پاکستان سپرلیگ کی ٹرافی پشاور زلمی کے نام

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے فائنل میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈیئٹرز کو 58 رنز سے شکست دے کر خوبصورت ٹرافی اپنے نام کرلی۔ بدقسمت کوئٹہ گلیڈیئٹرز مسلسل دوسری مرتبہ فائنل مقابلے میں رسائی حاصل کرنے کے باوجود ناکام رہی۔ پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں گلیڈیئٹرز کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

لاہور میں منعقدہ پی ایس ایل فائنل میں کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے مشکل نظر آنے والی پچ پر زلمی کھلاڑیوں نے بہت سنبھل کر بلے بازی کی۔ اوپنر کامران اکمل اور ڈیوڈ ملان نے زلمی کو اچھا آغاز فراہم کیا تاہم کراچی کے خلاف پچھلے میچ کی سنچری شراکت داری کو دوبارہ نہ دہرا پائے۔ فائنل کی صبح گلیڈیئٹرز میں شامل ہونے والے غیر ملکی گیند باز رایاڈ ایمرٹ نے زبردست کھیل پیش کیا۔ انہوں نے خطرے کی علامت بننے والے ڈیوڈ میلان پانچویں اوور میں کو آؤٹ کیا جس سے مخالف ٹیم پر دباؤ کا آغاز ہوا۔ بعدازاں دسویں اوور میں کامران اکمل، گیارہویں اوور میں مارلن سیمیوئلز، اور بارھویں اوور میں خوشدل شاہ پویلین لوٹے تو گلیڈیئٹرز کی میچ پر گرفت مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔ اس موقع پر محمد حفیظ اور افتخار احمد نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا تاہم رنز بنانے کی رفتار بڑھانے کی کوشش میں دونوں ہی 17ویں اوور میں رایاڈ ایمرٹ کا شکار ہوگئے۔ اس موقع پر لگتا تھا کہ پشاور زلمی بڑا مجموعہ حاصل کرنے میں ناکام رہے گی تاہم کپتان ڈیرن سیمی نے 11 گیندوں پر 3 چھکے اور 1 چوکے کی مدد سے 28 رنز بنا کر مجموعہ کو 148 تک پہنچا دیا۔ ڈیرن سیمی کی بدولت آخری دو اوورز میں پشاور زلمی 33 رنز بٹورنے میں کامیاب رہی۔ پشاور زلمی کی جانب سے کامران اکمل نے 32 گیندوں پر 40 رنز بنائے اور کامیاب ترین بلے باز رہے۔ کوئٹہ کی جانب سے رایاڈ ایمرٹ نے 3، حسن خان نے 2 اور محمد نواز نے 1 وکٹ حاصل کی۔

CRICKET-PAK-PSL

بلے بازوں کے لیے مشکل پچ پر گلیڈیئٹرز نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو انہیں دوسرے ہی اوور میں پہلا نقصان اٹھانا پڑا جب حسن علی کی براہ راست تھرو نے اوپنر مورنے وائیک کو پویلین جانے پر مجبور کردیا۔ اگلے ہی اوور میں حسن علی نے انعام الحق کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ پچھلے میچ میں نصف سنچری بنانے والے احمد شہزاد فائنل میں پانچ گیندوں پر 1 رنز ہی بنائے پائے۔ کپتان سرفراز احمد نے زلمی کے خلاف زبردست مزاحمت کرتے ہوئے 11 گیندوں پر 4 چوکوں کی مدد سے 22 رنز بنائے اور محمد حفیظ کو کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں کامران اکمل کے ہاتھوں اسٹمپ ہوگئے۔ اس کے بعد سین اروائن اور انور علی کی جانب سے عمدہ کھیل دیکھنے کو ملا۔ سین اروائن نے 19 گیندوں کر 24 رنز جبکہ انور علی نے 24 گیندوں پر 20 رنز کی اننگز کھیلی۔ ہر گزرتی گیند کے ساتھ بڑھنے والے دباؤ کو گلیڈیئٹرز جھیل نہ پائے اور 17ویں اوور میں حسن علی نے ذولفقار بابر کو آخری کھلاڑی کو کلین بولڈ کر کے زلمی کی فتح کا اعلان کردیا۔ پشاور زلمی کی جانب سے محمد اصغر 3 وکٹیں حاصل کر کے ایک بار پھر سب سے کامیاب گیند باز رہے۔ ان کے علاوہ حسن علی اور وہاب ریاض نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ محمد حفیظ اور کرس جورڈن کے حصے میں 1،1 وکٹ آئی۔

CRICKET-PAK-PSL-UNREST

کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے خلاف پشاور کی اننگز بہت محدود رنز پر تمام ہوسکتی تھی تاہم ڈیرن سیمی نے آخری لمحات میں جس جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اس نے میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیرن سیمی کو فائنل مقابلے کا مرد میدان قرار دیا گیا۔ پاکستان سپر لیگ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کامران اکمل کو بہترین بلے باز اور بہترین وکٹ کیپر سمیت ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔ کامران اکمل نے 11 مقابلوں میں 32.09 کی اوسط سے 353 رنز بنائے جس میں ٹورنامنٹ کی واحد سنچری کے علاوہ 2 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ پورے ٹورنامنٹ کے دوران کامران اکمل نے 32 چھکے اور 16 چوکے لگاکر شائقین کو ٹی ٹوئنٹی کے اصل رنگ سے خوب محظوظ کیا۔

CRICKET-PAK-PSL

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں