جو چاند پر اترے گا، 20 ملین ڈالرز پائے گا

چاند پر ایک روبوٹک خلائی جہاز اتارنے کے لیے نجی خلا بازوں کی تقریباً ایک دہائی تک تلاش کے بعد بالآخر معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ دوڑ میں باقی رہ جانے والی آخری پانچ ٹیموں کو اس چیلنج پر پورا اترنے کے لیے رواں سال کے آخر تک کا وقت ہے۔

لیونر ایکس پرائز مقابلے کا اعلان پہلی بار 2007ء میں کیا گیا تھا، اور اب باقی بچ جانے والوں کے پاس خلائی تاریخ مرتب کرنے کا موقع ہے۔ گوگل نے پانچ حتمی امیدواروں کا اعلان اس ہفتے کیا ہے، اور یوں 20 ملین ڈالرز کے انعام کے لیے دنیا بھر کی 11 ٹیموں کی امیدیں ختم ہوگئیں۔ گو کہ انعامی رقم اس خلائی منصوبے کی بڑی محرک ہے، لیکن مقابلے میں شریک افراد کو بڑے وسائل، معلومات اور رابطوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس مقابلے میں برقرار رہ سکیں۔

آخری مرحلے تک کل 16 ٹیمیں پہنچیں، لیکن کیونکہ 31 دسمبر 2016ء تک کسی راکٹ سروس کمپنی کے ساتھ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی شرائط میں شامل تھا اس لیے 11 ٹیمیں باہر ہوگئیں اور ایسا معاہدہ کرنے والی پانچ ٹیمیں ہی فائنل تک پہنچیں۔

ان ٹیموں کو 31 دسمبر 2017ء سے پہلے لانچنگ کرنا ہوگی اور روبوٹک، بغیر عملے کے، خلائی جہاز کو چاند پر اتارنے کے بعد اسے کم از کم 500 میٹر تک سفر کروانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی تصاویر اور بہترین معیار کی وڈیو بھی زمین پر بھیجنا ہوگی۔

یہ آسان کام نہیں ہے، لیکن اس چیلنج پر پورا اترنے والی ٹیم کو 20 ملین ڈالرز کا انعام دیا جائے گا۔ اس انعام کے علاوہ اہم مقصد خلائی سفر کے بارے میں شعور کو اجاگر کرنا اور چاند پر توجہ کو بڑھانا ہے جو مستقبل کی خلائی مہمات کے لیے ایک مرکز کی حیثیت بنے گا۔

آئیں آپ کو فائنل میں پہنچنے والے پانچ امیدواروں کے بارے میں بتاتے ہیں:

اسپیس آئی ایل

spaceil
تل ابیب، اسرائیل کے ایک نان پرافٹ ادارے اسپیس آئي ایل نے ایک 'ہوپر' کرافٹ تیار کیا ہے جو چاند کی سطح پر اترے گا، جس کے بعد یہ 500 میٹر پرواز کرکے دوبارہ اتر جائے گا اور یوں ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

مون ایکسپریس


کیپ کیناویرل، فلوریڈا کا یہ امریکی ادارہ چاند کو "آٹھواں بر اعظم" کہتا ہے۔ یہ بھی ایک ہوپر لینڈر تیار کر چکے ہیں جس کے تجربات اس وڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔

سنرجی مون


ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو کیلیفورنیا میں ایک مقام سے نیپچون 8 راکٹ کے ذریعے اپنا خلائی جہاز بھیجے گا۔ جب آپ یہ کام خود کر سکتے ہیں تو اسپیس ایکس یا کسی اور ادارے کی کیا ضرورت؟

ٹیم انڈس

team-indus
بھارت کی یہ ٹیم دنیا کا سب سے پیارا روبوٹ چاند پر اتارے گی۔ قسمت تمہارے ساتھ رہے ننھے بچے!

ہاکوتو


اس جاپانی ٹیم کے پاس ڈوئل روور سسٹم ہے۔ یہ بڑا چار پہیوں والا "مون ریکر" ہے جس کے اندر ایک دو پہیوں والا چھوٹا 'ٹیٹرس' بھی ہے جو چاند کی سطح کو جانچ سکتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں