زندگی سے تنگ ہیں؟ چاکلیٹ کھائیں

گو کہ کھانے پینے میں ہماری پسند کا بڑا انحصار ہمارے موڈ یعنی مزاج پر ہوتا ہے، جیسا کہ بارش ہو، موسم خوشگوار ہو تو پکوڑے اور سموسے کھانے کا دل چاہتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ خوراک واقعی ہمارے دماغ کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے مزاج اور کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اگر آپ کی خوراک کا زیادہ حصہ بازاری اور ناقص کھانوں پر مشتمل ہے تو آپ کو حیران نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کا موڈ ڈھیلا ڈھالا بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگا۔ گو کہ خوراک ذہنی تناؤ کا علاج نہيں کر سکتی لیکن ایک صحت مند خوراک آپ کے مسائل کو ضرور ہلکا کر سکتی ہے۔ اس لیے دھیان رکھیں کہ آپ کیا کھا رہے ہیں، چاہے آپ کو بھوک نہ بھی لگ رہی ہو تو۔

اپنی خوراک میں تبدیلیاں کرنا آپ کے موڈ میں تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے اور ساتھ ہی کھانے کی طلب، تنک مزاجی اور تھکن کو کم کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یادداشت اور توجہ کے ارتکاز کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔

فولاد، سیلینیم، میگنیشیم اور بی 12 جیسے وٹامنز یعنی حیاتین کا کم استعمال تھکاوٹ اور کسل مندی کا باعث بن سکتا ہے اور بے خوابی کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔

سائنس کے مطابق موڈ کو بہتر بنانے کے لیے بہترین خوراک ڈارک چاکلیٹ، سامن مچھلی، جو کا دلیہ، انڈے اور سرخ گوشت ہیں۔ جبکہ چینی اور گندم سے بنی باریک نشاستے کی حامل چیزیں، الکحل، چاکلیٹ، دودھ کی مصنوعات اور کیفین سے بھرپور مشروبات سے بچنے کی ضرورت ہے۔

ڈارک چاکلیٹ ایسے نیوروٹرانسمیٹرز چھوڑتی ہے جو موڈ کو بہتر بناتے ہیں۔ ان میں سے اک کو فینالیتھیلامائن کہتے ہیں جو چستی کو بڑھاتا ہے اور خوشی کو پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ایسی چاکلیٹ کا انتخاب کریں جس میں کم از کم 70 فیصد کوکوا شامل ہو۔

اپنی روزمرہ خوراک میں آلو اور کیلے بھی شامل رکھیں جبکہ روزانہ نہ سہی لیکن خوراک میں اہم حصہ مچھلی، گوشت اور خشک میووں کا بھی ہونا چاہیے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں