ویسٹ انڈیز کو 'انضمام الحق' مل گیا

پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق اپنی شاندار بلے بازی کے علاوہ اپنے لحیم شحیم انداز کی وجہ سے بھی کافی شہرت رکھتے تھے۔ گو کہ ٹیسٹ کرکٹ کے دور عروج میں ایسے کئی کھلاڑی تھے جو اپنے نام کی طرح بھاری بھرکم تھے لیکن انضمام الحق کو اس حوالے سے منفرد مقام حاصل تھا۔ شاید اس کی وجہ وہ دو واقعات ہیں جو بھلائے نہیں بھولتے۔ ایک انضام الحق کا ہٹ وکٹ ہوجانا ہے اور دوسرا ایک شائق کے پیچھے دوڑ لگا دینا جو انہیں آلو، آلو کہہ کر چھیڑنے کی کوشش کرتا رہا۔

جب پاکستان کے پاس انضمام الحق اور سری لنکا کے پاس ارجنا رانا ٹنگا جیسے فربہ کھلاڑی موجود تھے، ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی لمبے تڑنگے برق رفتار گیند بازوں کی وجہ سے 'کالی آندھی' کہلاتی تھی۔ اب وقت کی تبدیلی دونوں ہی جگہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو دراز قد فاسٹ بالر محمد عرفان ملا تو ویسٹ انڈیز کو 140 کلو وزنی راحکیم کورنویل دستیاب ہوگئے جو اپنی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی سے شائقین کرکٹ کو متوجہ کر رہے ہیں۔

rahkeem-cornwall-2

ویسٹ انڈیز کے دورے پر موجود انگلستانی ٹیم کا سامنا پریکٹس میچ کے دوران ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ XI سے ہوا۔ اس مقابلے میں 6.5 فٹ قد والے راحکیم کورنویل نے شاندار نصف سنچری بنائی۔ انہوں نے 61 گیندوں پر 59 رنز کی اننگز کے دوران 3 چھکے اور 6 چوکے بھی لگائے۔ بعد ازاں گیند بازی کرتے ہوئے انگلستانی بلے باز معین علی کی وکٹ بھی اپنے نام کی۔

24 سالہ راحکیم کورنویل اس سے قبل بھارت کے خلاف میچ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ گزشہ سال جولائی میں کھیلے گئے مقابلے میں راحکیم نے زبردست آف اسپن باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

مقامی فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں راحکیم کیربیبئن آئی لینڈ کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ مقامی ٹی ٹوئنٹٰی مقابلوں میں وہ انٹیگوا ہاؤکبلز کی ٹیم میں شامل ہیں۔ انہوں نے 25 فرسٹ کلاس مقابلوں میں ایک سنچری اور 23.04 کی اوسط سے ایک ہزار سے زائد رنز بنائے ہیں اور 125 وکٹیں بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ جبکہ 16 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں وہ 97.70 کے اسٹرائیک ریٹ سے صرف 85 رنز ہی بنا پائے ہیں البتہ 14 وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ ان میں صرف انضمام ہی نہیں بلکہ شاہد آفریدی کی بھی کچھ 'خوبیاں' چھپی ہوئی ہیں۔

rahkeem-cornwall

راحکیم کورنویل کا زبردست کھیل دیکھنے کے بعد ویسٹ انڈیز کے سلیکٹرز انہیں ٹیسٹ ٹیم میں موقع دینے سے متعلق سوچ رہے ہیں۔ تاہم بعض ماہرین کے خیال میں راحکیم کا وزن ان کے کرکٹ کیریئر میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ راحکیم جلد از جلد قومی ٹیم کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اضافی وزن انہیں منتخب نہ کیے جانے کی وجہ ہے تو وہ اپنا وزن کم کرنے کے لیے بھی محنت کریں گے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں