مقبوضہ وادی سے آتی پاکستان کے قومی ترانے کی آواز

یہ کشمیر کے دو نوجوان ہیں، 18 سالہ عمر مجید اور 22 سالہ زبیر احمد، جن کی ایک وڈیو نے پاکستان اور ہندوستان میں تہلکہ مچا رکھا ہے کیونکہ انہوں نے سنتور اور رباب کے تاروں سے کسی اور کی نہیں بلکہ پاکستان کا قومی ترانے کی دھن نکلی ہے اور کیا دل سے بجایا ہے دونوں نے کہ سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

پہلے تو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جانے والی یہ وڈیو دیکھیں جس کی فیس بک کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ پر بھی خوب شیئرنگ ہوئی ہے:

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق دونوں نوجوان عمر مجید کے والد کے موسیقی کے آلات پر مشق کر رہے تھے جب کسی نے کہا کہ انہیں پاکستان کے قومی ترانے کو آزمانا چاہیے۔ بارہویں جماعت میں پڑھنے والے عمر وڈیو میں سنتور بجاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہم موسیقی کے آلات پر ہاتھ صاف کر رہے تھے کہ کسی نے کہا 'پاک سرزمین' بجاؤ۔ پھر اسے ریکارڈ کرکٹ انٹرنیٹ پر پھیلا دیا اور اب سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد ایک لمحہ ایسا نہیں کہ میرا فون نہ بج رہا ہو۔"

انہیں ایسے ردعمل پر یقین نہیں آ رہا "میں نے بہت وڈیوز اپلوڈ کی ہیں لیکن اندازہ نہیں تھا کہ یہ وڈیو اتنی مشہور ہو جائے گی۔"

اس سوال پر کہ پاکستان کا قومی ترانہ ہی کیوں؟، عمر نے کہا کہ "موسیقی کی سرحد نہیں ہوتی اور موسیقار آزاد ہوتا ہے۔ یہی ہمارا کام ہے اور موسیقی کے بغیر ہماری کوئی اہمیت نہیں۔ پاکستان کے قومی ترانے کی دھن بجانے کے پیچھے کوئی مقصد نہیں تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "نوجوانوں کو کشمیر کی لوک موسیقی کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں جیسا کہ کئی لوگوں نے پوچھا ہے کہ یہ کون سے ساز ہیں۔ انہیں گٹار اور مغربی آلات موسیقی کا تو پتہ ہے لیکن مقامی سازوں کا نہیں۔"

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں