پاک افغان سرحد غیر معینہ مدت تک کے لیے بند

پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ سرحد غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ ہونے والے بم دھماکوں کے بعد تورخم-چمن بارڈر کو بند کردیا گیا تھا تاہم دو روز پہلے اسے عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تورخم کے راستے 24 ہزار افغانی باشندے واپس اپنے ملک افغانستان جاچکے ہیں جبکہ 700 پاکستانی بھی واپس پہنچے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سرحد بند کیے جانے کا اعلان بدھ کی صبح کیا گیا تاہم اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ دوبارہ اسے کب کھولا جائے گا۔

جمعرات کے روز 200 تاجر اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے تورخم پر احتجاج بھی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بند کے باعث پھل اور سبزیوں سے لدے 800 ٹرک پھنس چکے ہیں۔ ایک ٹرانسپورٹر علی جان نے بتایا کہ گزشتہ ماہ سرحد بند کیے جانے سے لوگوںکو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے ایک سرکاری افسر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سرحد کھولنے کا فیصلہ افغانستان کی جانب سے 76 مطلوب دہشت گردوں کی حوالگی سے مشروط ہے۔ انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی حکام نے دہشت گردوں کی فہرست گزشتہ ماہ افغان حکام کو فراہم کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ان افراد کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

گزشتہ ماہ پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں میں 130 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان بم دھماکوں کا الزام ان مفرور دہشت گردوں پر عائد کیا تھا جو افغانستان میں روپوش ہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں