انگلستان نے ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کردیا

انگلش کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو 3 ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں 3-0 سے شکست دے دی۔ ویسٹ انڈیز کے دورے پر موجود انگلستان کی کرکٹ ٹیم نے آخری ایک روزہ مقابلہ 186 رنز کے بڑے فرق سے جیتا۔ اس سے قبل کھیلے گئے پہلے اور دوسرے ایک روزہ میں بھی میزبان ٹیم کو بالترتیب 45 رنز اور پھر 4 وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

برج ٹاؤن میں کھیلے گئے آخری ایک روزہ میں انگلستان نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 328 کا بڑا مجموعہ حاصل کیا۔ انگلستان کی جانب سے ایلکس ہیلز اور جو روٹ نے سنچری اننگز سجائی۔ ایلکس ہیلز 107 گیندوں پر 5 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 110 بنا کر بہترین بلے باز رہے جبکہ جو روٹ نے 108 گیندوں پر 10 چوکوں کی مدد سے 101 رنز کی باری کھیلی۔ ان دونوں کھلاڑٰوں کی طویل شراکت داری نے انگلستان کو برتری دلوائی جسے بعد ازاں انگلستانی گیند بازوں نے فتح میں تبدیل کردیا۔ مہمان ٹیم کی جانب سے الزیری جوزف نے 4 جبکہ جیسن ہولڈ نے 3 اور ایشلے نرس نے 1 وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل انٹیگا میں کھیلا گیا پہلا ایک روزہ مقابلہ بھی انگلستان کے نام رہا جس میں ویسٹ انڈیز کو 45 رنز کی شکست ہوئی۔ اس میچ کی خاص بات انگلش کپتانی ایون مورگن کی ذمہ دارانہ اننگز تھی۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں سنچری بنائی کہ جب دیگر انگسلتانی بلے باز میزبان گیند بازوں کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ اس میچ میں بین اسٹروکس کی اننگز بھی قابل ذکر رہی جنہوں نے 61 گیندوں پر 3 چھکوں کی مدد سے 55 رنز بنائے۔ جواب میں ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیسن محمد اور جوناتھن کارٹر نے بہترین بلے بازی کی۔ تاہم دونوں کھلاڑیوں کی نصف سنچریاں بھی 297 رنز کا ہدف عبور کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ اس میچ میں انگلستانی گیند بازوں کرس ووکس اور لیام پلنکٹ نے چار، چار وکٹیں حاصل کر کے ٹٰیم کی فتح میں نمایاں کردار ادا کیا۔

دوسرے ایک روزہ مقابلے کا نتیجہ بھی زیادہ مختلف نہ رہا اور ویسٹ انڈیز کو چار وکٹوں سے شکست ہوئی۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے 225 رنز کا آسان ہدف مہمان ٹیم کے سامنے رکھا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جیسن محمد 50 رنز بنا کر نمایاں اسکورر رہے۔ ان کے علاوہ جوناتھن کارٹر نے 39 رنز کی اننگز کھیلی۔ انگلستان کی جانب سے مایوس کن آغاز کے باوجود جو روٹ کی 90 رنز اور جیسن روئے کی 52 رنز کی اننگز نے میچ کا پانسہ انگلستان کے حق میں برقرار رکھا۔ جو روٹ کی ناقابل شکست اننگز 127 گیندوں پر مشتمل رہی جس میں انہوں نے 3 چوکے بھی لگائے۔ فاتحانہ اننگز کھیلنے پر انہیں مرد میدان بھی قرار دیا گیا۔

ایک زمانے میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم دنیائے کرکٹ کی سخت ترین حریف سمجھی جاتی تھی اور ان کے ہاتھوں شکست کھانے والی ٹیم کو "بلیک واش" قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم ویسٹ انڈیز کرکٹ کا سنہری دور ختم ہوچکا ہے باوجودیکہ وہ دو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے نام کرچکے ہیں۔

اس سیریز کے کامیاب ترین گیند بازوں میں انگلستان کے لیام پلنکٹ اور کرس ووکس سرفہرست رہے۔ لیام پلنکٹ نے 3 مقابلوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کرس ووکس نے 7 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کرس ووکس کو بہترین اکانوی کے باعث سیریز کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔

بلے بازی کی بات کریں تو یہاں بھی انگلستان کی برتری واضح رہی۔ جو روٹ 97.50 کی اوسط سے 195 رنز بنا کر سرفہرست بلے باز رہے جبکہ دوسرا نمبر ویسٹ انڈیز کے جوناتھن کارٹر کا رہا جنہوں نے 45.66 کی اوسط سے 137 رنز بنائے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں