اپنے دُکھ مجھے دے دو - راجندر سنگھ بیدی

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔

جب چکلی بھابی نے پھسلاکر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی ہوئی اندھیرے کا بھاگ بنی جارہی تھی۔ باہر چکلی بھابی، دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانی میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہوجانے پر بھی مدن کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ جب اسے بیچ رات سے جگایا گیا تو وہ ہڑبڑا رہا تھا۔۔۔

”کہاں کہاں لیے جا رہی ہو مجھے؟“

ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بیت چکے تھے۔ پہلی رات کے بارے میں ان کے شریر شہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کی گونج ان کے کانوں میں باقی نہ رہی تھی۔ وہ خود رس بس چکی تھیں اور اب اپنی ایک اور بہن کو بسانے پر تلی ہوئی تھیں۔ دھرتی کی یہ بیٹیاں مرد کو تو یوں سمجھتی تھیں جیسے بادل کا ٹکڑا ہے، جس کی طرف بارش کے لیے منہ اٹھاکردیکھنا ہی پڑتا ہے۔ نہ برسے تو منتیں ماننی پڑتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہیں۔ جادو ٹونے کرنے ہوتے ہیں۔ حالانکہ مدن کالکا جی کی اس نئی آبادی میں گھر کے سامنے کی جگہ میں پڑا اسی وقت کا منتظر تھا۔ پھر شامت اعمال پڑوسی سبطے کی بھینس اس کی کھاٹ ہی کے پاس بندھی تھی جو بار بار پھنکارتی ہوئی مدن کو سونگھ لیتی تھی اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھاکر اسے دور رکھنے کی کوشش کرتا۔ ایسے میں بھلا نیند کا سوال ہی کہاں تھا؟

سمندر کی لہروں اور عورت کے خون کو راستہ بتانے والا چاند، ایک کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں رکھتا ہے؟ مدن کے اپنے اندر ایک گھن گرج سی ہورہی تھی اور اسے اپنا آپ یوں معلوم ہورہا تھا جیسے بجلی کا کھمبا ہے۔ جسے کان لگانے سے اسے اندر کی سنسناہٹ سنائی دے جائے گی۔ کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ کو کھینچ کر چاندنی میں کردیا تاکہ دلہن کا چہرہ تو دیکھ سکے۔ پھر وہ ٹھٹھک گیا۔ جبھی اس نے سوچا.... اندو میری بیوی ہے، کوئی پرائی عورت تو نہیں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہی سے پڑھتا آیا ہوں۔ شالو میں لپٹی ہوئی دلہن کودیکھتے ہوئے اس نے فرض کرلیا، یہاں اندو کا منہ ہوگا۔ اور جب ہاتھ بڑھاکر اس نے پاس پڑی گٹھڑی کو چھوا تو وہیں اندو کا منہ تھا ۔

مدن نے سوچا تھا وہ آسانی سے مجھے اپنا آپ نہ دیکھنے دے گی۔ لیکن اندو نے ایسا نہ کیا۔ جیسے پچھلے کئی سالوں سے وہ بھی اسی لمحے کی منتظر ہو۔ اور کسی خیالی بھینس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھی نیند نہ آ رہی ہو۔ غائب نیند اور بند آنکھوں کا کرب اندھیرے کے باوجود سامنے پھڑپھڑاتا ہوا نظر آرہا تھا۔ ٹھوڑی تک پہنچتے ہوئے عام طور پر چہرہ لمبوترا ہوجاتا ہے، لیکن یہاں تو سبھی گول تھا۔ شاید اسی لیے چاند نی کی طرف گال اور ہونٹوں کے بیچ ایک سایہ دار کھوہ سی بنی ہوئی تھی۔ جیسی دو سر سبز اور شاداب ٹیلوں کے بیچ ہوتی ہے۔ ماتھا کچھ تنگ تھا، لیکن اس پر سے ایکا ایکی اٹھنے والے گھنگھریالے بال۔۔۔

جبھی اندو نے اپنا چہرہ چھڑالیا، جیسے وہ دیکھنے کی اجازت تو دیتی ہو، لیکن اتنی دیر کے لیے نہیں۔ آخر شرم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔ مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے یوں ہی سی ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھادیا اور شرابی سی آواز میں کہا۔۔۔ ”اندو!“

اندو کچھ ڈر سی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی نے اس کا نام اس انداز سے پکارا تھا اور وہ اجنبی کسی خدائی حق سے رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ اس اکیلی بے یار و مددگار عورت کا اپنا ہوتا جارہا تھا۔ اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کرلیں اور صرف اتنا سا کہا: ”جی“۔۔۔۔ اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔

دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی، سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی۔ اندو کے پتا، اندو کی ماں، اندو کے بھائی، مدن کے بھائی بہن، باپ، ان کی ریلوے سیل سروس کی نوکری، ان کے مزاج، کپڑوں کی پسند، کھانے کی عادت، سبھی کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بیچ بیچ میں مدن بات چیت کو توڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا، لیکن اندو طرح دے جاتی تھی۔ انتہائی مجبوری اور لاچاری میں مدن نے اپنی ماں کاذکر چھیڑ دیا جو اسے سات سال کی عمر میں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتی بنی تھی۔

”جتنی دیر زندہ رہی بیچاری“ مد ن نے کہا۔ ”بابو جی کے ہاتھ میں دوائی کی شیشیاں رہیں۔ ہم اسپتال کی سیڑھیوں پر اور چھوٹا پاشی گھر میں چیونٹیوں کے بل پر سوتے رہے اور آخر ایک دن.... 28 مارچ کی شام....“

اور مدن چپ ہوگیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھی سے ذرا اُدھر پہنچ گیا۔ اندو نے گھبراکر مدن کا سر اپنی چھاتی سے لگالیا۔ اس رونے نے پل بھر میں اندو کو بھی اپنے پن سے ادھر اور بیگانے پن سے اُدھر پہنچا دیا تھا.... مدن اندو کے بارے میں کچھ اور بھی جاننا چاہتا تھا، لیکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے اور کہا: ”میں تو پڑھی لکھی نہیں ہو ں جی.... پر میں نے ماں باپ دیکھے ہیں، بھائی اور بھابیاں دیکھی ہیں، بیسیوں اور لو گ دیکھے ہیں۔ اس لیے میں کچھ سمجھتی بوجھتی ہوں.... میں اب تمہاری ہوں.... اپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں۔“

روتے وقت اور اس کے بعد بھی ایک نشہ سا تھا۔ مد ن نے کچھ بے صبری اور کچھ دریا دلی کے ملے جلے شبدوں میں کہا: ”کیا مانگتی ہو؟ تم جو بھی کہوگی، میں دو ں گا۔“

”پکی بات؟“ اندو بولی۔

مدن نے کچھ اتاولے ہوکر کہا: ”ہاں ہاں.... کہا جو پکی بات۔“

لیکن اس بیچ میں مدن کے من میں ایک وسوسہ آیا.... میرا کاروبار پہلے ہی مندا ہے۔ اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ ہی سے باہر ہو تو پھر کیا ہوگا؟ لیکن اندو نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں سے سمیٹتے ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا:
”تم اپنے دُکھ مجھے دے دو۔“

مدن سخت حیرا ن ہوا۔ ساتھ ہی اپنے آپ پر ایک بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے چاندنی میں ایک بار پھر اندو کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ نہ جان پایا۔ اس نے سوچا یہ ماں یا کسی سہیلی کا رٹا ہوا فقرہ ہوگا جو اندو نے کہہ دیا۔ جبھی ایک جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کی پشت پر گرا۔ اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا:
”دیے....!“ لیکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کی بہیمیت چھین لی تھی۔
****
مہمان ایک ایک کرکے سب رخصت ہوئے۔ چکلی بھابھی دو بچوں کو انگلیوں سے لگائے سیڑھیوں کی اونچ نیچ سے تیسرا پیٹ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ دریا آباد والی پھوپھی جو اپنے ”نولکھے“ ہار کے گم ہوجانے پر شور مچاتی واویلا کرتی ہوئی بے ہوش ہوگئی تھی اور جو غسل خانے میں پڑا ہوا مل گیا تھا، جہیز میں سے اپنے حصے کے تین کپڑے لے کر چلی گئی۔ پھر چاچا گئے، جن کو ان کے جے پی ہونے کی خبر تار کے ذریعے مل گئی تھی جو شاید بد حواسی میں مدن کی بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے۔

گھر میں بوڑھا باپ رہ گیا تھا اور چھوٹے بہن بھائی۔ چھوٹی دلاری تو ہر وقت بھابی کی ہی بغل میں گھسی رہتی۔ گلی محلے کی کوئی عورت دلہن کو دیکھے یا نہ دیکھے، دیکھے تو کتنی دیر دیکھے، یہ سب اس کے اختیار میں تھا۔ آخر یہ سب ختم ہوا اور آہستہ آہستہ پرانی ہو نے لگی، لیکن کالکا جی کی اس نئی آبادی کے لوگ آج بھی آتے جاتے مدن کے سامنے رک جاتے اور کسی بھی بہانے سے اندر چلے آتے۔ اندو انہیں دیکھتے ہی ایک دم گھونگٹ کھینچ لیتی لیکن اس چھوٹے سے وقفے میں جوکچھ دکھائی دے جاتا، وہ بنا گھونگٹ کے دکھائی ہی نہ دے سکتا تھا۔

مدن کا کاروبار گندے بروزے کا تھا۔ کہیں بڑی سپلائی والے دو تین جنگلوں میں چیڑ اور دیودار کے پیڑوں کو جنگ کی آگ نے آلیا تھا اور وہ دھڑ دھڑ جلتے ہوئے خاک سیاہ ہوکر رہ گئے تھے۔ میسور اور آسام کی طرف سے منگوایا ہوا بروزہ مہنگا پڑتا تھا اور لوگ اسے مہنگے داموں خریدنے پر تیار نہ تھے۔ ایک تو آمدنی کم ہوگئی تھی۔ اس پر مدن جلد ہی دکان اور اس کے ساتھ والا دفتر بند کرکے گھر چلا آتا۔۔۔

گھر پہنچ کر اس کی ساری کوشش یہی ہوتی کہ سب کھائیں پئیں اور اپنے اپنے بستروں میں دبک جائیں۔ جبھی وہ کھاتے وقت خود تھالیاں اٹھا اٹھاکر باپ اور بہن کے سامنے رکھتا اور ان کے کھاچکنے کے جھوٹے برتنوں کو سمیٹ کر نل کے نیچے رکھ دیتا۔ سب سمجھتے بہو۔۔۔ بھابی نے مدن کے کان میں کچھ پھونکا ہے اور اب وہ گھر کے کام کاج میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ مدن سب سے بڑا تھا۔ کندن اس سے چھوٹا اور پاشی سب سے چھوٹا۔ جب کندن بھابی کے سواگت میں سب کے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے پر اصرار کرتا تو باپ دھنی رام وہیں ڈانٹ دیتا۔
”کھاؤ تم۔“ وہ کہتا: ”وہ بھی کھالیں گے۔“ اور پھر رسوئی میں ادھر ادھر دیکھنے لگتا اور جب بہو کھانے پینے سے فارغ ہوجاتی اور برتنو ں کی طرف متوجہ ہوتی تو بابو دھنی رام اسے روکتے ہوئے کہتے: ”رہنے دو بہو برتن صبح ہوجائیں گے۔“
اندو کہتی: ”نہیں بابو جی.... میں ابھی کیے دیتی ہیں جھپاکے سے۔“
تب بابو دھنی رام ایک لرزتی ہوئی آواز میں کہتے: ”مدن کی ماں ہوتی بہو، تو یہ سب تمہیں نہ کرنے دیتی....؟“ اور اندو ایک دم اپنے ہاتھ روک لیتی۔
چھوٹا پاشی بھابی سے شرماتا تھا۔ اس خیال سے کہ دلہن کی گود جھٹ سے ہری ہو، چمکی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی نے ایک رسم میں پاشی ہی کو اندو کی گود میں ڈالا تھا۔ جب سے اندو اسے نہ صرف دیور بلکہ اپنا بچہ سمجھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ پیار سے پاشی کو اپنے بازؤں میں لینے کی کوشش کرتی تو وہ گھبرا اٹھتا اور اپنا آپ چھڑاکر دو ہاتھ کی دوری پر کھڑا ہوجاتا۔ دیکھتا اور ہنستا رہتا۔ پاس آتا تو دور ہٹتا۔

ایک عجیب اتفاق سے، ایسے میں بابو جی ہمیشہ وہیں موجود ہوتے اور پاشی کو ڈانتے ہوئے کہتے: ”ارے جانا.... بھابی پیار کرتی ہے، ابھی سے مرد ہوگیا تو؟“۔۔۔ اور دلاری تو پیچھا ہی نہ چھوڑتی۔ اس کے ”میں تو بھابی کے ساتھ ہی سوؤں گی“ کے اصرار نے بابوجی کے اندر کوئی جنار دھن جگادیا تھا۔

ایک رات اسی بات پر دلاری کو زور سے چپت پڑی اور وہ گھر کی آدھی کچی، آدھی پکی نالی میں جاگری۔ اندو نے لپکتے ہوئے پکڑا تو سر پر سے دوپٹا اُڑ گیا۔ بالوں کے پھول اور چڑیاں، مانگ کا سیندور، کانوں کے کرن پھول سب ننگے ہوگئے۔ ”بابو جی!“ اندو نے سانس کھینچتے ہوئے کہا.... ایک ساتھ دلاری کو پکڑنے اور سر پر دوپٹا اوڑھنے میں اندو کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس بے ماں بچی کو چھاتی سے لگائے ہوئے اندو نے اسے ایک ایسے بستر میں سلادیا جہاں سرہانے ہی سرہانے، تکیے ہی تکیے تھے۔ نہ کہیں پائنتی تھی نہ کاٹھ کے بازو۔ چوٹ تو ایک طرف، کہیں کو چبھنے والی چیز بھی نہ تھی۔ پھر اندو کی انگلیاں دلاری کے پھوڑے ایسے سر پر چلتی ہوئی اسے دُکھا بھی رہی تھیں اور مزا بھی دے رہی تھیں۔ دلاری کے گالوں پر بڑے بڑے اور پیارے پیارے گڑھے پڑتے تھے۔ اندو نے ان گڑھوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: ”ہائے ری منی! تیری ساس مرے، کیسے گڑھے پڑرہے ہیں گالوں پر....!“ منی نے منی ہی کی طرح کہا: ”گڑھے تمہارے بھی تو پڑتے ہیں بھابی۔“
”ہاں منو!“ اندو نے کہا اور ایک ٹھنڈا سانس لیا۔

مدن کو کسی بات پر غصہ تھا۔ وہ پاس ہی کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔ بولا: ”میں تو کہتا ہوں ایک طرح سے اچھا ہی ہے۔“

”کیوں اچھا کیوں ہے؟“ اندو نے پوچھا۔

”ہاں.... نہ اُگے بانس نہ بجے بانسری.... ساس نہ ہو تو کوئی جھگڑا نہیں رہتا۔“

اندو نے ایکا ایکی خفا ہوتے ہوئے کہا: ”تم جاؤ جی سورہو جاکے.... بڑے آئے ہو.... آدمی جیتا ہے تو لڑتا ہے نا؟ مر گھٹ کی چپ چاپ سے جھگڑے بھلے۔ جاؤ نا، رسوئی میں تمہارا کیا کام؟“

مدن کھسیانا ہوکر رہ گیا۔ بابو دھنی رام کی ڈانٹ سے باقی بچے تو پہلے ہی اپنے اپنے بستروں میں یوں جا پڑے تھے جیسے ڈاک گھر میں چٹھیاں سارٹ ہوتی ہیں، لیکن مدن وہیں کھڑا رہا۔ احتیاج نے اسے ڈھیٹ اور بے شرم بنادیا تھا، لیکن اس وقت جب اندو نے بھی اسے ڈانٹ دیا تو وہ روہانسا ہوکر اندر چلا گیا۔

دیر تک مدن بسترمیں پڑا کسمساتا رہا لیکن بابو جی کے خیال سے اندو کو آواز دینے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس کی بے صبری کی حد ہوگئی جب منی کو سلانے کے لیے اندو کی لوری کی آواز سنائی دی.... ”تو آ نندیا رانی، بورائی مستانی۔“

وہی لوری جو دلاری منی کو سلارہی تھی، مدن کی نیند بھگا رہی تھی۔ اپنے آپ سے بیزار ہوکر اس نے زور سے چادر کھینچ لی۔ سفید چادر کے سر پر لینے اور سانس کے بند کرنے سے خواہ مخواہ ایک مردے کا تصور پیدا ہوگیا۔ مدن کو یوں لگا جیسے وہ مر چکا ہے اور اس کی دلہن اندو اس کے پاس بیٹھی زور زور سے سر پیٹ رہی ہے، دیوار کے ساتھ کلائیاں مار مار کر چوڑیاں توڑ رہی ہے اور پھر باہر لپک جاتی ہے اور بانہیں اٹھا اٹھاکر اگلے محلے کے لوگوں سے فریاد کرتی ہے:
”لوگو! میں لٹ گئی۔“
اب اسے دوپٹے کی پروا نہیں، قمیص کی پروا نہیں۔ مانگ کا سیندور، بالوں کے پھول اور چڑیاں سب ننگے ہوچکے ہیں۔ جذبات اور خیالات کے طوطے تک اڑچکے ہیں۔

مدن کی آنکھوں سے بے تحاشا آنسو بہہ رہے تھے۔ حالانکہ رسوئی میں اندو ہنس رہی تھی۔ پل بھرمیں اپنے سہاگ کے اجڑنے اور پھر بس جانے سے بے خبر۔۔۔

مدن جب حقائق کی دنیا میں واپس آیا تو آنسو پونچھتے ہوئے اپنے اس رونے پر ہنسنے لگا.... ادھر اندو ہنس تو رہی تھی، لیکن اس کی ہنسی دبی دبی تھی۔ بابو جی کے خیال سے وہ کبھی اونچی آواز میں نہ ہنستی تھی، جیسے کھلکھلاہٹ کوئی ننگا پن ہے، خاموشی، دوپٹا اور دبی دبی ہنسی ایک گھونگٹ۔ پھر مدن نے اندو کا ایک خیالی بت بنایا اور اس سے بیسیوں باتیں کرڈالیں۔ یوں اس سے پیار کیا جیسے ابھی تک نہ کیا تھا.... وہ پھر اپنی دنیا میں لوٹا جس میں ساتھ کا بستر خالی تھا۔ اس نے ہولے سے آواز دی.... ”اندو....“ اور پھر چپ ہوگیا۔ اس ادھیڑ بن میں وہ بورائی مستانی نند یا اس سے بھی پلٹ گئی۔ ایک اونگھ سی آئی، لیکن ساتھ ہی یوں لگاجیسے شادی کی رات والی، پڑوسی سبطے کی بھینس منہ کے پاس پھنکارنے لگی ہے۔ وہ ایک بے کلی کے عالم میں اٹھا، پھر رسوئی کی طرف دیکھتے، سر کو کھجاتے دو تین جماہی لے کر لیٹ گیا.... سوگیا۔

مدن جیسے کانوں کو کوئی سندیسہ دے کر سویا تھا۔ جب اندو کی چوڑیاں بستر کی سلوٹیں سیدھی کرنے سے کھنک اٹھیں تو وہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ یوں ایک دم جاگنے میں محبت کا جذبہ اور بھی تیز ہوگیا تھا۔ پیار کی کروٹوں کو توڑے بغیر آدمی سوجائے اور ایکا ایکی اٹھے تو محبت دم توڑ دیتی ہے۔ مدن کا سارا بدن اندر کی آگ سے پھنک رہا تھا۔ اور یہی اس کے غصے کا کرن بن گیا۔ جب اس نے کچھ بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا:
”سو، تم.... آگئیں؟“
”ہاں!“
”منی.... سو مر گئی؟“

اندو جھکی جھکی ایک دم سیدھی کھڑی ہوگئی۔ ”ہائے رام!“ اس نے ناک پر انگلی رکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔۔۔ ”کیا کہہ رہے ہو؟.... مرے کیوں بیچاری؟ ماں باپ کی ایک ہی بیٹی۔“

”ہاں....“ مدن نے کہا۔ ”بھابھی کی ایک ہی نند۔“ اور پھر ایک دم تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا: ”زیادہ منہ مت لگاؤ اس چڑیل کو۔“

”کیوں اس میں کیا پاپ ہے؟“

”یہی پاپ ہے“ مدن نے اور چڑتے ہوئے کہا۔ ”وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی تمہارا۔ جب دیکھو جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ دفان ہی نہیں ہوتی۔“

”ہا....“ اندو نے مدن کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ”بہنوں اور بیٹیوں کو یوں تو دھتکارنا نہیں چاہیے۔ بیچاری دو دن کی مہمان۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، ایک دن تو چل ہی دے گی۔“

اس کے بعد اندو کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن وہ چپ ہوگئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں باپ، باپ، بھائی، بہن، چچا، تایا سبھی گھوم گئے۔ کبھی وہ بھی ان کی دلاری تھی۔ جو پلک جھپکتے ہی نیاری ہو گئی اور پھر دن رات اس کے نکالےجانے کی باتیں ہونے لگیں۔ جیسے گھر میں کوئی بڑی سی بانبی ہے جس میں کوئی ناگن رہتی ہے۔ اور جب تک وہ پکڑکر پھنکوائی نہیں جاتی، گھر کے لوگ آرام کی نیند سو نہیں سکتے۔ دور دور سے کیلنے والے، نتھن کرنے والے۔ دانت پھوڑنے والے ماندری بلوائے گئے۔ بڑے دھنوتری اور موتی ساگر۔۔۔ آخر ایک دن اتر پچھم کی طرف سے لال آندھی آئی جو صاف ہوئی تو ایک لاری کھڑی تھی جس میں گوٹے کناری میں لپٹی ہوئی ایک دلہن بیٹھی تھی، پیچھے گھر میں، ایک سر پر بجتی ہوئی شہنائی بین کی آواز معلوم ہورہی تھی۔ پھر ایک دھچکے کے ساتھ لاری چل دی۔۔۔۔

مدن نے کچھ برافروختگی کے عالم میں کہا.... ”تم عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہو۔ ابھی کل ہی اس گھر میں آئی ہو اور یہاں کے سب لوگ تمہیں ہم سے زیادہ پیارے لگنے لگے؟“

”ہاں!“ اندو نے اثبات میں کہا۔

”یہ سب جھوٹ ہے.... یہ ہو ہی نہیں سکتا۔“

”تمہار مطلب ہے میں....“

”دکھاوا ہے یہ سب.... ہاں!“

”اچھا جی؟“ اندو نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا۔ ”یہ سب دکھاوا ہے میرا؟“ اور اندو اٹھ کر اپنے بستر پر چلی گئی اور سرہانے میں منہ چھپاکر سسکیاں بھرنے لگی۔ مدن اسے منانے والا ہی تھا کہ اندو خود ہی اٹھ کر مدن کے پاس آگئی اور سختی سے اس کاہاتھ پکڑتے ہوئے بولی: ”تم جو ہر وقت جلی کٹی کہتے رہتے ہو.... ہوا کیا ہے تمہیں؟“
شوہرانہ رعب داب کے لیے مدن کے ہاتھ بہانا آگیا۔ ”جائو جائو۔۔۔ سوجائو جاکے۔“ مدن نے کہا: ”مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔“

”تمہیں کچھ نہیں لینا، مجھے تو لینا ہے۔“ اندو بولی۔ زندگی بھر لینا ہے اور وہ چھینا جھپٹی کرنے لگی۔ مدن اسے دھتکارتا تھا اور وہ اسے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ وہ اس مچھلی کی طرح تھی جو بہاؤ میں بہہ جانے کی بجائے آبشار کے تیز دھارے کو کاٹتی ہوئی اوپر ہی اوپر پہنچنا چاہتی ہو۔ چٹکیاں لیتی، ہاتھ پکڑتی، روتی ہنستی وہ کہہ رہی تھی:
”پھر مجھے، پھاپھا کٹنی کہو گے؟“
”وہ تو سبھی عورتیں ہوتی ہیں۔“

”ٹھہرو.... تمہاری تو....“ یوں معلوم ہوا جیسے اندو کوئی گالی دینے والی ہو.... اور اس نے منہ میں کچھ منمنایا بھی۔ مدن نے مڑتے ہوئے کہا: ”کیا کہا؟“ اور اندو نے اب کی سنائی دینے والی آواز میں دہرادیا۔ مدن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اگلے ہی لمحے اندو مدن کے بازوؤں میں تھی اور کہہ رہی تھی: ”تم مرد لوگ کیا جانو؟.... جس سے پیار ہوتا ہے، اس کے سبھی عزیز پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا باپ، کیا بھائی اور کیا بہن....“ اور پھر ایکا ایکی دور سے دیکھتی ہوئے بولی: ”میں تو دلاری منی کا بیاہ کروں گی۔“

”حد ہوگئی۔“ مدن نے کہا: ”ابھی ایک ہاتھ کی ہوئی نہیں اور بیاہ کی بھی سوچنے لگیں؟“

”تمہیں ایک ہاتھ کی دِکھتی ہے نا؟“ اندو بولی اور پھر اپنے دونوں ہاتھ مدن کی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگی: ”ذرا آنکھیں بند کرو اور پھر کھولو۔۔۔“

مدن نے سچ مچ ہی آنکھیں بند کرلیں اور پھر جب کچھ دیر تک نہ کھولیں تو اندو بولی: ”اب کھولو بھی.... اتنی دیر میں تو میں بوڑھی ہوجاؤں گی۔۔۔ جبھی مدن نے آنکھیں کھولیں۔ لمحہ بھر کے لیے اسے یوں لگا جیسے سامنے اندو نہیں، کوئی اور بیٹھی ہے اور وہ کھو سا گیا۔
”میں نے تو ابھی سے چار سوٹ اور کچھ برتن الگ کرڈالے ہیں اس کے لیے۔“ اندو نے کہا اور جب مدن نے کوئی جواب نہ دیا تو اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی: ”تم کیوں پریشان ہوتے ہو؟۔۔۔ یاد نہیں اپنا وچن؟۔۔۔ تم اپنے دُکھ مجھے دے چکے ہو۔“

”ایں؟“ مدن نے چونکتے ہوئے کہا اور جیسے بے فکر سا ہوگیا، لیکن اب کے جب اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہ ایک جسم ہی نہیں رہ گیا تھا، ساتھ ساتھ ایک روح بھی شامل ہوگئی تھی۔
****
مدن کے لیے اندو روح ہی روح تھی۔ اندو کے جسم بھی تھا، لیکن وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے مدن کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ ایک پردہ تھا۔ خواب کے تاروں سے بنا ہوا، آہوں کے دھویں سے رنگین، قہقہوں کی زرتاری سے چکاچوند، جو ہر وقت اندو کو ڈھانپے رہتا تھا۔ مدن کی نگاہیں اور اس کے ہاتھوں کے دو شناسن صدیوں سے اس دروپدی کا چیر ہرن کرتے آئے تھے جو کہ عرف عام میں بیوی کہلاتی ہے، لیکن ہمیشہ اسے آسمانوں سے تھانوں کے تھان، گزوں کے گز کپڑا ننگا پن ڈھاپننے کے لیے ملتا آیا تھا۔ دو شاسن تھک ہار کے یہاں وہاں گرے پڑے تھے، لیکن دروپدی وہیں کھڑی تھی۔ عزت اور پاکیزگی کی سفید ساڑی میں ملبوس وہ دیوی لگ رہی تھی اور۔۔۔
مدن کے لوٹتے ہوئے ہاتھ خجالت کے پسینے سے تر ہوتے، جنہیں سُکھانے کے لیے وہ انہیں اوپر ہوا میں اُٹھادیتا اور پھر ہاتھ کے پنجوں کو پورے طور پر پھیلاتا ہوا ایک تشنجی کیفیت میں اپنی آنکھوں کی پھیلتی پھٹتی ہوئی پتلیوں کے سامنے رکھ دیتا۔ اور پھر اُنگلیوں کے بیچ میں سے جھانکتا۔۔۔ اندو کا مرمریں جسم، خوش رنگ اور گداز سامنے پڑا ہوتا۔ استعمال کے لیے پاس، ابتذال کے لیے دور۔۔۔ کبھی اندو کی ناکہ بندی ہوجاتی تو اس قسم کے فقرے ہوتے:
”ہائے جی! گھر میں چھوٹے بڑے سبھی ہیں، وہ کیا کہیں گے؟“
مدن کہتا: ”چھوٹے سمجھتے نہیں، بڑے سمجھ جاتے ہیں۔“
****

اسی دوران میں بابو دھنی رام کی تبدیلی سہارنپور ہوگئی۔ وہاں وہ ریلوے میل سروس میں سلیکشن گریڈ کے ہیڈکلرک ہوگئے۔ اتنا بڑا کوارٹر ملا کہ اس میں آٹھ کنبے رہ سکتے تھے، لیکن بابو دھنی رام اس میں اکیلے ہی ٹانگیں پھیلائے پڑے رہتے۔ زندگی بھر وہ بال بچوں سے کبھی علیحدہ نہیں ہوئے تھے۔ سخت گھریلو قسم کے آدمی، آخری زندگی میں اس تنہائی نے ان کے دل میں وحشت پیدا کردی، لیکن مجبوری تھی۔ بچے سب دلی میں مدن اور اندو کے پاس تھے اور وہیں اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ سال کے خاتمے سے پہلے انہیں بیچ میں سے اُٹھانا ان کی پڑھائی کے لیے اچھا نہ تھا۔ بابوجی کو دل کے دورے پڑنے لگے۔۔۔

بارے گرمی کی چھٹیاں ہوئیں اور ان کے بار بار لکھنے پر مدن نے اندو کو کندن، پاشی اور دلاری کے ساتھ سہارنپور بھیج دیا۔ دھنی رام کی دنیا چہک اُٹھی۔ کہاں انہیں دفتر کے کام کے بعد فرصت ہی فرصت تھی اور کہاں اب کام ہی کام تھا۔ بچے، بچوں ہی کی طرح، جہاں کپڑے اُتارتے وہیں پڑے رہنے دیتے اور بابوجی انہیں سمیٹتے پھرتے، اپنے مدن سے دور، السائی ہوئی رتی، اندو تو اپنے پہناوے تک سے غافل ہوگئی تھی۔ وہ رسوئی میں یوں پھرتی تھی جیسے کانجی ہائوس میں گائے باہر کی طرف منہ اُٹھااٹھاکر اپنے مالک کو ڈھونڈا کرتی ہے۔ کام دھام کرنے کے بعد وہ کبھی اندر ٹرنکوں پر لیٹ جاتی، کبھی باہر کنبر کے بوٹے کے پاس اور کبھی آم کے پیڑ تلے، جو آنگن میں سیکڑوں ہزاروں دلوں کو تھامے کھڑا تھا۔

ساون بھادوں میں دھلنے لگا۔ آنگن میں سے باہر کا دریچہ کھلتا تو کنواریاں، نئی بیاہی ہوئی لڑکیاں پینگ بڑھاتے ہوئے گاتیں۔ جھولا کن نے ڈارو ورے امریاں۔ اور پھر گیت کے بول کے مطابق دو جھولتیں اور دو جھلاتیں اور کہیں چار مل جاتیں تو بھول بھلیاں ہوجاتیں۔ ادھیڑ عمر کی اور بوڑھی عورتیں ایک طرف کھڑی تکاکرتیں۔ اندو کو معلوم ہوتا جیسے وہ بھی ان میں شامل ہوگئی ہے۔ جبھی وہ منہ پھیرلیتی اور ٹھنڈی سانسیں بھرتی ہوئی سوجاتی۔ بابوجی پاس سے گزرتے تو اسے جگانے اور اٹھانے کی ذرا بھی کوشش نہ کرتے، بلکہ موقع پاکر اس کی شلوار کو، جو بہو دھوتی سے بدل آتی اور جسے وہ ہمیشہ اپنی ساس والے پرانے صندل کے صندوق پر پھینک دیتی، اٹھاکر کھونٹی پر لٹکادیتے۔ ایسے میں انہیں سب سے نظریں بچانا پڑتیں، لیکن ابھی شلوار کو سمیٹ کر مڑتے، تو نگاہ نیچے کونے میں بہو کے محرم پر پڑجاتی۔ تب ان کی ہمت جواب دے جاتی اور وہ یوں شتابی کمرے سے نگل بھاگتے جیسے سانپ کا بچہ بل سے باہر آگیا ہو۔ پھر برآمدے میں ان کی آواز سنائی دینے لگتی۔ اوم نموم بھگوتے واسو دیوا....

اڑوس پڑوس کی عورتوں نے بابو جی کی بہو کی خوبصورتی کی داستانیں دور دور تک پہنچادی تھیں۔ جب کوئی عورت بابو جی کے سامنے بہو کے پیارے پن اور سڈول جسم کی باتیں کرتی تو وہ خوشی سے پھول جاتے اور کہتے: ”ہم تو دھنیہ ہوگئے، امی چند کی ماں! شکر ہے ہمارے گھر میں بھی کوئی صحت والا جیو آیا۔“ اور یہ کہتے ہوئے ان کی نگاہیں کہیں دور پہنچ جاتیں، جہاں دق کے عارضے تھے۔ دوائی کی شیشیاں، اسپتال کی سیڑھیاں یا چیونٹیوں کے بل۔ نگاہ قریب آتی تو موٹے موٹے گدرائے ہوئے جسم والے کئی بچے بغل میں، جانگھ پر، گردن پرچڑھتے اترتے ہوئے محسوس ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا جیسے ابھی اور آرہے ہیں۔ پہلو پر لیٹی ہوئی بہو کی کمر زمین کے ساتھ اور کولہے چھت کے ساتھ لگ رہے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ بچے جنتی جارہی ہے اور ان بچوں کی عمر میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔“ سبھی ایک سے جڑواں.... توام.... اوم نمو بھگوتے....

آس پاس کے سب لوگ جان گئے تھے اندو بابو جی کی چہیتی بہو ہے۔ چنانچہ دودھ اور چھاچھ کے مٹکے دھنی رام کے گھر آنے لگے اور پھر ایک دم سلام دین گوجر نے فرمائش کردی۔ اندو سے کہا: ”بی بی میرا بیٹا آر۔ ایم۔ ایس میں قلی رکھوادو۔ اللہ تم کو اچھا دے گا۔“ اندو کے اشارے کی دیر تھی کہ سلام دین کا بیٹا نوکر ہوگیا، وہ بھی سارٹر، جو نہ ہوسکا اس کی قسمت، آسامیاں ہی زیادہ نہ تھیں۔

بہو کے کھانے پینے اور اس کی صحت کا بابو جی خیال رکھتے تھے۔ دودھ پینے سے اندو کو چڑ تھی۔ وہ رات کے وقت خود دودھ کو باٹی میں پھینٹ، گلاس میں ڈال، بہو کو پلانے کے لیے اس کی کھٹیا کے پاس آجاتے۔ اندو اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے اٹھتی اور کہتی: ”نہیں بابو جی مجھ سے نہیں پیا جاتا۔“

”تیرا تو سسر بھی پییے گا۔“ وہ مذاق سے کہتے۔

”تو پھر آپ پی لیجیے نا۔“ اندو ہنستی ہوئی جواب دیتی اور بابو جی ایک مصنوعی غصے سے برس پڑتے۔ ”تو چاہتی ہے بعد میں تیری بھی وہی حالت ہو جو تیری ساس کی ہوئی؟“

”ہوں.... ہوں....“ اندو لاڈ سے روٹھنے لگتی۔ آخر کیوں نہ روٹھتی۔ وہ لوگ نہیں روٹھتے جنہیں منانے والا کوئی نہ ہو، لیکن یہاں منانے والے سب تھے، روٹھنے والا صرف ایک۔ جب اندو بابو جی کے ہاتھ سے گلاس نہ لیتی تو وہ اسے کھٹیا کے پاس سرہانے کے نیچے رکھ دیتے.... اور ”لے یہ پڑا ہے.... تیری مرضی ہے پی.... نہیں مرضی تو نہ پی....“ کہتے ہوئے چل دیتے۔

اپنے بستر پر پہنچ کر دھنی رام، دلاری منی کے پاس کھیلنے لگتے۔ دلاری کی بابو جی کے ننگے پنڈے کے ساتھ پنڈا گھسانے اور پھر پیٹ پر منہ رکھ کر پھٹکڑا پھلانے کی عادت تھی۔ آج جب بابو جی اور منی یہ کھیل کھیل رہے تھے، ہنس ہنسا رہے تھے، تو منی نے بھابی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ”دودھ تو کھراب ہوجائے گا بابوجی۔۔۔ بھابی تو پیتی ہی نہیں۔“

”پیے گی ضرور پیے گی بیٹا....“ بابو جی نے دوسرے ہاتھ سے پاشی کو لپٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ”عورتیں گھر کی کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔“

ابھی یہ فقرہ بابو جی کے منہ ہی میں ہوتا کہ ایک طرف سے ”ہش.... ہے خصم کھانی“ کی آواز آنے لگتی۔ پتا چلتا بہو بلی کو بھگارہی ہے.... اور پھر کوئی غٹ غٹ سی سنائی دیتی اور سب جان لیتے بہو.... بھابی نے دودھ پی لیا۔ کچھ دیر کے بعد کندن، بابو جی کے پاس آتا اور کہتا: ”بوجی.... بھابی رو رہی ہے۔“

”ہائیں؟“ بابو جی کہتے اور پھر اٹھ کر اندھیرے میں دور اسی طرف دیکھنے لگتے جدھر بہو کی چارپائی پڑی ہوتی۔ کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ پھر لیٹ جاتے اور کچھ سمجھتے ہوئے کندن سے کہتے: ”جا.... تو سو جا.... وہ بھی سو جائے گی اپنے آپ۔“

اور پھر لیٹتے ہوئے بابو دھنی رام آسمان پر کھلے ہوئے پرماتما کے گلزار کودیکھنے لگتے اور اپنے من میں بھگوان سے پوچھتے.... ”چاندی کے ان کھلتے، بند ہوتے ہوئے پھولوں میں میرا پھول کہا ہے؟“ اور پھر پورا آسمان انہیں درد کا ایک دریا دکھائی دینے لگتا اور کانوں میں ایک مسلسل ایک ہاؤ ہو کی آواز سنائی دیتی جسے سنتے ہوئے وہ کہتے: ”جب سے دنیا بنی ہے، انسان کتنا رویا ہے!“ اور روتے روتے سوجاتے۔
****

اندو کے جانے سے بیس پچیس روز ہی میں مدن نے واویلا شروع کردیا۔ اس نے لکھا میں بازار کی روٹیاں کھاتے کھاتے تنگ آگیا ہوں۔ مجھے قبض ہوگیا ہے۔ گردے کا درد شروع ہوگیا ہے۔ پھر جیسے دفتر کے لوگ چھٹی کی غرضی کے ساتھ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ بھیج دیتے ہیں، مدن نے بابو جی کو ایک دوست سے تصدیق کی چھٹی لکھوا بھیجی۔ اس پر بھی جب کچھ نہ ہوا تو ایک ڈبل تار.... جوابی....

جوابی تار کے پیسے مارے گئے لیکن بلا سے۔ اندو اور بچے لوٹ آئے تھے۔ مدن نے اندو سے دو دن سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔ یہ دکھ بھی اندو ہی کا تھا۔ ایک دن مدن کو اکیلے میں پاکر وہ پکڑ بیٹھی اور بولی: ”اتنا منہ پھلائے بیٹھے ہو.... میں نے کیا کیاہے؟“

مدن نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے کہا: ”چھوڑ.... دور ہوجا میر آنکھوں سے.... کمینی....“

”یہی کہنے کے لیے اتنی دور سے بلوایا ہے؟“
”ہاں!“
”ہٹاؤ اب۔“

”خبردار.... یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے۔ جو تم آنا چاہتی تو کیا بابو جی روک لیتے؟“

اندو نے بے بسی سے کہا: ”ہائے جی.... تم تو بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ میں بھلا انہیں کیسے کہہ سکتی تھی؟ سچ پوچھو تو تم نے مجھے بلواکر بابو جی پر بڑا جلم کیا ہے۔“
”کیامطلب ؟“
”مطلب کچھ نہیں.... ان کا جی بہت لگا ہوا تھا بال بچوں میں۔“
”اور میرا جی؟“
”تمہارا جی؟“.... ”تم تو کہیں بھی لگاسکتے ہو۔“ اندو نے شرارت سے کہا اور کچھ اس طرح سے مدن کی طرف دیکھا کہ اس کی مدافعت کی ساری قوتیں ختم ہوگئیں۔ یوں بھی اسے کسی اچھے سے بہانے کی تلاش تھی۔ ا س نے اندو کو پکڑکر سینے سے لگالیا اور بولا: ”بابو جی تم سے بہت خوش تھے؟“

”ہاں“ اندو بولی۔ ”ایک دن میں جاگی تو دیکھا سرہانے کھڑے مجھے دیکھ رہے ہیں۔“

”یہ نہیں ہو سکتا۔“

”اپنی قسم!“

”اپنی قسم نہیں.... میری قسم کھاؤ۔“

”تمہاری قسم تو میں نا کھاتی.... کوئی کچھ بھی دے۔“

”ہاں!“ مدن نے سوچتے ہوئے کہا۔ ”کتابوں میں اسے سیکس کہتے ہیں۔“
”سیکس؟“ اندو نے پوچھا۔ ”وہ کیا ہوتا ہے؟“

”وہی جو مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے۔“

”ہائے رام!“ اندو نے ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا: ”گندے کہیں کے.... شرم نہیں آئی بابو جی کے بارے میں ایسا سوچتے ہوئے؟“
”بابوجی کو شرم نہ آئی تجھے دیکھتے ہوئے؟“

”کیوں؟“ اندو نے بابو جی کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ ”وہ اپنی بہو کودیکھ کر خوش ہورہے ہوں گے۔“
”کیوں نہیں۔ جب بہو تم ایسی ہو۔“

”تمہارا من گندا ہے۔“ اندو نے نفرت سے کہا۔ ”اسی لیے تو تمہارا کاروبار بھی گندے بروزے کا ہے۔ تمہاری کتابیں سب گندگی سے بھری پڑ ی ہیں۔ تمہیں اور تمہاری کتابوں کو اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے تو جب میں بڑی ہوگئی تھی تو میرے پتا جی نے مجھ سے ادھک پیار کرنا شروع کردیا تھا۔ تو کیاوہ بھی.... وہ تھا نگوڑا.... جس کا تم ابھی نام لے رہے تھے؟“ اور پھر اندو بولی: ”بابو جی کو یہاں بلالو۔ ان کا وہاں جرا بھی جی نہیں لگتا۔ وہ دکھی ہوں گے تو کیا تم دکھی نہیں ہوگے؟“

مدن اپنے باپ سے بہت پیا ر کرتا تھا۔ اسے اچھی طرح سے یاد تھا۔ ماں کے بیمار رہنے کے باعث جب بھی اس کی موت کا خیال مدن کے دل میں آتا تو وہ آنکھیں موند کر پرارتھنا شروع کردیتا۔۔۔ اوم نمو بھگوتے واسودیوا۔ اوم نمو۔۔۔ اب وہ نہیں چاہتا تھا کہ باپ کی چھترچھایا بھی سر سے اُٹھ جائے۔ خاص طورپر ایسے میں جب کہ وہ اپنے کاروبار کو بھی جما نہیں پایا تھا۔ اس نے غیریقینی لہجے میں اندو سے صرف اتنا کہا:
۩”ابھی رہنے دو باباجی کو۔ شادی کے بعد ہم دونوں پہلی بار آزادی کے ساتھ مل سکے ہیں۔“

تیسرے چوتھے روز بابوجی کا آنسوئوں میں ڈوبا ہوا خط آیا۔ میرے پیارے مدن کے تخاطب میں میرے پیارے کے الفاظ شوریانی میں دھل گئے تھے۔ لکھا تھا:

”بہو کے یہاں ہونے پر میرے تو وہی پرانے دن لوٹ آئے تھے.... تمہاری ماں کے دن، جب ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ تو وہ بھی ایسی ہی الہڑ تھی۔ ایسے ہیا ُتارے ہوئے کپڑے اِدھر اُدھر پھینک دیتی اور پتا جی سمیٹتے پھرتے۔ وہی صندل کا صندوق، وہی بیسیوں خلجگن.... میں بازار جارہا ہوں، کچھ نہیں تو دہی بڑے یا ربڑی لارہا ہوں۔ اب گھر میں کوئی نہیں۔ وہ جگہ جہاں صندل کا صدوق پڑا تھا، خالی ہے....“ اور پھر ایک آدھ سطر اور دھل گئی۔

آخر میں لکھا تھا:
”دفتر سے لوٹتے سمے یہاں کے بڑے بڑے اندھے کمروں میں داخل ہوتے ہوئے میرے من میں ایک ہول سا اُٹھتا ہے.... اور پھر....“ بہو کا خیال رکھنا، اسے کسی ایسی ویسی دایہ کے حوالے مت کرنا۔“

اندو نے دونوں ہاتھوں سے چٹھی پکڑلی، سانس کھینچی، آنکھیں پھیلاتی، شرم سے پانی پانی ہوتے ہوئے بولی: ”میں مرگئی، بابوجی کو کیسے پتا چل گیا؟“

مدن نے چٹھی چھڑاتے ہوئے کہا: ”بابوجی کیا بچے ہیں؟ دنیا دیکھی ہے۔ ہمیں پیدا کیا ہے۔“

”ہاں مگر!“ اندو بولی۔ ”ابھی دن ہی کے ہوئے ہیں؟“
اور پھر اس نے ایک تیز سی نظر اپنے پیٹ پر ڈالی جس نے ابھی بڑھنا بھی نہیں شروع کیا تھا۔ اور پھر بابوجی یا کوئی اور دیکھ رہا ہو اس نے ساڑی کا پلو اس پر کھینچ لیا اور کچھ سوچنے لگی۔ جبھی ایک چمک سی اس کے چہرے پر آئی اور وہ بولی:
”تمہاری سسرال سے شیرینی آئے گی۔“
”میری سسرال؟.... اوہاں“ مدن نے راستہ پاتے ہوئے کہا....
کتنی شرم کی بات ہے۔ ابھی چھ آٹھ مہینے شادی کو ہوئے ہیں اور چلا آیا ہے۔“ اور اس نے اندو کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔
”چلا آیا ہے یا تم لائے ہو؟“
”تم.... یہ سب قصور تمہارا ہے، کچھ عورتیں ہوتی ہی ایسی ہیں۔“
”تمہیں پسند نہیں؟“
”ایک دم نہیں۔“
”کیوں؟“
”چار دن تو مزے لے لیتے زندگی کے۔“
”کیا یہ جندگی کا مجا نہیں؟“ اندو نے صدمہ زدہ لہجے میں کہا۔ ”مرد عورت شادی کس لیے کرتے ہیں؟ بھگوان نے بن مانگے دے دیا نا؟ پوچھو ان سے جن کے نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیا کچھ کرتی ہیں؟ پیروں فقیروں کے پاس جاتی ہیں۔ سمادھیوں، مجاوروں پر چوٹیاں باندھتی، شرم وحیا کو تج کر، دریائوں کے کنارے ننگی ہورک، سرکنڈے کاٹتی.... شمشانوں میں مسان جگاتی....“

”اچھا! اچھا۔“ مدن بولا۔ ”تم نے بکھان ہی شروع کردیا۔ اولاد کے لیے تھوڑی عمر پڑی تھی؟“
”ہوگا تو!“ اندو نے سرزنش کے انداز میں اُنگلی اُٹھاتے ہوئے کہا.... ”جب تم اسے ہاتھ بھی مت لگانا۔ وہ تمہارا نہیں میرا ہوگا۔ تمہیں تو اس کی جرورت نہیں پر اس کے دادا کو بہت ہے یہ میں جانتی ہوں۔“

اور پھر کچھ خجل، کچھ صدمہ زدہ ہورک اندو نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا۔ وہ سوچتی تھی پیٹ میں اس ننھی سی جان کو پالینے کے سلسلے میں اس جان کا ہوتا سوتا تھوڑی بہت ہمدردی تو کرے گا لیکن مدن چپ چاپ بیٹھا رہا۔ ایک لفظ بھی اس نے منہ سے نہ نکالا۔ اندو نے چہرے پر سے ہاتھ اُٹھاکر مدن کی طرف دیکھا اور ہونے والی پہلوٹن کے خاص انداز میں بولی: ”وہ تو جو کچھ میں کہہ رہی ہوں، سب پیچھے ہوگا۔ پہلے تو میں بچوں گی ہی نہیں.... مجھے بچپن ہی سے وہم ہے اس بات۔“

مدن جیسے خائف ہوگیا۔ یہ ”خوبصورت چیز“ جو حاملہ ہونے کے بعد اور بھی خوبصورت ہوگئی ہے، مرجائے گی؟ اس نے پیٹھ کی طرف سے اندو کو تھام لیا اور پھر کھینچ کر اپنے بازوئوں میں لے آیا اور بولا: ”تجھے کچھ نہ ہوگا اندو.... میں تو موت کے منہ سے بھی چھین کے لے آئوں گا تجھے.... اب ساوتری کی نہیں ستیہ دان کی باری ہے....“

مدن سے لپٹ کر اندو بھول ہی گئی کہ اس کا اپنا بھی کوئی دُکھ ہے....

اس کے بعد بابو جی نے کچھ نہ لکھا، البتہ سہارنپور سے ایک سارٹر آیا جس نے صرف اتنا بتایا کہ بابو جی کو پھر سے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ایک دورے میں تو وہ قریب قریب چل ہی بسے تھے۔ مدن ڈر گیا، اندو رونے لگی، سارٹر کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح مدن نے آنکھیں موند لیں اور من ہی من میں پڑھنے لگا.... ”اوم نمو بھگوتے....“

دوسرے روز ہی مدن نے باپ کو چٹھی لکھی.... ”بابوجی! چلے آؤ.... بچے بہت یاد کرتے ہیں اور آپ کی بہو بھی ....“ لیکن آخر نوکری تھی۔ اپنے بس کی بات تھوڑی تھی۔ دھنی رام کے خط کے مطابق وہ چٹھی کا بندوبست کررہے تھے.... ان کے بارے میں دن بہ دن مدن کا احساس جرم بڑھنے لگا.... ”اگر میں اندو کو وہیں رہنے دیتا تو میرا کیا بگڑتا....؟“

وجے دشمی سے ایک رات پہلے مدن اضطراب کے عالم میں بیچ والے کمرے کے باہر برآمدے میں ٹہل رہا تھا کہ اندر سے بچے کے رونے کی آواز آئی اور وہ چونک کر دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم دایہ باہر آئی اور بولی: ”مبارک ہو بابو جی.... لڑکا ہوا ہے۔“

”لڑکا ؟“ مدن نے کہا اور پھر متفکرانہ لہجے میں بولا: ”بی بی کیسی ہے؟“

بیگم بولی: ”خیر مہر ہے.... میں نے ابھی تک اسے لڑکی ہی بتائی ہے.... زچہ زیادہ خوش ہوجائے تو ا س کی آنول نہیں گرتی نا؟“

”او....“ مدن نے بیوقوفوں کی طرح آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا اور پھر کمرے میں جانے کے لیے آگے بڑھا۔ بیگم نے اسے وہیں روک دیا اور کہنے لگی: ”تمہارا اندر کیا کام؟“ اور پھر ایکا ایکی دروازہ بھیڑ کر اندر لپک گئی۔

مدن کی ٹانگیں ابھی تک کانپ رہی تھیں۔ اس وقت خوف سے نہیں تسلی سے یا شاید اس لیے کہ جب کوئی اس دنیا میں آتا ہے تو ارد گرد کے لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ مدن نے سن رکھا تھا جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو گھر کے در و دیوار لرزنے لگتے ہیں۔ گویا ڈر رہے ہیں کہ بڑا ہوکر ہمیں بیچے گا یا رکھے گا۔ مدن نے محسوس کیا کہ جیسے سچ مچ ہی دیواریں کانپ رہی تھیں.... زچگی کے لیے چکلی بھابی تو نہ آئی تھیں کیونکہ اس کا اپنا بچہ بہت چھوٹا تھا، البتہ دریا آباد والی پھوپھی ضرور پہنچی تھی جس نے پیدائش کے وقت رام، رام، رام، رام کی رٹ لگا دی تھی اور اب وہی رٹ مدھم ہورہی تھی۔

زندگی بھر مدن کو اپنا آپ اس قدر فضول اور بیکار نہ لگا تھا۔ اتنے میں پھر دروازہ کھلا اور پھوپھی نکلی۔ برآمدے کی بجلی کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ بھوت کے چہرے کی طرح ایک دم دودھیا سفید نظر آرہا تھا۔ مدن نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا.... ”اندو ٹھیک ہے نا پھوپھی۔“

”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، ٹھیک۔“ پھوپھی نے تین چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ مدن کے سر پر رکھ کر اسے نیچا کیا، چوما اور باہر لپک گئی....

پھوپھی برآمدے کے دروازے میں سے باہر جاتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ وہ بیٹھک میں پہنچی جہاں باقی بچے سو رہے تھے۔ پھوپھی نے ایک ایک کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پھر چھت کی طرف آنکھیں اٹھاکر منہ میں کچھ بولی اور پھر نڈھال سی ہوکر منی کے پاس لیٹ گئی.... اوندھی.... اس کے پھڑکتے ہوئے شانوں سے پتا چل رہا تھا جیسے رو رہی ہے۔ مدن حیران ہوا.... پھوپھی تو کئی زچگیوں سے گزر چکی ہے، پھر کیوں اس کی روح کانپ اٹھی ہے....؟

پھر ادھر کے کمرے سے ہرمل کی بُو باہر لپکی۔ دھوئیں کا ایک غبار سا آیا، جس نے مدن کا احاطہ کرلیا۔ اس کا سر چکرا گیا۔ جبھی بیگم دایہ کپڑے میں کچھ لپیٹے ہوئے باہر نکلی۔ کپڑے پر خون ہی خون تھا، جس میں کچھ قطرے نکل کر فرش پر گرگئے۔ مدن کے ہوش اڑ گئے۔ اسے معلوم نہ تھاکہ وہ کہا ں ہے، آنکھیں کھلی تھیں پر کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ بیچ میں اندو کی ایک مرگھلی سی آواز آئی: ”ہائے....“ اور پھر بچے کے رونے کی آواز....

تین چار دن میں بہت کچھ ہوا۔ مدن نے گھر کے ایک طرف گڑھا کھو د کر آنول کو دبا دیا۔ کتوں کو اندر آنے سے روکا، لیکن اسے کچھ یاد نہ تھا۔ اسے یوں لگا جیسے ہرمل کی بُو دماغ میں بس جانے کے بعد آج ہی اسے ہوش آیا ہے۔ کمرے میں وہ اکیلا ہی تھا اور اندو.... نند اور جسودھا.... اور دوسری طرف نندلال.... اندو نے بچے کی طرف دیکھا اور کچھ ٹوہ لینے کے سے انداز میں بولی: ”بالکل تم ہی پر گیا ہے۔“

”ہوگا۔“ مدن نے ایک اچٹتی ہوئی نظر بچے پر ڈالتے ہوئے کہا۔ ”میں تو کہتا ہوں شکر ہے بھگوان کا تم بچ گئیں۔“

”ہاں!“ اندو بولی۔ ”میں تو سمجھتی تھی....“

”شبھ شبھ بولو۔“ مدن نے ایک دم اندو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”یہاں تو جو کچھ ہوا ہے.... میں تو اب تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔“ اور مدن نے زبان دانتوں تلے دبالی۔
”توبہ کرو۔“ اندو بولی۔

مدن نے اسی دم کان اپنے ہاتھ سے پکڑلیے... اور اندو نحیف آواز میں ہنسنے لگی۔

بچہ پیدا ہونے کے کئی روز تک اندو کی ناف ٹھکانے پر نہ آئی۔ وہ گھوم گھوم کر اس بچے کو تلاش کر رہی تھی جو اب اس سے پرے باہر کی دنیا میں جاکر اپنی اصلی ماں کو بھول گیا تھا۔

اب سب کچھ ٹھیک تھا اور اندو شانتی سے اس دنیا کو تک رہی تھی.... معلوم ہوتا تھا اس نے مدن ہی کے نہیں دنیا بھر کے گناہگاروں کے گناہ معاف کردئیے ہیں اور اب دیوی بن کر دیا اور کرونا کے پرساد بانٹ رہی ہے....

مدن نے اندو کے منہ کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا.... اس سارے خون خرابے کے بعد کچھ دبلی ہوکر اندو اور بھی اچھی لگنے لگی ہے.... جبھی ایکا ایکی اندو نے دونوں ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ لیے۔
”کیاہوا؟“ مدن نے پوچھا۔
”کچھ نہیں۔“ اندو تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کرکے بولی۔ ”اسے بھوک لگی ہے۔“ اور اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔

”اسے؟.... بھوک؟....“ مدن نے پہلے بچے کی طرف اور پھر اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”تمہیں کیسے پتا چلا؟“

”دیکھتے نہیں؟“ اندو نیچے کی طرف نگاہ کرتے ہوئے بولی۔ ”سب کچھ گیلا ہوگیا ہے۔“

مدن نے غورسے ڈھیلے ڈھالے گلے کی طرف دیکھا۔ جھر جھر دودھ بہہ رہا تھا اور ایک خاص قسم کی بو آرہی تھی۔ پھر اندو نے بچے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا:
”اسے مجھے دے دو!“
مدن نے ہاتھ پنگھوڑے کی طرف بڑھایا اور اسی دم کھینچ لیا۔ پھر کچھ ہمت سے کام لیتے ہوئے اس نے بچے کو یوں اٹھایا جیسے وہ کوئی مرا ہوا چوہا ہو۔ آخر اس نے بچے کو اندو کی گود میں دے دیا۔ اندو مدن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی: ”تم جاؤ.... باہر....“
”کیوں؟“.... باہر کیوں جاؤں؟“ مدن نے پوچھا۔

”جاؤ نا....“ اندو نے کچھ مچلتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔ ”تمہارے سامنے میں دودھ نہیں پلاسکوں گی۔“

”ارے؟“ مدن حیرت سے بولا: ”میرے سامنے؟.... نہیں پلاسکے گی۔“ اور پھر نا سمجھی کے انداز میں سر کو جھٹکا دے کر باہر کی طرف چل نکلا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر مڑتے ہوئے اندو پر ایک نگاہ ڈالی۔ اتنی خوبصورت اندو آج تک نہیں لگی تھی!

بابو دھنی رام چھٹی پر گھر لوٹے تو وہ پہلے سے آدھے دکھائی پڑتے تھے۔ جب اندو نے پوتا ان کی گود میں دیا تو وہ کھل اٹھے۔ ان کے پیٹ کے اندر کوئی پھوڑا نکل آیا تھا جو چوبیس گھٹنے انہیں سولی پر لٹکائے رکھتا۔ اگر منا نہ ہوتا تو بابو جی کی اس سے دس گنا بری حالت ہوتی۔

کئی علاج کیے گئے۔ بابوجی کے آخری علاج میں ڈاکٹر نے ادھنی کے برابر گولی پندرہ بیس کی تعداد میں روز کھانے کو دیں۔ پہلے ہی دن انہیں اتنا پسینہ آیا کہ دن میں تین تین چار چار بار کپڑے بدلنے پڑے۔ ہر بار مدن کپڑے اتارکر بالٹی میں نچوڑتا۔ صرف پسینے سے ہی بالٹی ایک چوتھائی ہوگئی تھی۔ رات انہیں متلی سی محسوس ہونے لگی تھی اور انہوں نے پکارا....
”بہو! ذرا داتن تو دینا، ذائقہ بہت خراب ہورہا ہے۔“ بہو بھاگی ہوئی گئی اور داتن لے آئی۔ بابو جی اٹھ کر داتن چبا ہی رہے تھے کہ ایک ابکائی کیا آئی، ساتھ ہی خون کا پرنالا لے آئی۔ بیٹے نے واپس سرہانے کی طرف لٹایا تو ان کی پتلیاں پھر چکی تھیں اور کوئی ہی دم میں وہ اوپر آسمان کے گلزار میں پہنچ چکے تھے، جہاں انہوں نے اپنا پھول پہچان لیا تھا....

منے کو پیدا ہوئے کُل بیس پچیس روز ہوئے تھے۔ اندو نے منہ نوچ کر، سر اور چھاتی پیٹ پیٹ کر خود کونیلا کرلیا۔ مدن کے سامنے وہی منظر تھا جو اس نے تصور میں اپنے مرنے پر دیکھا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نے چوڑیاں توڑنے کی بجائے اتار کے رکھ دی تھیں۔ سر پر راکھ نہیں ڈالی تھی، لیکن زمین پر سے مٹی لگ جانے اور بالوں کے بکھر جانے سے چہرہ بھیانک ہوگیا تھا۔ ”لوگو! میں لٹ گئی۔“ کی جگہ اس نے ایک دل دوز آواز میں چلانا شروع کردیا تھا: ”لوگو! ہم لٹ گئے!“

گھر بارکا کتنا بوجھ مدن پر آپڑا تھا۔ اس کا ابھی مدن کو پوری طرح اندازہ نہ تھا۔ صبح ہونے تک اس کا دل لپک کر منہ میں آگیا۔ وہ شاید بچ نہ پاتا اگر وہ گھر کے باہر بدرو کے کنارے سیل چڑھی مٹی پر اوندھا لیٹ کر، اپنے دل کو ٹھکانے پر نہ لاتا.... دھرتی ماں نے چھاتی سے لگاکر اپنے بچے کو بچالیا تھا۔ چھوٹے بچے کندن، دلاری منی، پاشی یوں چلا رہے تھے جیسے گھونسلے پر شکرے کے حملے پر چڑیا کے بونٹ چونچیں اٹھا اٹھاکر چیں چیں کرتے ہیں، انہیں اگر کوئی پروں کے اندر سمیٹتی تھی تو اندو....

نالی کے کنارے پڑے پڑے مدن نے سوچا اب تو یہ دنیا میرے لیے ختم ہوگئی ہے۔ کیا میں جی سکوں گا؟ زندگی میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟

وہ اٹھا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلا آیا۔

سیڑھیوں کے نیچے غسل خانہ تھا جس میں گھس کر اندر سے کواڑ بند کرتے ہوئے مدن نے ایک بار پھر اس سوال کو دہرایا.... ”میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟“ اور وہ کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔ حالانکہ اس کے باپ کی لاش ابھی پاس ہی بیٹھک میں پڑی تھی۔

باپ کو آگ میں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارتھی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا۔ تس پر بھی وہ رو نہ رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماتم میں شریک ہونے والے رشتہ دار محلے والے سن سے رہ گئے۔

پھر ہندو راج کے مطابق سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے مدن کو چتا جلانی پڑی۔ جلتی ہوئی کھوپڑی میں کپال کرپا کی لاٹھی مارنی پڑی.... عورتیں باہر ہی سے شمشان کے کنویں پر نہاکر لوٹ چکی تھیں۔ جب مدن گھر پر پہنچا تو وہ کانپ رہا تھا۔ دھرتی ماں نے تھوڑی دیر کے لیے جو طاقت اپنے بیٹے کو دی تھی، رات گھر آنے پر پھر سے ہول میں ڈھل گئی.... اسے کوئی سہارا چاہیے تھا۔ کسی ایسے جذبے کا سہارا جو موت سے بھی بڑا ہو۔ اس وقت دھرتی ماں کی بیٹی، جنک دلاری اندو نے کسی گھڑے میں سے پیدا ہوکر اس رام کو اپنی بانہوں میں لے لیا.... اس رات کو اگر اندو اپنا آپا یوں مدن پر نثار نہ کرتی تو اتنا بڑا دکھ مدن کو لے ڈوبتا۔
***
دس ہی مہینے کے اندر اندر اندو کا دوسرا بچہ چلا آیا۔ بیوی کو اس دوزخ کی آگ میں دھکیل کر مدن خود اپنا دکھ بھول گیا تھا۔ کبھی کبھی اسے خیال آتا اگر میں شادی کے بعد بابو جی کے پاس گئی ہوئی اندو کو نہ بلالیتا تو شاید وہ اتنی جلدی نہ چل دیتے، لیکن پھر وہ باپ کی موت سے پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے میں لگ جاتا.... کاروبار جو پہلے بے توجہی کی وجہ سے بند ہوگیا تھا.... مجبوراً چل نکلا....

ان دنوں بڑے بچے کو مدن کے پاس چھوڑکر، چھوٹے کو چھاتی سے لگائے اندو میکے چلی گئی تھی۔ پیچھے منا طرح طرح کی ضد کرتا تھا جو کبھی مانی جاتی تھی اور کبھی نہیں بھی۔ میکے سے اندو کا خط آیا.... مجھے یہاں اپنے بیٹے کے رونے کی آواز آرہی ہے، اسے کوئی مارتا تو نہیں....؟ مدن کو بڑی حیرت ہوئی.... ایک جاہل، ان پڑھ عورت.... ایسی باتیں کیسے لکھ سکتی ہے؟ پھر اس نے اپنے آپ سے پوچھا.... ”کیا یہ بھی کوئی رٹا ہوا فقرہ ہے....؟“

سال گزر گئے۔ پیسے کبھی اتنے نہ آئے تھے کہ ان میں سے کچھ عیش ہوسکے لیکن گزارے کے مطابق آمدنی ضرور ہوجاتی تھی۔ دقت اس وقت ہوتی جب کوئی بڑا خرچ سامنے آجاتا.... کندن کا داخلہ دینا ہے، دلاری منی کا شگن بھجوانا ہے۔ اس وقت مدن منہ لٹکاکر بیٹھ جاتا اور پھر اندو ایک طرف سے آتی، مسکراتی ہوئی اور کہتی.... ”کیوں دکھی ہورہے ہو؟“ مدن اس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتا.... ”دکھی نہ ہوں؟ کندن کا بی۔ اے کا داخلہ دینا ہے.... منی.... “ اندو پھر ہنستی اور کہتی.... ”چلو میرے ساتھ“ اور مدن بھیڑ کے بچے کی طرح اندو کے پیچھے چل دیتا۔ اندو صندل کے صندوق کے پاس پہنچتی جسے کسی کو، مدن سمیت ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی۔ کبھی کبھی اس بات پر خفا ہوکر مدن کہتا: ”مروں تو اسے بھی چھاتی پر ڈال کر لے جانا۔“ اور اندو کہتی: ”ہاں! لے جاؤں گی۔“ پھر اندو وہاں سے مطلوبہ رقم نکال کر سامنے رکھ دیتی۔
”یہ کہاں سے آگئے؟“

”کہیں سے بھی آئے.... تمہیں آم کھانے سے مطلب ہے کہ....“
”پھر بھی؟“
”تم جاؤ اپنا کام چلاؤ۔“

اور جب مدن زیادہ اصرار کرتا تو اندو کہتی: ”میں نے ایک سیٹھ دوست بنایا ہے نا۔“ اور پھر ہنسنے لگتی....

جھوٹ جانتے ہوئے بھی مدن کو یہ مذاق اچھا نہ لگتا۔ پھر اندو کہتی: ”میں چور لٹیرا ہوں.... تم نہیں جانتے؟.... سخی لٹیرا.... جو ایک ہاتھ سے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریب گربا کو دے دیتا ہے“.... اس طرح منی کی شادی ہوئی جس پر ایسی ہی لوٹ کے زیور بکے، قرضہ چڑھا اور پھر اتر بھی گیا....

ایسے ہی کندن بھی بیاہا گیا۔ ان شادیوں میں اندو ہی ہتھ بھرا کرتی تھی اور ماں کی جگہ کھڑی ہوجاتی۔ آسمان سے بابو جی اور ماں دیکھا کرتے اور پھول برساتے جو کسی کو نظر نہ آتے۔ پھر ایسا ہوا، اوپر ماں اور بابو جی میں جھگڑا چل گیا۔ ماں نے بابو جی سے کہا: ”تم تو بہو کے ہاتھ کی پکی کھا آئے ہو، اس کا سکھ بھی دیکھا ہے پر میں نصیبوں جلی نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔“.... اور یہ جھگڑا وشنو، مہیش اور شو تک پہنچا۔ انہوں نے ماں کے حق میں فیصلہ دیا.... اور یوں ماں، مات لوک میں آکر بہو کی کوکھ میں پڑی.... اور اندو کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی....

پھر اندو ایسی دیوی بھی نہ تھی۔ جب کوئی اصول کی بات ہوتی تو نند دیور کیا خود مدن سے بھی بھڑجاتی.... مدن راست بازی کی اس پتلی کو خفا ہوکر ہریش چندر کی بیٹی کہا کرتا تھا۔ چونکہ اندو کی باتوں میں الجھاؤ ہونے کے باوجود سچائی اور دھرم قائم رہتے تھے، اس لیے مدن اور کنبے کے باقی سب لوگوں کی آنکھیں اندو کے سامنے نیچے ہی رہتی تھیں۔ جھگڑا کتنا بھی بڑھ جائے، مدن اپنے شوہری زعم میں کتنا بھی اندو کی بات کو رد کردے، لیکن آخر سبھی سر جھکائے ہوئے اندو ہی کی شرن میں آتے تھے اور اسی سے چھما مانگتے تھے۔

نئی بھابھی آئی، کہنے کو تو وہ بھی بیوی تھی، لیکن اندو ایک عورت تھی، جسے بیوی کہتے ہیں۔ اس کے الٹ چھوٹی بھابھی رانی ایک بیوی تھی جسے عورت کہتے ہیں۔ رانی کے کارن بھائیوں میں جھگڑا ہوا اور جے پی چاچا کی معرفت جائیداد تقسیم ہوئی جس میں ماں باپ کو جائیدات تو ایک طرف، اندو کی اپنی بنائی ہوئی چیزیں بھی تقسیم کی زد میں آگئیں اور اندو کلیجا مسوس کر رہ گئی۔

جہاں سب کچھ مل جانے کے بعد اور الگ ہوکر بھی کندن اور رانی ٹھیک سے نہیں بس سکے تھے، وہاں اندو کا نیا گھر دنوں ہی میں جگ مگ کر نے لگا۔

بچی کی پیدائش کے بعد اندو کی صحت وہ نہ رہی۔ بچی ہر وقت اندو کی چھاتیوں سے چمٹی رہتی جہاں سبھی گوشت کے اس لوتھڑے پر تھو تھو کرتے تھے، وہاں ایک اندو تھی جو اسے کلیجے سے لگائے پھرتی لیکن کبھی خود پریشان ہو اٹھتی اور بچی کو سامنے جھلنگے میں پھینکتے ہوئے کہہ اٹھتی.... ”تو مجھے جینے بھی دے گی.... ماں....؟“ اور بچی چلا چلا کر رونے لگتی۔

مدن اندو سے کٹنے لگا۔ شادی سے لے کر اس وقت تک اسے وہ عورت نہ ملی تھی جس کا وہ متلاشی تھا۔ گندہ بروزہ بکنے لگا اور مدن نے بہت سا روپیہ اندو سے بالا بالا خرچ کرنا شروع کردیا۔ بابو جی کے چلے جانے پرکوئی پوچھنے والا بھی تو نہ تھا، پوری آزادی تھی۔

گویا پڑوسی سبطے کی بھینس پھر مدن کے منہ کے پاس پھنکارنے لگی، بار بار پھنکارنے لگی۔ شادی کی رات والی بھینس تو بک چکی تھی، لیکن اس کا مالک زندہ تھا۔ مدن اس کے ساتھ ایسی جگہوں پر جانے لگا جہاں روشنی اور سائے عجیب بے قاعدہ سی شکلیں بناتے ہیں۔ نکڑ پر بھی کبھی اندھیرے کی تکون بنتی ہے اور اوپر کھٹ سے روشنی کی ایک چوکور آکر اسے کاٹ دیتی ہے۔ کوئی تصویر پوری نہیں بنتی۔ معلوم ہوتا ہے بغل سے ایک پاجامہ نکلا اور آسمان کی طرف اڑ گیا یا کسی کوٹ نے دیکھنے والے کا منہ پوری طرح سے ڈھانپ لیا اور کوئی سانس کے لیے تڑپنے لگا۔ جبھی روشنی کی ایک چوکور ایک چوکھٹا بن گئی اور اس میں ایک صورت آکر کھڑی ہوگئی۔ دیکھنے والے نے ہاتھ بڑھایا تو وہ آر پار چلا گیا۔ جیسے وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ پیچھے کوئی کتا رونے لگا۔ اوپر طبل نے اس کی آواز ڈبو دی۔

مدن کو اس کے تصور کے خدو خال ملے، لیکن ہر جگہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے آرٹسٹ سے ایک غلط خط لگ گیا یا ہنسی کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند تھی اور مدن.... بے داغ صناعی اور متوازن ہنسی کی تلاش میں کھوگیا....

سبطے نے اس وقت اپنی بیوی سے بات کی جب اس کی بیگم نے مدن کو مثالی شوہر کی حیثیت سے سبطے کے سامنے پیش کیا، پیش ہی نہیں کیا بلکہ منہ پر مارا۔ اس کو اٹھاکر سبطے نے بیگم کے منہ پر دے مارا۔ معلوم ہوتا تھا کسی خونیں تربوز کا گودا ہے جس کے رگ و ریشے بیگم کی ناک، اس کی آنکھوں اور کانوں پر لگے ہوئے ہیں۔ کروڑ کروڑ گالی بکتی ہوئی بیگم نے حافظے کی ٹوکری میں سے گودا اور بیج اٹھائے اور اندو کے صاف ستھرے صحن میں بکھیر دئیے۔

ایک اندو کی بجائے دو اندو ہوگئیں۔ ایک تو اندو خود تھی اور دوسری ایک کانپتا ہوا خط جو اندو کے پورے جسم کا احاطہ کیے ہوئے تھا اور جو نظر نہیں آرہا تھا....

مدن کہیں بھی جاتا تھا تو گھر سے ہوکر.... نہا دھو، اچھے کپڑے پہن، مگہی کی ایک جوڑی جس میں خوشبودار قوام لگا ہوا، منہ میں رکھ کر.... لیکن اس دن مدن گھر آیا تو اندو کی شکل ہی دوسری تھی۔ اس نے چہرے پر پوڈر تھوپ رکھا تھا۔ گالوں پر روج لگا رکھی تھی۔ لپ اسٹک نہ ہونے پر ہونٹ ماتھے کی بندی سے رنگ لیے تھے.... اور بال کچھ اس طریقے سے بنالیے تھے کہ مدن کی نظریں ان میں الجھ کر رہ گئیں۔

”کیا بات ہے آج؟“ مدن نے حیران ہو کر پوچھا۔

”کچھ نہیں“ اندو نے مدن سے نظریں بچاتے ہوئے کہا۔ ”آج فرصت ملی ہے۔“

شادی کے پندرہ برس گزر جانے کے بعد اندو کو آج فرصت ملی تھی! اور وہ بھی اس وقت جبکہ چہرے پر جھائیاں چلی آئی تھیں۔ ناک پر ایک سیاہ کاٹھی بن گئی تھی اور بلاؤز کے نیچے، ننگے پیٹ کے پاس کمر پر چربی کی دو تہیں دکھائی دینے لگی تھیں.... آج اندو نے ایسا بندوبست کیا تھا کہ ان عیوب میں سے ایک بھی چیز نظر نہ آتی تھی.... یوں بنی ٹھنی، کسی کسائی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی....

”یہ نہیں ہوسکتا....“

مدن نے سوچا اور اسے ایک دھچکا سا لگا۔ اس نے پھر ایک بار مڑ کر اندو کی طرف دیکھا.... جیسے گھوڑوں کے بیوپاری کسی نامی گھوڑی کی طرف دیکھتے ہیں.... وہاں گھوڑی بھی تھی اور لال لگام بھی.... یہاں جو غلط خط لگے تھے، شرابی آنکھوں کو نہ دِکھ سکے.... اندو سچ مچ خوبصورت تھی۔ آج بھی پندرہ سال کے بعد پھولاں، رشیدہ، مسز رابرٹ اور ان کی بہنیں ان کے سامنے پانی بھرتی تھیں.... پھر مدن کو رحم آنے لگا اور ایک ڈر....!

آسمان پر کوئی خاص بادل بھی نہ تھے، لیکن پانی پڑنا شروع ہوگیا۔ گھر کی گنگا طغیانی پر تھی اور اس کا پانی کناروں سے نکل نکل کر پوری ترائی اور اس کے آس پاس بسنے والے گاؤئوں اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا اسی رفتار سے پانی بہتا رہا تو اس میں کیلاش پربت بھی ڈوب جائے گا.... ادھر بچی رونے لگی۔ ایسا رونا جو وہ آج تک نہ روئی تھی۔

مدن نے اس کی آواز سن کر آنکھیں بند کرلیں، کھولیں تو بچی سامنے کھڑی تھی۔ جوان عورت بن کر.... نہیں نہیں، وہ اندو تھی۔ اپنی ماں کی بیٹی، اپنی بیٹی کی ماں جو اپنی آنکھوں کے دنبالے سے مسکرائی اور ہونٹوں کے کونے سے دیکھنے لگی۔

اسی کمرے میں جہاں ایک دن ہرمل کی دھونی نے مدن کو چکرا دیا تھا، آج خس کی خوشبو نے بوکھلا دیا۔ ہلکی تیز بارش سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اس لیے باہر کا پانی اوپر کسی کڑی میں سے ٹپکتا ہوا اندو اور مدن کے بیچ ٹپکنے لگا.... لیکن مدن تو شرابی ہورہا تھا۔ اس نشے میں اس کی آنکھیں سمٹنے لگیں اور تنفس تیز ہوکر ا نسان کا تنفس نہ رہا۔

”اندو....“ مدن نے کہا.... اور اس کی آواز شادی کی رات والی پکار سے دو سُر اوپر تھی.... اور اندو نے پرے دیکھتے ہوئے کہا.... ”جی“ اور اس کی آواز دو سُر نیچے تھی.... پھر آج چاندنی کی بجائے اماؤس تھی....

اس سے پہلے کہ مدن اندو کی طرف ہاتھ بڑھاتا، اندو خود ہی مدن سے لپٹ گئی۔ پھر مدن نے ہاتھ سے اندو کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور دیکھنے لگا، اس نے کیا کھویا، کیا پایا ہے؟ اندو نے ایک نظر مدن کے سیاہ ہوتے ہوئے چہرے کی طرف پھینکی اور پھر آنکھیں بند کرلیں۔

”یہ کیا؟“ مدن نے چونکتے ہوئے کہا.... ”تمہاری آنکھیں سوجی ہوئی ہیں۔“

”یونہی!“ اندو نے کہا اور بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی.... ”رات بھر جگایا ہے اس چڑیل میـا نے۔“

بچی اب تک خاموش ہوچکی تھی۔ گویا وہ دم سادھے دیکھ رہی تھی، اب کیا ہونے والا ہے؟ آسمان سے پانی پڑنا بند ہوگیا تھا۔ مدن پھر غور سے اندو کی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا.... ”ہاں مگر.... یہ آنسو؟“

”خوشی کے ہیں۔“ اندو نے جوا ب دیا۔ ”آج کی رات میری ہے۔“ اور پھر ایک عجیب سی ہنسی ہنستے ہوئے وہ مدن سے چمٹ گئی۔ ایک تلذذ کے احساس سے مدن نے کہا: ”آج برسوں کے بعد میرے من کی مراد پوری ہوئی ہے، اندو! میں نے ہمیشہ چاہا تھا....“

”لیکن تم نے کہا نہیں۔“ اندو بولی۔ ”یاد ہے شادی کی رات میں نے تم نے سے کچھ مانگا تھا؟“

”ہاں!“ مدن بولا.... ”اپنے دکھ مجھے دے دو۔“

”تم نے تو کچھ نہیں مانگا مجھ سے....“

” میں نے؟“ مدن نے حیران ہوتے ہوئے کہا.... ”میں کیا مانگتا؟ میں تو جو کچھ مانگ سکتا تھا وہ سب تم نے دے دیا۔ میرے عزیزوں سے پیار.... ان کی تعلیم، بیاہ شادی.... یہ پیارے پیارے بچے.... یہ کچھ تو تم نے دے دیا۔“

”میں بھی یہی سمجھتی تھی۔“ اندو بولی ”لیکن اب جاکر پتا چلا، ایسا نہیں۔“

”کیا مطلب؟“
”کچھ نہیں۔“ پھر اندو نے رک کر کہا.... ”میں نے بھی ایک چیز رکھ لی۔“

”کیا چیز رکھ لی؟“

اندو کچھ دیر چپ رہی اور پھر اپنا منہ پرے کرتی ہوئی بولی.... ”اپنی لاج.... اپنی خوشی.... اس وقت تم بھی کہہ دیتے.... اپنے سکھ مجھے دے دو.... تو میں....“ اور اندو کا گلا رندھ گیا۔

اور کچھ دیر بعد بولی.... ”اب تو میرے پاس کچھ نہیں رہا....“

مدن کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ وہ زمین میں گڑ گیا.... یہ ان پڑھ عورت؟ .... کوئی رٹاہوا فقرہ....؟“

”نہیں تو.... یہ تو ابھی ہی زندگی کی بھٹی سے نکلا ہے۔ ابھی تو اس پر برابر ہتھوڑے پڑرہے ہیں اور آتشیں برادہ چاروں طرف اُڑ رہاہے....“

کچھ دیر بعد مدن کے ہوش ٹھکانے آئے اور بولا.... ”میں سمجھ گیا اندو“ پھر روتے ہوئے مدن اور اندو ایک دوسرے سے لپٹ گئے.... اندو نے مدن کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایسی دنیاؤں میں لے گئی جہاں انسان مر کر ہی پہنچ سکتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں