کاغذ جو نہ جلے، نہ خراب ہو

کاغذ کی ایجاد کا سہرا چین کو دیا جاتا ہے۔ 2 ہزار سال پہلے چینیوں نے ہی یہ اہم ایجاد کی تھی اور اس وقت سے لے کر اب تک کاغذ کئی جدتیں اختیار کرتا ہوا چینیوں ہی کے ہاتھوں لافانی مقام پر پہنچ چکا ہے۔

شنگھائی انسٹیٹیوٹ آف سیرامکس کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسا کاغذ تیار کیا ہے جو آگ اور پانی دونوں سے محفوظ رہنے والا دنیا کا پہلا کاغذ ہے۔ یہ جدید کاغذ واٹر پرف ہے اور کافی اور چائے کے داغوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ 200 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت بھی برداشت کر سکتا ہے۔

اسے پانی سے صاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اس پر لکھی ہوئی کوئی چیز مٹے گی بھی نہیں۔ یہ اہم دستاویزات کو عرصے تک محفوظ بنانے کے لیے بہترین کاغذ ہے جو آگ اور پانی دونوں کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے۔

2008ء سے اس کاغذ کی تیاری میں مصروف ٹیم نے اب ٹیکنالوجی کو پیٹنٹ کرنے کے لیے درخواست دے دی ہے اور اسے امید ہے کہ تین سال میں یہ مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔

کہا جا رہا ہے کہ اس کاغذ کی قیمت معمولی سی ہی زیادہ ہوگی البتہ بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے تو یہ عام کاغذ کی قیمت میں بھی مل سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں اگلے سالوں میں یہ کیا انقلاب آتا ہے؟

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں