ناسٹیلجیا (9) - پروفیسر سلمان باسط

prof salman basit

پروفیسر سلمان باسط [email protected]

آپ بیتی ادب کی ایک ایسی صنف ہے، جس کے ذریعے ہمیں کسی ایسے شخص کے حالاتِ زندگی تک رسائی ہوتی ہے، جس نے زندگی کے کسی بھی شعبے میں نام کمایا ہو۔ بظاہر تو لکھنے والا اپنی داستانِ حیات رقم کرتا ہے لیکن اس کی طرزِ نگارش اور جزیات نگاری اسے جگ بیتی کا درجہ بھی دے دیتی ہے۔
”اردو ٹرائب“ پر ہم ایک ایسی ہی خود نوشت کا سلسلہ وار آغاز کررہے ہیں جسے پڑھ کر آپ اپنی اپنی دنیاؤں میں کھوجائیں گے۔ آپ کا بچپن بھی کسی دروازے کی اوٹ سے جھانکتا دکھائی دے گا اور آپ کی زندگی کے دیگر مراحل کی چاپ بھی آپ کو سنائی دے گی۔
معروف ادیب اور شاعر سلمان باسط کی خود نوشت ”ناسٹیلجیا“ کی نویں قسط پیشِ خدمت ہے۔ آپ کی آرا کا انتظار رہے گا۔


ادب سے محبت اور وابستگی ہمارے خاندان میں رچی بسی تھی۔ میرے محترم دادا جی کے بھائی میراں بخش منہاس پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار تھے۔ ان کا پنجابی ناول ”جٹ دی کرتوت“ ایک حوالے کے طور پر گردانا جاتا ہے۔ وہ بہت عمدہ شاعر اور ناول نگار تھے۔ میرے دادا جی حکیم غلام حیدر بھی صاحبِ دیوان شاعر تھے اور تصوّف ان کا محبوب موضوع تھا۔

دادا جی جن کو ہم ہمیشہ بابا جی کہہ کر پکارا کرتے تھے، ان کی شخصیت میرے لیے ہمیشہ حیران کن رہی۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک سکول ٹیچر تھے۔ ایک ایسے استاد جن کا ذکر محض کتابوں یا بزرگوں کے قصّوں میں ملتا ہے۔ کسی کی چھوٹی چھوٹی بات کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرنا اور دوسروں کے سامنے اس کے اوصاف کو بیان کرنا ان کا وصف تھا۔ انہیں ایک دُھن تھی کہ ان سے متعلق ہر شخص پڑھا لکھا ہو۔ کوئی ایک بات پوچھتا، وہ سو بتاتے۔ بہت نرمی، شفقت اور انہماک سے سکھاتے۔ شوق پیدا کرتے اور رغبت دلانے کے لیے انعام دینے سے بھی نہ چُوکتے۔

ان کی وفات کے بعد ایک روز ان کے اسباب کو کھنگالتے ہوئے میں نے ان کے بنائے ہوئے گرامر کے چارٹ، نصابی کھیلیں اور متنوّع تعلیمی تخلیقات دیکھیں تو دنگ رہ گیا کہ میرے بابا جی اپنے شاگردوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے اور اسباق کو ان کے لیے آسان بنانے کے لیے کتنی محنت کیا کرتے تھے۔

ہمارے خاندان کے اکثر افراد کاروبار سے منسلک تھے مگر ہمارے بابا جی نے ان سب کے بر عکس اپنے اہلِ خانہ کو تعلیم کی طرف راغب کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خاندان کے باقی لوگ دنیاوی لحاظ سے لعل و جواہر میں تُلتے چلے گئے اور ہم کسی پچھتاوے کے بغیر اپنے بابا جی کے متعین کردہ راستے پر گامزن رہے۔ ہم مال و دولت کے انبار تو جمع نہ کرسکے مگر تمام عمر کسی ضرورت کے لیے کسی کے دست نگر بھی کبھی نہ ہوئے۔ اللہ نے اتنی آسودگی دی کہ کسی شے کی دستیابی کے لیے کبھی ترسنا نہ پڑا۔ آج جب میں ایک بہت آسودہ اور مطمئن زندگی بسر کررہا ہوں تو مجھے اپنے بابا جی کی وہ دعا یاد آتی ہے جو وہ اکثر ما نگا کرتے تھے: ”اے اللہ! میرے بچوں کو دولت کی ہوس میں مبتلا نہ کرنا، بس ان کی جائز ضرورتیں خود ہی پوری کردینا۔“

میری دادی جی کی اس وقت کی روایات کے مطابق جب نہایت کم عمری میں شادی ہوئی تو وہ اس سے قبل کبھی سکول کے دروازے سے داخل بھی نہ ہوئی تھیں۔ بابا جی نے شادی کے بعد انہیں پڑھایا۔ بابا جی کس قدر روشن خیال اور پراعتماد تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میری دادی جی کو دو سال کی ٹیچر ٹریننگ کے لیے فیصل آباد سے بہت دور ملتان بھیجا جہاں وہ ایک ہاسٹل میں رہائش پذیر رہیں۔ یہ بھی بتا دوں کہ اس وقت ان کے دو بچے تھے جن میں سے چار پانچ سالہ بڑی بچی کو بابا جی نے نگہداشت کے لیے اپنے پاس گھر رکھا اور چند ماہ کی چھوٹی بچی کو ان کے ساتھ ملتان بھجوادیا۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب میرے دادا جی اور دادی جی دونوں گورنمنٹ سکولوں میں ہیڈ ماسٹر اور ہیڈ مسٹریس کے عہدوں پر فائز تھے۔

بابا جی کی تصوّف سے گہری وابستگی تھی۔ وہ ہمیشہ ایسے بزرگوں کی تلاش میں رہتے جو اللہ کے بہت قریب تھے۔ اللہ کا خوف ان کی روح میں کہیں بہت گہرائی میں بس گیا تھا۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ان کو تہجد گزار پایا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جب ان کو فراغت نصیب ہوئی تو تہجد کے علاوہ بھی تمام نفلی نمازیں ان کے روزمرہ کا معمول بن گئیں۔ چاشت کی نماز میں ان کے خشوع کو میں نے زندگی میں لاتعداد بار دیکھا۔

میرے کانوں میں آج بھی وہ دلربا لحن گونجتا ہے جب وہ چاشت کی نماز کے دوران تلاوت کرتے، مگر ان کے مسلسل گریے کے باعث سننے والے تک ایک ایسی لے پہنچتی جس میں ایک لگاتار ”اں ں ں ں ں ں ں ں“ کی آواز کے علاوہ کچھ نہ ہوتا۔ نوافل کے دوران جب سلام پھیرتے تو آنکھوں سے بہ جانے والے پانی کو رومال سے صاف کرتے ، ایک ٹھنڈی آہ بھر کر ”اللہ اکبر“ کہتے اور پھر نیت باندھ کر قیام کی حالت میں چلے جاتے۔

اس درمیانی وقفے میں بھی وہ اپنے گردو پیش سے مکمل بیگا نہ ہوتے اور ان کو قطعاً اس بات کا اندازہ نہ ہوتا کہ کوئی ان کو کس محویت سے تک رہا ہے۔ ان کے قیام، رکوع اور سجود غیر معمولی طور پر طویل ہوتے۔ میں حیران ہوتا کہ نماز کی تسبیحات تو اتنی طویل نہیں ہوتیں پھر بابا جی اتنی دیر کیوں لگادیتے ہیں، مگر اس زمانے میں ان باتوں کی سمجھ کبھی نہ آئی اور نہ ہی آسکتی تھی۔

بابا جی کے بارے میں ایک واقعہ بہت مشہور ہوا جو بہت سے لوگوں کی زبانی میں نے ان کی وفات کے بعد سنا۔ جب وہ کسی سکول میں استاد تعینات تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔ ٹیسٹ کے خاتمے پر انہوں نے سب کی کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی اپنی کاپی اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ایک قطار میں کھڑا ہوجانے کو کہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جس کی جتنی غلطیاں ہوں گی اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں ماری جائیں گی۔ اگرچہ وہ نرم دل ہونے کے باعث بہت ہی آہستگی سے بچوں کو چھڑی کی سزا دیتے تھے تاکہ ایذا کی بجائے صرف نصیحت ہو مگر سزا کا خوف اپنی جگہ تھا۔ تمام بچے کھڑے ہوگئے۔ بابا جی سب بچوں سے ان کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے جاتے اور اس کے مطابق ان کے ہاتھوں پر چھڑیاں رسید کرتے جاتے۔ ایک بچہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے اور اس سے غلطیوں کی بابت دریافت کیا تو خوف کے مارے اس کے ہاتھ سے کاپی گرگئی اور گھگیاتے ہوئے بولا ”جی میری ساری ہی غلطیاں ہیں۔“ معرفت کی گود میں پلے ہوئے بابا جی اس کے اس جملے کی تاب نہ لاسکے اور ان کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔ ہاتھ سے چھڑی پھینک کر زاروقطار رونے لگے اور بار بار یہ جملہ دہراتے ”یااللہ! مجھے معاف کردینا۔ میری تو ساری ہی غلطیاں ہیں۔“ روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ اس بچے کو ایک ہی بات کہتے ”تم نے یہ کیا کہہ دیا ہے، یہ کیا کہہ دیا ہے میرے بچے!“

دیگر اساتذہ ان کی اس کیفیت کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے بابا جی کو پانی پلایا اور سنبھالا۔ بچے حیرت زدہ ہوکر بابا جی کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ اس بچے کی بظاہر ایک چھوٹی سی بات نے تصوّف کی دنیا کے راہی میرے دردِ _دل رکھنے والے بابا جی کی کیا حالت کردی تھی۔
(جاری ہے)

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں