بندروں کے ہاتھوں بھیانک قتل، لاش کی بوٹیاں نوچ ڈالیں

بندر ایک دلچسپ اور مزاحیہ جانور ضرور لگتا ہے لیکن حقیقت بہت کافی مختلف ہے۔ سائنس دان دستاویزی ثبوت اکٹھے کرچکے ہیں کہ مختلف مواقع پر بندر زیادہ سے زیادہ وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے اپنے گروہ کے ساتھ مل کر دوسرے بندروں پر حملہ کرتے ہیں بلکہ انہیں مار کر ان کا گوشت تک کھاتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں بندر کے قتل کا مزید انوکھا واقعہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں ایک جارح مزاج نر بندر کو حملہ کرکے اسی گروپ کے اراکین نے قتل کردیا، جس کی وہ کبھی قیادت کرتا تھا۔

انٹرنیشنل جرنل آف پرائماٹولوجی کے مطابق فودوکو نامی اس بندر کا قتل افریقہ کے ملک سینیگال میں فونگولی کمیونٹی آف چمپس میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے پایا۔ یہ ایک مرتبہ پھر اسی برادری میں شامل ہونا چاہتا تھا جس کی وہ پانچ سال پہلے قیادت کر رہا تھا۔ گو کہ سائنس دانوں نے اس قتل کا عینی مشاہدہ نہیں کیا لیکن انہوں نے اس کے بعد پیش آنے والے واقعے کو خود دیکھا۔ بندروں نے فودوکو کی بوٹیاں نوچ ڈالیں اور اسے کھا گئے۔

تحقیق کی مصنفہ جل پروئٹز کہتے ہیں کہ یہ بہت مشکل سے دیکھا جانے والا اور بھیانک منظر تھا۔ شروع میں تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے، مجھے اتنے جارحانہ رویے کی توقع نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ فودوکو کے مرنے کے بعد بھی بندر اس سے خوفزدہ تھے۔ وہ چیخ اور چلا رہے تھے اور گھنٹوں تک اس کی لاش پر جمع رہے۔ کیونکہ فودوکو پہلے اس گروپ کا سربراہ تھا، اور کافی سخت مزاج تھا، اس لیے شاید نوعمر بندر اسے ایک مرتبہ پھر اپنا سربراہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

سائنس دانوں کے لیے یہ جاننا بہت زیادہ ضروری ہے کہ چمپینزی بندروں کے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل میں اس نایاب نسل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ پروئٹز کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایسے مقامات پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں ان کے رویوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انہیں زیادہ جارح بنا دیتی ہوں۔ پھر ایسے مقامات پر نر زیادہ اور مادائیں کم ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ انسان ہیں جو مادہ بندروں کو پکڑتے ہیں تاکہ ان کے بچے پالتو جانور کے طور پر فروخت کر سکیں۔ پروئٹز کے مطابق اگر کوئی شکاری چند سالوں میں ایک بندریا بھی پکڑے تو اس سے بندروں کا صنفی توازن بگڑتا ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں