بچوں کے مستقبل پر پیدائش کی ترتیب کا اثر

اب سے چند روز پہلے ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ والدین کا پہلا بچہ دیگر بہن بھائیوں سے زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔ اس تحقیق کو جہاں بڑے بھائیوں اور باجیوں نے خوب سراہا وہیں چھوٹے بہن بھائیوں کی جانب سے کافی تنقید سامنے آئی۔ بہرحال، اس مضوع پر ہر شخص کی رائے مختلف ہوسکتی ہے کیوں کہ ہم بھی اپنے والدین کے چھوٹے یا بڑے بچے تو ہیں ہی۔

اس حوالے سے ماہرین نے مزید تحقیق کی تو انہیں پتہ چلا کہ بچوں میں پیدائش کی ترتیب ان کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ محققین نے چند دلچسپ نتائج بھی پیش کیے جو آج ہم اپنے قارئین کے لیے بیان کر رہے ہیں:

سب سے بڑا بچہ:
بہن بھائیوں میں سب سے بڑا بچہ مستقبل میں اپنا کاروبار خود شروع کرنے کی طرف مائل ہوسکتا ہے۔ چاہے اس کے والد یا خاندان میں نوکری کا رجحان پایا جاتا ہو لیکن احساس ذمہ داری بڑے بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت کامیابی حاصل کرنے اور اس دوران پیش آنے والے خطرات سے نمٹنے میں مدد کرتی ہے۔ محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے پہلا بچہ مستقبل میں پرخطر راستے اختیار کرنے اور خطرناک کھیلوں کی طرف بھی راغب ہوسکتا ہے۔

درمیان کے بچے:
پہلے سے چھوٹے اور آخری سے بڑے بچوں میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے درمیان کے بچے ایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں جن کا مقصد دوسروں کی مدد کرنا مقصود ہو۔ ایسے بچے اکثر و بیشتر خود کو پس پشت رکھ کر دوسروں کی ضروریات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اس لیے دوستوں میں بھی زیادہ مقبولیت پاتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان کی نیک نیتی کا فائدہ اٹھائے تو انہیں دکھ بھی پہنچتا ہے۔

سب سے چھوٹا بچہ:
بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بچہ ایک طرف والدین کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے تو دوسری طرف سب سے زیادہ نصیحتیں بھی اسی کو سننے کو ملتی ہیں۔ ایسے بچے اپنے سے زیادہ سمجھ بوجھ والے افراد کو دیکھتے ہوئے پروان چڑھتے ہیں اس لیے وہ روایتی شعبوں میں خوب کامیابیاں سمیٹتے ہیں جیسا کہ اسکول میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرنا، غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا وغیرہ۔

اکلوتا بچہ:
والدین کی صرف ایک ہی اولاد ہو تو وہ بہت مزے سے زندگی گزرتی ہے اور تمام تر توجہ حاصل کرنے کی وجہ سے اس میں تعلیم و دیگر شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے بچوں میں خود اعتماد بھی پائی جاتی ہے اور یہی خوبی مستقبل میں انہیں مشکل مواقع میں کامیابی سے ہم کنار کرتی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں