عجیب الخلقت - میکسم گورکی

میکسم گورکی

میکسم گورکی

دن گرم ہے۔ ہر طرف سکوت کا دور دورہ ہے۔ زندگی ایک پر نور سکون و طمانیت کی آ غوش میں آرام کررہی ہے۔ نیلا آ سمان محبت بھری نگاہوں سے زمین کو دیکھ رہا ہے۔ سورج گویا آ سمان کی آتشیں پتلی ہے۔

سمندر نیلگوں دھات کی ایک ہموار اور چکنی چادر کی مانند ہے۔ مچھلی پکڑنے والی رنگا رنگ کشتیاں اتنی بے حس و حرکت کھڑی ہیں گویا وہ آ سمان کی مانند شفاف اور چمکیلی کھاڑی کے نیم دائرے میں جڑ دی گئی ہوں۔ ایک بحری بگلا کاہلی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتا ہوا اڑتا ہے اور پانی کی سطح پر ایک اور پرندہ نمو دار ہوتا ہے جوہوا میں اُڑتے ہوئے پرند سے زیادہ سفید اور زیادہ خوبصورت ہے۔

دور، چمکتے ہوئے افق پر ایک ارغوانی جزیرہ دھیرے دھیرے پانی پر بہہ رہا ہے یا شاید سورج کی تپتی ہوئی شعاعوں میں پگھل رہا ہے۔ وہ سمندر کی تہہ سے نکلتی ہوئی ایک تن تنہا چٹان ہے، خلیج نیپلز کی انگشتری میں جڑا ہوا ایک تابندہ موتی ہے۔

پتھریلے ساحل کے نوکیلے کونے سمندر کی طرف جھک رہے ہیں۔ اس پر گہرے رنگ کے پتوں والی انگور کی بیلوں، لیموں، انجیر اور سنترے کے درختوں اور ہلکے نقرئی رنگ کے زیتون کے پتوں کا ایک گنجان جال سا بچھا ہوا ہے۔ گنجان اور ایک دم سمندر کے اندر چمکتے ہوئے پتوں کے بیچ میں سے سنہرے، لال اور سفید پھول ملائمت سے مسکرارہے ہیں اور پیلے اور نارنجی رنگ کے پھول ایک گرم چاندنی رات کے ستاروں کی یاد دلا رہے ہیں جب آ سمان کا رنگ گہرا ہوتا ہے اور فضا میں نمی ہوتی ہے۔

سمندر، آسمان او روح۔۔۔ ہر چیز پر سکوت طاری ہے اور اس خاموشی میں آ دمی کا دل وہ بے آ واز ترانہِ توصیف سننے کو چاہتا ہے جو زندگی سورج دیوتا کے حضور میں گاتی ہے۔

باغوں کے درمیان ایک پگڈنڈی جارہی ہے اورا س پر ایک دراز قد عورت سیاہ لباس پہنے ہوئے چل رہی ہے۔ وہ سبک قدمی سے ایک سے دوسرے پتھر سے گزرتی ہوئی چلی جارہی ہے۔ دھوپ میں اس کا لباس دھبوں دار بھورے رنگ کا معلوم ہورہا ہے اور اس فرسودہ لباس کے پیوند دور ہی سے نظر آسکتے ہیں۔ا س کا سر کھلا ہوا ہے اور بال چاندی کی طرح چمک رہے ہیں اور چھوٹے چھوٹے گھونگروں کی شکل میں اس کی اونچی پیشانی، کنپٹیوں اور سانولے سلونے رخساروں پر آ ئے پڑے ہیں۔ وہ اس قسم کے بال ہیں جنہیں کنگھے سے سنوارکر قابو میں کرنا ممکن ہے۔

اس کے نقوش اور اس کے خدو خال سے سخت گیری ٹپکتی ہے۔ یہ ایک ایسا چہرہ ہے جسے ایک مرتبہ دیکھ کر کبھی نہیں بھلایا جاسکتا ۔ اس سخت گیر چہرے میں کوئی انمٹ اور ابدی سی چیز ہے اور اگر اس کی سیاہ آ نکھوں کی سیدھی نگاہ سے آ پ کی نظر مل جائے تو آ پ مشرق کے تپتے ہوئے صحراؤں کا، دیبورہ اور جوڈتھہ کا خیال کیے بغیر نہیں رہ سکتے ۔

وہ سر جھکائے، کروشیا سے کچھ بنتی ہوئی چل رہی ہے۔ اس کی کروشیا کی سلائی کا ہک چمک رہا ہے، اون کا گولا اس کے لباس میں کہیں چھپا ہوا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لال تاگا اس عورت کے دل میں سے نکل رہا ہے۔ پگ ڈنڈی ڈھلوان اور پیچ و خم کھاتی ہوئی ہے۔ کبھی کبھی نیچے گرتے ہوئے پتھروں کی آ واز سنائی دیتی ہے لیکن یہ سفید بالوں والی عورت اس اطمینان اور اعتماد سے چلی جارہی ہے گویا اس کے پاؤں میں آ نکھیں لگی ہیں جو راستہ دیکھ سکتی ہیں۔

اس عورت کی داستان اس طرح سنائی جاتی ہے: یہ بیوہ ہے۔ اس کا شوہر ایک مچھیرا، شادی کے کچھ ہی عرصے بعد ایک دفعہ مچھلی پکڑنے کے لیے دور سفر پر گیا اور کبھی واپس نہیں آ یا اور اس کے دل کے نیچے ایک بچے کی تخلیق ہونے لگی۔

جب بچہ پیدا ہوا تو ماں نے اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپائے رکھا۔ وہ اور ماؤں کی طرح اس کی نمائش کر نے کے لیے اسے دھوپ میں سڑک پر نہیں نکالتی تھی۔ وہ اُسے پوتڑوں میں لپیٹ کر اپنی جھونپڑی کے ایک تاریک گوشے میں رکھتی تھی اور بہت دن تک پڑوسی بس بچے کا بہت بڑا سر اور ایک زرد چہرہ اور بے حد بڑی بڑی پتھرائی ہوئی سی آ نکھیں ہی دیکھ سکے۔

لوگوں نے دیکھا کہ تندرست، چست اور پھرتیلی عورت جو کبھی خوش دلی کے ساتھ اور ان تھک طریقے سے غربت سے جنگ آزما ہوتی تھی اور جس نے دوسروں کو بھی قوت اور توانائی سے سر شار کردیا تھا، اب خاموش اور مضمحل ہوگئی ہے اور دنیا کو غم و حسرت کی نقاب کے اندر سے دیکھنے لگی ہے اور اس کی آ نکھوں میں ایک عجیب سی سوالیہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔

کچھ ہی عرصے کے اندر اندر لوگوں کو اس کی بدقسمتی کا حال معلوم ہوگیا: اس کا بچہ بالکل بدہیئت ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسے چھپائے رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اتنی بدحال اور رنجیدہ رہتی ہے۔

جب پڑوسیوں کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اس سے کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ کسی عورت کے لیے ایسی عجیب الخلقت مخلوق کو جنم دینا کتنی شرم کی بات ہے اور صرف کنواری مریم ہی جانتی ہے کہ وہ اس پھوٹی قسمت کی مستحق تھی یا نہیں۔ لیکن جو کچھ بھی ہو، بچے کا تو کوئی قصور نہیں تھا اور وہ اسے سورج کی روشنی سے محروم رکھنے میں غلطی پر تھی۔

اس نے ان کی بات مان لی اور انہیں اپنے بیٹے کو دکھادیا۔ انہوں نے ایک عجیب الخلقت مخلوق دیکھی جس کے بازو اور ٹانگیں مچھلی کے پروں جیسی چھوٹی چھوٹی تھیں اور ایک پتلی، ہڈیالی گردن پر ایک بے حد بڑا، سوجا ہوا سا سر ڈگمگ ڈگمگ کررہا تھا۔ اس کا چہرہ بوڑھوں کی طرح کا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں اور اس کا بے حد لمبا چوڑا منہ موت کی سی مسکراہٹ کے ساتھ کھلا ہوا تھا۔

عورتیں اس کو دیکھ کر رو پڑیں اور مردوں نے اس کو کراہیت سے دیکھا اور خاموشی سے ایک طرف ہٹ گئے۔ اس عجیب الخلقت مخلوق کی ماں زمین پر بیٹھ گئی، وہ کبھی اپنا منہ چھپالیتی تھی اور کبھی سر اٹھا کر اپنی آ نکھوں میں ایک بے آواز سوال لیے ہوئے اپنے پڑوسیوں کو تکنے لگتی تھی۔

پڑوسیوں نے ایک تا بوت نما صندوق بنایا۔ اسے اون کے بچے کھچے ٹکڑوں اور چیتھڑوں سے بھردیا ور اس کی بدہیئت مخلوق کو اس نرم و گرم بچھونے پر لٹادیا اور صندوق کو احاطے کے ایک سایہ دار حصے میں رکھ دیا۔ انہیں دل ہی دل میں یہ امید تھی کہ سورج جو روز اتنی کرامات دکھاتا ہے، ایک اور معجزہ کردکھائے گا۔

لیکن دن گزرتے چلے گئے اور وہ انتہائی بڑا سر اور وہ چار بے بس ہاتھ پاؤں والا لمبا سا جسم بالکل نہیں بدلا۔ صرف اس کی مسکراہٹ میں رفتہ رفتہ ایک ناقابل آسودگی ندیدے پن کا رنگ آگیا اور اس کے دہن میں تیز اور ٹیڑھے میڑھے دانتوں کی دو قطاریں نظر آنے لگیں۔ اُس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں نے روٹی کے ٹکڑے پکڑنا اور انہیں سیدھا، ٹھیک اپنے بڑے سے گرم منہ میں ڈالنا سیکھ لیا۔

وہ گونگا تھا، لیکن جب کبھی اسے کھانے کی خوشبو آ تی تھی تو وہ رونے جھینکنے لگتا تھا۔ اپنا منہ کھول دیتا تھا اور اپنا بھاری سر ہلاتا تھا۔ اس کی آ نکھوں کے گدلے ڈھیلے سرخ خون کے سے رنگ کے ہوجاتے تھے۔

وہ بہت کھاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کھانے کی صلاحیت بھی بڑھتی گئی اور اس کا رونا جھینکنا چوبیس گھنٹے چلتا رہتا تھا۔ اس کی ماں ان تھک اور جان توڑ محنت کرتی تھی، لیکن اس کی آ مدنی بہت کم تھی اور کبھی کبھی تو وہ کچھ بھی نہیں کھاتی تھی۔ پڑوسیوں کی مدد کو وہ بڑی مجبوری سے اور ہمیشہ بالکل خاموشی سے قبول کرتی تھی، لیکن جب کبھی وہ گھر پر نہیں ہوتی تھی تواس کے ہمسائے ہر وقت کی روں روں سے عاجز آکر دوڑ کے احاطے میں آتے تھے اور روٹی، ترکاری، پھل۔۔۔ غرض ہر کھانے کی قابل چیز اس منہ میں ٹھونس دیتے تھے جسے کھانے کا ہوکا تھا۔

’’کچھ دن جاتے ہیں اور یہ تمہیں بالکل ہڑپ ہی جائے گا۔‘‘ پڑوسیوں نے ماں سے کہا۔ ’’تم آخر اسے کسی ہسپتال یا محتاج خانے میں کیوں نہیں رکھتیں؟‘‘

’’میں نے اسے جنم دیا۔‘‘ وہ گلوگیر ہوکر بولی۔ ’’اور مجھے ہی اس کو کھلانا پلانا چاہیے۔‘‘

وہ ایک خوبصورت عورت تھی اور ایک دو نہیں، کئی آدمی اس کے پریم کے جویا تھے، لیکن بے سود۔ اور اُن میں سے ایک سے جس سے اسے اوروں سے زیادہ گہرا لگاؤ تھا، اس نے کہا:
’’میں تمہاری بیوی نہیں بن سکتی۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایک اور عجیب الخلقت مخلوق کو جنم نہ دے دوں۔ میں تمہاری رسوائی اور جگ ہنسائی نہیں کرانا چاہتی۔‘‘

اس آ دمی نے اسے سمجھا بجھاکر راضی کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اس عورت کو یاد دلایا کہ کنواری مریم ہر ماں پر مہربان ہیں اور ہر ماں کو اپنی بہن سمجھتی ہیں، لیکن عجیب الخلقت مخلوق کی ماں نے جواب دیا:
’’میں نہیں جانتی کہ میں نے کیا گناہ کیا ہے، لیکن دیکھو مجھے کتنی خوفناک سزا ملی ہے۔‘‘

اس آ دمی نے اس کی منت سماجت کی۔ رویا، گڑگڑایا۔ دیوانہ وار ہو گیا لیکن اس نے کہا:
’’نہیں! میں اپنے ایمان کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔ چلے جاؤ!‘‘

اور وہ کہیں دور دیس میں چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔

اور اس طرح کئی سال تک وہ اس اتھاہ دہن کے لیے، اس ہر وقت چلتے ہوئے جبڑے کے لیے روٹی مہیا کرتی رہی۔ وہ اس کی محنت کے پھل ہڑپ کرجاتا تھا اور اس کی زندگی اور اس کے خون کو چوس رہا تھا۔ اس کا سر مسلسل بڑھتا ہی رہا اور بے حد خوفناک اور بڑا ہوگیا۔ وہ ایک بے حد بڑی گیند سے مشابہ تھا جو کسی بھی لمحے اپنے آپ کو اس کمزور اور سوکھی گردن سے الگ کرکے مکانوں کی چھتوں پر چل پڑنے اور کونوں سے ٹکرانے اور کاہلی سے ادھر ادھر ہلنے جلنے والی ہو۔

ہر وہ اجنبی جس کی اتفاق سے احاطے پر نظر جاپڑتی تھی، ٹھٹھک جاتا تھا۔ اس منظر سے اس پر دہشت سی چھا جاتی تھی اور وہ اس کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوتا تھا۔ عشق پیچان کی بیلیں چڑھی ہوئی دیوار کے پاس ایک پتھروں کے ڈھیر کے اوپر۔ گویا کسی قربان گاہ کے اوپر ہو۔ وہ عجیب و غریب شکل کا صندوق رکھا رہتا تھا جس میں سے وہ بدہیئت سر نکلا ہوا نظر آتا تھا۔ سبز عشق پیچاں کے پس منظر میں وہ پیلا، جھریوں پڑا ہوا، چوڑے نقشے والا چہرہ دیکھنے والوں کی توجہ کو کھینچ لیتا تھا اور جو آ دمی اسے ایک دفعہ دیکھ لیتا تھا، وہ آ سانی سے ان ابلتی ہوئی آ نکھوں، ان خالی خالی، تکتی ہوئی نگاہوں، اس چپٹی چوڑی ناک، ان غیر فطری طور پر بڑھے ہوئے گالوں اور گالوں کی ہڈیوں، ان لرزتے ہوئے پلپلے، تھل تھل ہونٹوں کو جن کے بیچ میں سے بے رحم دانتوں کی دو لڑیاں نظر آ تی تھیں اور اس کے بے حد بڑے اور حساس، جانوروں کے سے، کانوں کو جن کی اپنی ایک علیحدہ زندگی معلوم ہوتی تھی، غرض اس پورے کریہہ المنظر، ماسک نما چہرے، جس کے سر پر ایک حبشی کے سے چھوٹے چھوٹے گھونگر پڑے ہوئے سیاہ بالوں کا ایک ڈھیر اگا ہوا تھا، نہیں بھلاسکتا تھا۔

اپنے چھپکلی کے پنجے کے سے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں کوئی کھانے کی چیز پکڑ کے وہ اسے اپنے دانتوں سے کترنے لگتا تھا اور ایک دانہ چگتی ہوئی چڑیا کی طرح اپنا سر آگے پیچھے ہلاتا رہتا تھا اور زور زور سے ناراضگی کی سی آ وازیں نکالتا تھا۔ کھانے کے بعد وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو نظر اٹھاکر دیکھتا تھا اور پھر اپنی آ نکھیں اپنی ناک کے بانسے پر گاڑ لیتا تھا جو اس کے موت کے سے کرب میں مبتلا، تشنجی چہرے پر ایک گدلے گدلے، موٹے دھبے کی شکل میں پڑی ہوئی تھی۔ جب وہ بھوکا ہوتا تھا تو اپنی گردن آگے بڑھالیتا تھا، اپنے لال لال جبڑے کو کھول لیتا تھا اور اپنی لمبی، سانپ کی سی زبان کو اینٹھ اور مروڑ کر کھانے کے لیے رونے جھینکنے لگتا تھا۔

نظارہ کن اس منظر کو دیکھ کر اپنے اوپر صلیب کا نشان بناتے تھے۔ دعائیں پڑھتے تھے اور ایک طرف ہٹ جاتے تھے۔ انہیں اچانک اس تمام شر اور خبا ثت کا اور ان تما م بدنصیبیوں کا خیال آجاتا تھا جن سے انہیں کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔

بوڑھا، تندخو لوہار کئی دفعہ کہہ چکا تھا:
’’جب میں اس سب کچھ ہڑپ کرجانے والے منہ کو دیکھتا ہوں تومجھے خیال ہوتا ہے کہ اسی قسم کی کسی چیز نے میری تمام طاقت کو ہڑپ کرلیا ہے اور مجھے ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ ہم سب دوسروں کا خون چوسنے والوں ہی کے لیے جیتے ہیں اور انہی کے لیے مرتے ہیں۔‘‘

وہ گونگا سر ہر شخص کے دل میں غم آگیں خیالات اور احساسات پیدا کر دیتا تھا جن سے دہشت زدہ ہوکر انسانی روح نفرت اور کراہیت سے دور بھاگتی تھی۔

اس عجیب الخلقت مخلوق کی ماں خاموشی سے اس کے متعلق کہی جانے والی ساری باتوں کو سنتی رہتی تھی۔ اس کے بال بہت تیزی سے سفید ہوگئے۔ اس کے چہرے پر لکیریں پڑگئیں۔ اور ہنسنا تو وہ عرصے سے بھول چکی تھی۔ لوگ جانتے تھے کہ راتوں کو وہ دروازے پر بے حس وحرکت کھڑی آسمان کو تکا کرتی تھی جیسے کسی کی منتظر ہو۔

’’یہ کس چیز کا انتظار کرتی ہے؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے۔

’’اسے پرانے گرجا کے پاس چوک میں رکھ دو!‘‘ اس کے ہمسایوں نے مشورہ دیا۔ ’’وہاں سے اکثر غیر ملکی گزرتے ہیں، وہ ہر روز اس کی طرف دو چار پیسے پھینکنے میں بخل نہیں کریں گے۔‘‘
لیکن ماں اس خیال سے ہی لرز اٹھتی۔

’’بدیشیوں کے سامنے اس کی نمائش کرنا بہت بری بات ہے۔‘‘ ا س نے کہا۔ ’’وہ بھلا ہمارے متعلق کیا سوچیں گے!‘‘

’’غربت کہاں نہیں ہے؟‘‘ انہوں نے اس سے کہا۔ ’’یہ ہر شخص جانتا ہے!‘‘

اس نے سر ہلایا۔

لیکن بدیشی لوگ اکتاکر ہر طرف گھومتے پھرتے تھے اور ہر احاطے میں جھانکتے تھے اور ظاہر ہے ایک دن وہ اسی طرح گھومتے گھامتے اس کے احاطے میں بھی آگئے۔ وہ گھر پر ہی تھی اور اس نے بیکار لوگوں کے چکنے چپڑے چہروں پر نفرت اور کراہیت کا رنگ آتا دیکھا۔ اس نے انہیں اپنے بیٹے کے متعلق باتیں کرتے ہوئے سنا۔ ان کی آنکھیں سکڑگئیں اور ان کے دانت تضحیک کے انداز میں نکل پڑے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ وہ چند الفاظ تھے جو حقارت، مخاصمت اور کھلم کھلا بدباطنی کے اندا ز میں کہہ گئے تھے اور جو اس نے سن لیے تھے۔

اس نے بدیشی آ وازوں کو زبانی یاد کرلیا اور انہیں باربار دُہرایا کیونکہ اس کے دل نے۔۔۔ ایک اطالوی عورت اور ماں کے دل نے۔۔۔ اس توہین کو محسوس کرلیا جو ان الفاظ میں چھپی ہوئی تھی۔ وہ اپنی جان پہچان کے ایک کمشنر کے پاس گئی اور اس سے پوچھا کہ ان الفاظ کا کیا مطلب ہے؟

’’یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس کی زبان سے ادا ہوئے ہیں!‘‘ اس نے تیوری پر بل ڈال کر جواب دیا۔ ’’ان کا مطلب ہے: ’’اٹلی دوسری رومن نسلوں سے زیادہ تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ تم نے یہ جھوٹ بات کہاں سنی؟‘‘

وہ جواب دئیے بغیر چلی گئی۔

اگلے دن اس کا بیٹا زیادہ کھانے کے باعث تشنج اور اینٹھن کے دوروں کے بعد مرگیا۔

وہ احاطے میں صندوق کے پاس بیٹھی تھی اور اس کا ہاتھ اپنے بیٹے کے بے جان سر پر رکھا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے کسی چیز کی منتظر تھی اور ان سب لوگوں کی آنکھوں کے اندر جو لاش کو دیکھنے آرہے تھے، سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

کوئی کچھ نہیں بولا۔ کسی نے اس سے کوئی سوال نہیں کیے، حالانکہ غالباً بہت سے لوگ اس کو اس غلامی سے نجات پانے پر مبارکباد دینا چاہتے تھے اور اسے تسلی تشفی دینا چاہتے تھے۔ کیونکہ کچھ بھی ہو، اس کا بیٹا مرگیا تھا۔ لیکن کوئی کچھ نہیں بولا۔ بعض دفعہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق کچھ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔

اس کے بعد بہت دن تک وہ اپنی آ نکھوں میں وہی بن کہا سوال لیے اپنے پڑوسیوں کو تکتی رہی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھی ان سب ہی کی طرح سادہ دل ہوگئی۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں