بچے جلدی نہیں سوتے؟ یہ طریقے آزمائیں

زیادہ تر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ چھوٹے بچے رات میں بار بار اٹھتے رہتے ہیں لیکن کچھ بڑا ہو جانے کے بعد ان کو رات بھر سکون کی نیند آنی چاہیے۔ اگر آپ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ رات کو ایک اچھی نیند لینے کے بجائے بچے ہمیشہ تنگ ہی کرتے رہتے ہیں اور اسی لیے آپ کے آرام میں بھی خلل کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے چند اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہے۔ جیسا کہ:

بستر پر جلد لٹائیں

چند والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے جاگتے رہیں تو تھک ہار جائیں گے اور زیادہ آسانی سے سوئیں گے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایک متحرک بچہ تو شام ہو جانے کے بعد بھی خوب بھاگتا دوڑتا رہتا ہے لیکن چلنا پھرنا سیکھنے والے بچے کو، جو رات 9 سے 10 بجے تک جاگتا رہے، کئی گھنٹہ پہلے ہی بستر پر ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق بچے کے جلد سونے کی وجہ سے اس کا بلڈ پریشر اور دل دھڑکنے کی رفتار مناسب رہتی ہے اور ایسا کرنے بچے کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے بجائے اس کے کہ اسے رات دیر گئے تک جاگنے دیا جائے۔

روشنیاں بجھا دیں

سونے سے ایک گھنٹہ پہلے گھر کی روشنیاں کم کردیں کیونکہ گھر روشن کی وجہ سے دماغ کو یہ پتہ جاتا ہے کہ ابھی دن ہے۔ انسان کے اس فطری نظام کو اندھیرا ملتے ہی نیند کی طلب ہونے لگتی ہے۔ یہی معاملہ اسکرینوں کا بھی ہے چاہے ٹیلی وژن کی ہو یا اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کی۔ سونے سے پہلے یا بستر پر ہی ان کا استعمال نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کی نیند کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ بچوں کے کمرے میں مکمل اندھیرا نہیں چاہتی ہوں، لیکن اس کے لیے چھوٹے بلب کا استعمال کریں تاکہ بچے کو اندھیرے میں ڈر بھی نہ لگے۔

kids-sleep-light

شور سے اجتناب

والدین کو بچوں کے سونے کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا چاہیے جس میں خاموشی بھی شامل ہے۔ کچھ بچے شور کے معاملے میں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے کئی گھرانوں میں بچوں کے سونے کے بعد بھی دیگر لوگ جاگتے رہتے ہیں اور شور رہتا ہے اس سے بچے کو مناسب نیند نہیں آتی۔

قیلولہ

ہو سکتا ہے چند والدین یہ سمجھتے ہوں کہ دن میں سونے سے بچے کی رات کی نیند متاثر ہو سکتی ہے لیکن بہت سارے نوعمر بچوں کو قیلولے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سہ پہر میں بچوں کی توانائی خاصی کم ہو جاتی ہے چاہے انہوں نے رات میں بھرپور نیند کیوں نہ لی ہے۔ اس لیے قیلولہ کرنا بچے کی فطری ضرورت ہوتی ہے اور اس سے روکنا نہیں چاہیے۔ ویسے یہ تو بڑوں کے لیے بھی ضروری ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں