عشق نہ پُچھے - رشید امجد

رشید امجد


اُس کے ساتھ تعلق کی ایک زمانی مُدت تو تھی ہی، لیکن لگتا یوں ہے جیسے یہ تعلق اَزلوں اَزلی ہے۔ چودہ پندرہ برس پہلے اُس نے پہلی بار اُسے دیکھا‘ اِس سے پہلے اُس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ پُرانے گھر میں جو شہر کے قدیمی حِصّے میں تھا‘ اِس کی ضرورت تھی نہ وہ وہاں پہنچ سکتی تھی۔ وہ گلیاں تنگ ضرور تھیں لیکن محبتوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ضرورت کی ہر شے دروازے پر موجود تھی۔ صبح سویرے کُلچے اور لسی کا ناشتہ کر کے گلیوں گلی بڑے چوک میں آنکلتا‘ جہاں کسی بھی جگہ جانے کے لیے تانگوں‘ سوزوکیوں اور ویگنوں کی لائنیں لگی رہتی تھیں۔ صدر کا کرایہ چار آنے تھا اور کوشش یہی ہوتی تھی کہ ایک طرف سے اُسے بھی بچا لیا جائے۔ دو تین ساتھی اکھٹے ہوجاتے تو گپ شپ لگاتے پیدل ہی چل پڑتے‘ محبتوں میں رچے ہوئے فاصلے بھی مختصر سے لگتے تھے۔ ہر شے بھری بھری سی تھی ‘ منہ تک لبا لب اور وہ اِن میں گردن کو خم دیے لَکے کبوتر کی طرح غٹر غوں غٹرغوں کرتا پھرتا تھا۔

پھر آہستہ آہستہ نہ جانے کیا ہوا کہ چیزیں سکڑنے لگیں اور فاصلے بڑھنے لگے۔ بیوی اور بچوں کے اصرار پر اُس نے پُرانے شہر سے باہر پلاٹ لے لیا۔ اپنے طور پر اِسے اَب بھی یقین تھا کہ اِسے بہکایا گیا ہے۔ وہ اِس تنگ گلی سے نکلنا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ اِس تنگ گلی میں اِسے اپنا آپ بڑا لگتا تھا اور نئے علاقے کی کُھلی سڑک پر وہ بہت چھوٹا ہو جاتا تھا‘ لیکن کہتے ہیں ناں کہ ایک دفعہ پائوں اُکھڑ جائے تو آدمی پھسلتا ہی چلا جاتا ہے اُس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

’’یہ پلاٹ لینا ہی میری سب سے بڑی حماقت تھی‘‘ وہ اپنے آپ سے کہتا‘ مگر اب کیا ہوسکتا تھا‘ پلاٹ لیا تو نیا گھر بننا بھی شروع ہوگیا۔ پُرانا مکان بِک گیا‘ نیا گھر بس بن ہی گیا۔ اب جانے کی باری آگئی۔ وہ کئی دن اپنے آپ کو اِس کے لیے تیار کرتا رہا۔ بچے کلکاریاں مار رہے تھے‘ بیوی کے پائوں زمین پر نہ لگتے تھے لیکن وہ اندر ہی اندر ٹوٹے چلا جارہا تھا۔ یہاں رُکنے کی اب کوئی صورت نہ تھی‘ آخر جانا ہی تھا۔

جِس دن وہ نئے گھر پہنچے اُسے لگا اُس کی ماں آج ہی مری ہے اور وہ اُسے دفناکر قبرستان سے اِدھر آنکلا ہے۔

ماں کئی دن یاد آتی رہی‘ پھر کچھ معمول شروع ہوا تو آنے جانے کی دِّقت کا احساس ہوا‘ نئے گھر کی چَٹ پر کچھ اکھٹا ہوگیا تھا، کچھ قرض لے لیا اور ایک سانولی سی شام سودا پکا ہوگیا۔ ماڈل تو خاصا پُرانا تھا مگر اِتنے پیسوں میں یہی مِل سکتا تھا‘ سو اُس نے حسبِ معمول سر ہلایا اور اپنے آپ سے کہا ’’چلو یہ بھی غنیمت ہے‘‘

خود اُسے تو اسٹیرنگ پکڑنا بھی نہیں آتا تھا‘ اس لیے وہ دفتر کے ڈرائیور کو ساتھ لے گیا۔ ڈرائیور ہی اِسے چلاکر لایا اور جب اُس نے اُسے پورچ میں کھڑا کیا تو بیوی بچے اندر سے دوڑے آئے اور اس کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور اندر باہر دیکھنے لگے۔ وہ ایک کونے میں چُپ چاپ سہما ہوا سا اِس سوچ میں کہ اَب اِسے چلائے گا کون؟ ڈرائیور شاید اس کی مُشکل سمجھ گیا‘ خود ہی بولا ’’صاحب جی فکر نہ کریں میں روز شام کو آجایا کروں گا ‘ بس ہفتہ دس دن میں آپ سیکھ جائیں گے۔‘‘

ہفتہ دس دن تو اُسے اسٹارٹ کرنے اور اسٹیرنگ سیدھا کرنے ہی میں لگ گئے‘ ڈرائیور اِسے ایک کُھلے میدان میں لے جاتا اور دائرے میں چکر لگواکر دائیں بائیں مڑنے کی مشق کرواتا‘ شاید بیسویں یا پچیسویں دن جب اُس نے پھر دوسرے کی بجائے چوتھا گیئر لگادیا تو ڈرائیور نے ہاتھ جوڑ دیے ’’سر! مجھے تو معاف کر دیں یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔‘‘

دوسرے دن ڈرائیور خلافِ معمول شام کو نہیں آیا‘ ’’اب وہ نہیں آئے گا‘‘ اُس نے بیوی سے کہا۔ ’’آکر بھی کیا کرے گا؟‘‘ وہ غصے سے بولی ’’تم کچھ سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے‘‘

’’اب اِس عمر میں کیا سیکھوں گا!‘‘ اُس نے جیسے خود سے کہا۔

دو تین دن وہ پورچ ہی میں کھڑی رہی‘ دفتر میں کسی نے کہا کھڑے کھڑے بیٹری بیٹھ جاتی ہے‘ اُس کا دِل بیٹھ گیا۔ شام کو اُس نے بڑی مشکلوں سے خود کو تیار کیا اور اسٹارٹ کر کے میدان کی طرف نکل پڑا۔ میدان زیادہ دور نہیں تھا‘ اب یاد نہیں کہ چکر لگاتے لگاتے یا کہیں مڑتے مڑاتے مکالمہ شروع ہوا۔ چیزوں سے مکالمہ کرنے کی اس کی عادت بہت پُرانی تھی۔ پُرانے محلے میں بھی اس کے کئی دوست تھے‘ گلی کا گیٹ‘ خود گلی‘ نکڑ کا ٹیڑھا کھمبا‘ گھر کا بوسیدہ دروازہ‘ ان سب کے ساتھ اس کا مکالمہ چلتا رہتا تھا‘ آتے جاتے وہ اِن کا حال پوچھتے وہ اس کی خیریت معلوم کرتے‘ اپنے کمرے کی دیواروں سے تو کبھی رات رات بھر مکالمہ ہوتا‘ دفتر میں وہ اپنی میز سے بھی گفتگو کرلیتا تھا‘ یہ سب اس کے دوست تھے جو اُسے کبھی تنہائی کا احساس نہ ہونے دیتے۔

نئے گھر میں وہ اکیلا تھا‘سڑک‘ کھمبے حتیٰ کہ گھر کی دیواریں بھی اس کے لیے اجنبی تھیں‘ وہ اس کی بات ہی نہ سمجھتیں‘ وہ کچھ کہنے کی کوشش کرتا تو وہ چُپ اُکھڑی ہوئی نظروں سے اُسے دیکھتی رہتیں‘ یہاں اس کا کوئی دوست نہ تھا‘ لوگ بھی اجنبی اور ایک دوسرے سے بے زار بے زار سے اور چیزیں بھی اجنبی اور چُپ چاپ سی۔ ایک چُپ لگ گئی جو اُسے اندر ہی اندر کھوکھلا کیے جارہی تھی‘ ایسے میں اِس مکالمے نے اِسے چہکا دیا‘ وہ خوشی خوشی گھر آیا۔

جب سے وہ نئے گھر میں آئے تھے وہ خاموش خاموش رہتا تھا۔ اِسے یوں ہشاش بشاش سا دیکھ کر بیوی لمحہ بھر کے لیے چونکی ’’بڑے خوش نظر آرہے ہو؟‘‘

’’صبح ویگن والے کو جواب دے دینا‘ پرسوں سے سب گاڑی میں جایا کریں گے۔‘‘

’’لیکن…‘‘
’’لیکن ویکن کچھ نہیں ‘ میں کر لوں گا‘‘

یہ تبدیلی غیر معمولی سی تھی‘ بیوی کچھ بے یقینی کی کیفیت میں رہی‘ کہاں تو یہ کہ وہ اسٹیرنگ کو ہاتھ لگاتے بے زاری کا اظہار کرتا اور کہاں یہ جوش کہ سب کو لے کر نکلے گا‘ لیکن وہ اپنی جگہ پُرسکون تھا۔

’’مکالمہ شروع ہو جائے تو دُوری ختم ہو جاتی ہے‘‘ اُس نے اپنے آپ سے کہا۔ ’’اب ڈرنے کی ضرورت نہیں اب میری اِس کے ساتھ دوستی ہوگئی ہے۔‘‘

پھر دوستی کا ایسا دور شروع ہوا کہ من و تُو کا جھگڑا مٹ گیا‘ فاصلے سمٹ گئے۔ بیوی اور بچوں کو اِن کے سکول چھوڑ کر اپنے دفتر تک کے لمبے فاصلے میں ڈھیروں باتیں ہو تیں‘ کبھی وہ بولتا تو وہ سُنتی‘ کبھی وہ بولے چلی جاتی اور وہ سُنے چلا جاتا۔ وہ اس کا ہر لمحہ خیال رکھتا ذرا سی تکلیف ہوتی تو اسے لیے مکینک کے پاس پہنچ جاتا۔ اُس کے دوست ہنستے ’’یار تم نے اِس پرانی گاڑی پر اتنے پیسے لگادیے ہیں کہ اب تو صرف پَر لگانے ہی رہ گئے ہیں۔‘‘

وہ اندر ہی اندر گُھٹتا۔ انہیں کیا معلوم کہ واقعی اِس کے پَر ہیں اور ہم دونوں اِن پروں سے کہاں کہاں اُڑے پھرتے ہیں۔

اُس کی توجہ اور گاڑی کے لیے کچھ نہ کچھ خرچ کرتے رہنے سے بیوی بچے بھی اب چڑنے لگے تھے۔ بیٹا جواب کالج میں آگیا تھا کہتا! اس پُرانی گاڑی پر اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

’’تو کیا کروں اِسے کھڑا کر دوں؟ آخر پرانی گاڑیوں پر خرچہ تو آتا ہی ہے۔‘‘
’’بیچ کر نئی لے لیں۔‘‘ بیٹا اصرار کرتا۔
اُسے اِس تصور ہی سے ہول آتا۔ ”نہیں نہیں ٹھیک چل رہی ہے‘ نئی کون سی مفت مِل جائے گی۔“

ہر مہینے جب تنخواہ میں سے ایک بڑی رقم گاڑی کے کھاتے میں نکل جاتی تو بیوی کا موڈ کئی کئی دن ٹھیک نہ ہوتا۔

’’یہ گاڑی تو ہمیں کنگال کر دے گی‘‘ وہ بڑ بڑاتی۔
’’پرانی تو ہے لیکن ہمارا کام تو چل رہا ہے۔‘‘ وہ وکالت کرتا۔
’’میرا خیال ہے اس کی اور آپ کی عمریں برابر ہی ہیں۔‘‘ بیٹا طنز کرتا۔
’’شاید تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔‘‘

’’میں تو کہتا ہوں اِسے فوراً نکال دیں۔ ایک آدھ سال اور گذر گیا تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔‘‘ بیٹے نے سمجھایا۔
’’اور اس ایک آدھ سال میں یہ اِس پر دس پندرہ ہزار اور لگا دیں گے۔‘‘بیوی غصے سے بولی

وہ کچھ نہ بولا۔ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔

’’میں نے اِن کے کہنے پر زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی تھی کہ پرانے محلے سے نکل کر یہاں آیا لیکن اب میں اس غلطی کو نہیں دہرائوں گا۔‘‘

اور اِسے پرانا محلہ یاد آگیا۔ وہ تنگ سی لیکن محبت سے لبالب بھری گلی جو اِسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیتی تھی‘ کُلچے کی دکان جہاں سے وہ روز صبح گرم گرم کُلچہ لیتا تھا اور وہ دودھ والا لسّی بھرا گلاس سارا دن کیا تازگی رہتی تھی اور اب ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑے اور بد مزہ جام لگتا ہے میٹھی موم کھا رہے ہیں۔

ان دنوں کچھ اِسی طرح کی کیفیت تھی جیسے پرانے گھر میں آخری چند مہینوں میں ہوئی تھی۔ کچھ اُکھڑا اُکھڑا پن‘ کچھ بے زاری سی‘ ایک صبح اسٹارٹ ہونے میں کچھ دیر لگ گئی تو اُس نے ویسے ہی کہہ دیا ’’میرا خیال ہے اب رِنگ پسٹن بدلوا لینے چاہئیں۔“

بیوی اور بیٹے تو بھڑک اُٹھے۔
’’اب اس پر ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کرنا۔‘‘ بڑے بیٹے نے غصے سے کہا۔

’’اور ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے۔‘‘ چھوٹے بیٹے نے گویا اِسے اطلاع دی۔
’’کیا؟‘‘
’’اگلے مہینے آپ ریٹائر ہو رہے ہیں ناں‘ آپ کو جو پیسے ملیں گے اس میں کچھ ڈال کر ہم نے گاڑی بدلنا ہے۔‘‘ بیوی نے گویا فیصلہ سُنایا۔

وہ کچھ نہ بولا‘ اِن دنوں ویسے ہی اُداسی تھی۔ دفتر سے تیس سال کی رفاقت ختم ہورہی تھی۔ اس کی خاموشی پر بیوی بچے کِھل اُٹھے۔

’’میں نے کہا تھا نا ابو مان جائیں گے۔‘‘ چھوٹے بیٹے نے خوشی سے کہا۔

مہینہ تو پَر لگا کر اُڑ گیا۔ اسٹیرنگ سنبھالتے ہوئے اسے کچھ شرم سی آتی۔ ’’نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا‘ میں نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ وہ اپنے آپ سے کہتا یا اُسے سُناتا۔ کچھ معلوم نہ ہوتا‘ بس اس کی بڑ بڑاہٹ جاری رہتی۔ ایک آدھ مہینہ پیسے ملنے میں لگ گیا۔ اِس دوران کبھی ناشتے پر ‘ کبھی کھانا کھاتے ہوئے دونوں بیٹے کسی نہ کسی حوالے سے گاڑی کا ذکر چھیڑ دیتے اور اِسے ذہنی طور پر تیار کرتے کہ اب گاڑی کو نکال دینا چاہیے۔ وہ ہوں ہاں کرکے اُٹھ جاتا لیکن اندر ہی اندر اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ بیوی بچوں کے اصرار کے سامنے ٹھہرنے کی سکت اب اُس میں نہیں تھی‘ کبھی بھی نہیں تھی‘ ہوتی تو وہ پرانا گھر ہی کیوں چھوڑتا؟ اور اب تو زندگی کی شام ہونے جارہی تھی جدائی کے سلسلے شروع ہونے والے تھے۔

اِسے دوپہر کو سونے کی عادت تھی‘ دفتر سے آکر بھی وہ ضرور کچھ دیر آنکھ لگالیتا تھا۔ اُس دوپہر بھی وہ حسبِ معمول سو رہا تھا کہ بیٹے نے اسے جگایا۔
وہ ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھا ’’کیا بات ہے؟‘‘
’’ابو ذرا اِس پر دستخط کردیں۔‘‘

’’کیا ہے یہ؟‘‘
’’آپ دستخط تو کریں۔ اُس نے کاغذ اور قلم آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ نیم غنودگی میں دستخط کرکے وہ پھر سو گیا۔

شام کو چائے پیتے ہوئے بیوی نے کہا ’’ماشاء اللہ آپ کے دونوں بیٹے بڑے سیانے ہیں ‘ انہوں نے گاڑی کی اچھی قیمت وصول کرلی ہے۔‘‘
ـ’’کیا؟‘‘ پیالی اُس کے ہاتھ سے گِرتے گِرتے بچی۔
’’آپ سے دستخط کروائے تھے نا دوپہر کو!‘‘

’’وہ۔۔۔‘‘ وہ کچھ نہ کہہ سکا‘ بس اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔ زندگی بھر اُس نے یہی کیا تھا‘ کچھ نہ کر پائے تو چادر میں منہ لپیٹ کر پڑ رہنا۔

تین چار دن بعد بیٹے پھر پھرا کر اچھے ماڈل کی گاڑی لے آئے۔ نئی گاڑی خوب صورت تھی‘ بیوی بچوں نے کہا ’’چلو آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔‘‘

اُس کا دل بیٹھ گیا ’’تم لوگ جائو ‘میں گھر میں ہی رہتا ہوں۔‘‘
’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ بیٹے نے چابی اُس کی طرف بڑھائی۔
’’آپ ہی چلائیں‘‘

’’میں…‘‘ اُس نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی بیوی بول پڑی ’’بچوں کی خوشی میںتو شریک ہوجائیں۔‘‘

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ کانپتے ہاتھوں سے گاڑی اسٹارٹ کی۔ ہاتھ اسٹیرنگ پر جم نہیں رہے تھے۔ دو ایک بار گاڑی لگتے لگتے بچی‘ پھر جب اُوپر تلے اُس نے گئیر غلط لگائے تو بیٹا نہ رہ سکا اور بولا ’’ابو کیا کررہے ہیں آپ تو گیئر ہی توڑ ڈالیں گے۔‘‘

اُس نے بڑی مشکل سے گاڑی روکی اور بولا ’’بیٹا تم چلائو مجھ سے نہیں چل رہی‘‘
اور اِسے لگا وہ واقعی گاڑی چلانا بھول گیا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں