کی جان بچ جانے کا شکر ادا کرنا کون سی عقلمندی ہے؟ حلب نے کیا کھویا ہے، ان تصاویر سے ظاہر ہے لیکن حقیقت اس سے بھی بھیانک ہے، کیونکہ انسانی المیہ تصاویر سے بیان نہیں ہو سکتا۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں