بچوں کو غصہ پر قابو کرنا سکھائیں

غصہ پر قابو پانا آسان کام نہیں۔ جب کبھی ہمیں کوئی مشکل پیش آتی ہے، غمگین صورتحال کا سامنا ہوتا یا پھر کسی بات کا انجانا خوف ستاتا ہے، اس کا نتیجہ غصہ، جھنجلاہٹ اور چڑ چڑے پن کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ یہ احساس صرف کم سمجھ بچوں میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ اکثر عاقل اور بالغ افراد بھی غصہ میں اپنا نقصان کرتے نظر آتے ہیں۔

اگر آپ والد یا والد ہیں تو اپنے بچوں کے جھگڑنے پر آپ کو بھی غصہ ضرور آتا ہوگا حالانکہ اس صورتحال میں آپ کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے کیوں کہ بچے آپ ہی سے سیکھتے ہیں۔ بچوں کو غصہ پر قابو کرنے کی تربیت کے لیے چند کارگر تجاویز یہ ہیں:

احساسات کو بیان کرنا:
بچوں کو غصہ کرنے سے پہلے اس کی وجہ بیان کرنا سکھائیں۔ اس سے وہ خطرناک ردعمل ظاہر کرنے سے بچ جائیں گے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے سامنے غصہ کی وجوہات خود بیان کریں اور انہیں آئندہ ایسا خود کرنے کی تلقین کریں۔ جیسا کہ "آپ اس لیے غصہ ہیں کیوں کہ آپ کے دوست نے بغیر پوچھے گیند اٹھا لی" یا پھر "آپ اس لیے غصہ ہیں کیوں کہ کئی مرتبہ کوشش کرنے کے باوجود جوتے کے تسمے نہیں باندھ پا رہے" یا کچھ یوں "آپ اس لیے غصہ ہیں کیوں کہ کوئی آپ کی بات نہیں سن رہا" وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح بچہ آئندہ غصہ میں کچھ بھی غلط کرنے سے پہلے اسے بیان کرے گا اور آپ اسے بہتر طور پر سمجھ کر مسئلہ حل کرسکیں گے۔

غصہ کی وجہ جاننا:
اگر آپ کا بچہ بار بار الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگتا ہے جسے آپ بدتمیزی میں شمار کرتے ہیں تو اسے غصہ کی وجہ جاننا سکھائیں۔ اس کے لیے چند سوالات پوچھنا کافی مفید ہے جیسا کہ غصہ کرنے سے پہلے کیا ہوا تھا؟ آپ نے کیا دیکھا تھا یا سنا تھا؟ آپ نے کیا محسوس کیا؟ یا آپ کیا سوچ رہے تھے؟ وغیرہ۔ اس سے آپ کو علم ہوگا کہ بچے کو بار بار کس بات کر غصہ آرہا ہے اور آپ بہتر طور پر اس کا کفارہ کر کے بچے کے غصے کو ختم کرسکیں گے۔

غصہ کے وقت تحمل:
بچے غصہ کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ کبھی کسی اور کو چوٹ پہنچا کر تو کبھی خود ہی پر غصہ اتارتے ہیں۔ اس لیے کوشش کریں کہ انہیں غصہ آنے کی صورت میں تحمل سے کام لینا سکھائیں۔ مثال کے طور پر انہیں غصہ آنے پر الٹی گنتی گننا، جس جگہ غصہ آرہا ہو وہاں سے دور ہوجانا، جس کام سے غصہ آئے اسے چھوڑ کر کسی اور کام مثلاً کتاب یا رسالے پڑھنے میں مشغول ہوجانے کا سبق دیں۔ اس کے علاوہ آپ بچوں کو غصہ آنے پر کسی خوشگوار بات کو یاد کرنا بھی سکھا سکتے ہیں جیسا کہ ان کی سالگرہ کا دن، اسکول میں پہلا دن یا پھر خاندان کے ہمراہ گھومنے پھرنے کے اوقات وغیرہ۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں