امریکا کے لیے لڑنے والے کا بھی امریکا میں داخلہ بند

جب پانچ ویزے ملے – جو تین بچوں اور حمید خالد درویش کی اہلیہ کے لیے کافی تھے، وہ بغیر کوئی وقت ضائع کیے عراق کے شہر اربیل سے بذریعہ استنبول نیو یارک کے لیے روانہ ہوگئے۔ وہ ایک دہائی سے عراق میں امریکی افواج کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے، پہلے بغداد اور موصل میں 101 ویں ایئربورن کے لیے ترجمہ کار کی حیثیت سے جب وہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی قیادت میں تھا اور پھر امریکی فوج کو سپورٹ دینے والے ٹھیکیدار کی حیثیت سے۔ اور ان کے جلدی بھاگنے کی ایک وجہ تھی، نیو یارک کی وفاقی عدالت میں جمع کرائے گئے کاغذات کے مطابق ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔

سالوں پہلے جب ان کے دو ساتھیوں کو گولیاں ماری گئیں تو وہ بغداد سے کرکوک چلے گئے۔ یہاں مسلح افراد کی جانب سے مارکیٹ کی تلاشی کا پتہ چلنے کے بعد وہ پھر فرار ہوئے۔

2011ء میں امریکی افواج نے عراق چھوڑ دیا اور درویش اور ان جیسے ہزاروں افراد کو تحفظ دینے کا ایک طریقہ رہ گیا۔ عراقی اسپیشل امیگرنٹ ویزا جو ایسے افراد کے لیے تیار کیا گیا تھا جنہوں نے امریکیوں کے ساتھ کام کرکے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ لیکن شاید درویش صاحب کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جب انہوں نے استنبول سے امریکا کے لیے پرواز بھری، عین اسی وقت نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے انتخابی اعلانات میں سے ایک بھیانک ترین وعدے پر عمل کرنے والے تھے۔ جمعے کو صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت سات ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی گئی۔

پھر بجائے کہ یہ درویش شمالی کیرولینا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے، وہ نیو یارک کے جے ایف کے ایئرپورٹ پر امیگریشن قطار میں سے نکالے گئے، رات بھر حراست میں رہے اور پھر انہیں بتایا گیا کہ امریکا میں ان کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔ اور وہ اکیلے نہیں تھے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ جے ایف کے اور ملک کے دیگر ہوائی اڈوں پر ایسے 12 واقعات ان کے علم میں ہیں۔ جب انہوں نے کسٹمز عملے سے پوچھا کہ اس حوالے سے کس سے بات کرنی چاہیے تو ان کا جواب تھا "صدر ٹرمپ سے بات کریں۔"

امریکا کے 45 ویں صدر نے ملک کو بند کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ پابندیاں امریکا کے عوام کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری تھیں جس کے نتیجے میں عراق، ایران، شام، سودان، صومالیہ اور یمن کے لوگوں کا راستہ بند کردیا گیا۔

حمید خالد درویش کو یہ ویزے حاصل کرنے میں تین سال لگے۔ امریکی سفارت خانے نے تصدیق چاہی کہ درخواست جمع کرنے سے پہلے بھی انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کی زندگی واقعی خطرے میں ہے۔ ان کے طبی معائنے ہوئے، سکیورٹی جانچ کی گئی۔ ایک ایسے شخص سے جس نے ایک دہائی تک امریکا کے لیے کام کیا۔ اب ٹرمپ کی منصوبہ بندی آ گئی ہے جو داعش اور القاعدہ جیسے گروہوں کو یقین دلا رہی ہے کہ اصل میں امریکا کی لڑائی اسلام کے خلاف ہے۔

لیبیا سے لے کر پاکستان تک شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں عوام "گرین کارڈ" کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہ دیکھتے ہوں۔ چاہے ملک میں "امریکا مردہ باد" اور "گو امریکا گو" کے نعرے بلند ہوتے رہیں لیکن اس کے باوجود امریکا جانا ہر کوئی چاہتا ہے۔ ٹرمپ نے وہ آخری طاقت بھی امریکا کے ہاتھ سے چھین لی ہے اور اب ان لوگوں کے پاس امریکا کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہيں بچے گا۔

19 گھنٹے بعد خالد درویش کو رہا کیا گیا اور پھر ہفتے کی شام نیو یارک کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ جو لوگ امریکا پہنچ چکے ہیں انہیں بے دخل نہیں کیا جائے۔ ان کا فیصلہ بس یہیں تک تھا، یہ نہیں کہ وہ ملک میں رہ سکتے ہیں۔ یعنی اب بھی اس معاملے میں کئی قانونی چیلنجز موجود ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں