بچوں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں؟ انہیں ورزش کا عادی بنائیں

بچپن ہی سے جسمانی سرگرمی کے عادی بچے نہ صرف بڑے ہونے پر زیادہ فٹ ہوتے ہیں بلکہ اچھی ذہنی صحت کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے پایا ہے کہ بلاناغہ ورزش کرنے والے بچوں کو بڑے ہونے کے بعد ذہنی پریشانی کا سامنا بھی کم کرنا پڑتا ہے۔

تحقیق کرنے والوں نے چار سال کے عرصے تک 800 نوعمر افراد کا جائزہ لیا، جن کی عمریں 6 سے 10 سال تھیں، اور جسمانی سرگرمی اور ہم آہنگی کے درمیان واضح ربط پایا۔ اس امر کی تصدیق دیگر متعدد تحقیق میں بھی ہوئی ہے اور یہ قدم نوعمر افراد میں بڑھتے ہوئے ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس وقت برطانیہ میں ہی 15 سے 16 سال کے افراد میں ذہنی تناؤ 80ء کی دہائی کے مقابلے میں دو گنا ہو چکا ہے۔ نارویجیئن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق "یہ جاننا اہم ہے کیونکہ اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ جسمانی سرگرمی بچپن ہی میں ذہنی تناؤ سے تحفظ دینے اور اس کے علاج میں استعمال ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی ایسی سرگرمی جس میں بچے کا پسینہ نکلے یا سانس پھولے۔

یہ تحقیق پیڈیاٹرکس جرنل میں شائع ہوئی ہے اور ڈپریشن اور جسمانی امراض کے درمیان تعلق کو جاننے کے لیے ساڑھے 6 ہزار بچوں پر ہونے والی جرمن اور سوئس تحقیق کے چند ہفتوں بعد سامنے آئی ہے۔

یونیورسٹی آف باسل کی تحقیق نے پایا ہے کہ بارہا ذہنی تناؤ جوڑوں کے درد اور ہاضمے کے امراض کا سبب بن سکتا ہے بلکہ انہون نے پایا کہ ذہنی بے چینی کے شکار نوجوانوں میں جلدی امراض کا خطرہ بھی زیادہ رہتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں