سبزیوں کا تیل دماغی امراض کا سبب قرار

ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب کہا جاتا تھا کہ مکھن اور ملائی کو چھوڑ کر ویجیٹیبل آئل یعنی سبزیوں کے تیل کو اختیار کیا جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں دل کے امراض کے بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق کہتی ہے کہ سبزیوں کے تیل سے بنی خوراک کے مسلسل استعمال سے دماغ پر بھیانک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ تیل کسی بھی دیگر چیز کے مقابلے میں دماغ میں زیادہ میل کا سبب بنتا ہے جو دماغ کے خطرناک ترین امراض کی ابتدائی علامت ہے۔

ڈاکٹر کیتھرائن شیناہن کا کہنا ہے کہ 50ء کی دہائی میں کہا جاتا تھا کہ چکنائی کا استعمال بند کرو اور سبزیوں کے تیل جیسی مصنوعات کا رخ کروں۔ ریستورانوں اور کھانے پینے کے مقامات پر اس تیل کا استعمال اس لیے بھی بڑھا کیونکہ یہ سستا تھا اور باآسانی دستیاب بھی۔ سبزیوں کے تیل کے مقابلے میں زیتون کا تیل 10 سے 50 گنا زیادہ مہنگا تھا۔ سبزیوں کے تیل میں کھانا پکانا آسان بھی تھا اور اس میں دیگر تیلوں کے مقابلے میں مہک بھی کم ہوتی ہے۔ اس لیے یہ خوب مقبول ہوا۔

سبزیوں کا تیل کنولا، پام، مکئی، سویا، سورج مکھی، کپاس، چاول اور دیگر چیزوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شیناہن کہتی ہیں کہ ایسے تیل ہمارے جسم پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس سے انسان سست اور تھکا ہارا ہو سکتا ہے، سر کے شدید درد کا شکار ہو سکتا ہے اور الزیمر یا نسیان جیسے خطرناک امراض کا نشانہ بھی بن سکتا ہے۔ 'سبزیوں کا تیل آکسیڈیٹو تناؤ کا سبب بنتا ہے جو دماغ کی جھلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور نتیجہ دماغ میں میل جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہم نے تحقیق میں دیکھا کہ الزیمر کے مریضوں کے دماغی معائنے میں یہ میل پایا گیا ہے۔

لیکن ڈاکٹر کہتی ہیں کہ اگر آپ سبزیوں کے تیل کا استعمال کرتے آئے ہیں تو آپ اس کا استعمال ترک کرکے اس کے منفی اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ 'اس سے نجات پائیں، آپ کے منہ کا ذائقہ تبدیل ہو جائے گا، کھانے ویسے محسوس ہوں گے جیسا انہیں ہونا چاہیے تھا۔ آپ کو جسم میں توانائی کا بھی احساس ہوگا۔'

مئی میں یورپین فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی ایک تحقیق نے پام آئل میں ایسے اجزا پائے تھے جو کینسر جیسے خطرناک اجزا کا سبب بن سکتے ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں