لائیو انٹرویو میں بچوں کی شرارتیں

سنجیدہ گفتگو کے دوران بچے کمرے میں گھس آئیں تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر باہر بھگا دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ صورتحال لائیو انٹرویو کے دوران پیش آئے تو صورتحال پر قابو رکھنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسا ہی کچھ پچھلے دنوں بی بی سی کے ایک پروگرام میں ہوا جب انٹرویو دینے والے صاحب کے ایک نہیں دو معصوم بچے ان کے کمرے میں گھس آئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انہیں قابو کرنے کے لیے ایک خاتون کو بھی کمرے میں داخل ہونا پڑا۔

بی بی سی ورلڈ نیوز کے پروگرام میں جنوبی کوریا کے صدر پارک جیون ہوئی سے متعلق گفتگو جاری تھی۔جنوبی کوریا کے امور پر ماہر تجزیہ کار اپنی رہائش گاہ سے براہ راست اظہار خیال کر رہے تھے۔ ایسے میں اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور پیلی شرٹ پہنی معصوم بچی کمرے میں داخل ہو کر ڈانس کرنے لگی۔ پروگرام کے میزبان نے انٹرویو دینے والے صاحب کی توجہ اس جانب مبذول کروائی لیکن اس سے قبل کہ وہ اس بچی کو قابل کرتے، ایک اور بچہ اپنے واکر سمیت کمرے میں داخل ہوگیا۔ صورتحال اس وقت اور بھی دلچسپ ہوگئی کہ جب ان بچوں کو پکڑنے کے لیے خاتون کمرے میں داخل ہوئیں اور بچوں کو کمرے سے باہر کر دیا۔ کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ خاتون نے آخر میں جس عجیب انداز سے کمرے کا دروزہ بند کیا وہ بتاتا ہے کہ بچوں کو قابو کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

یہاں رابرٹ کیلی کو اس بات کی داد دینی چاہیے کہ وہ اپنے کمرے میں بچوں کی آمد سے ذرا بھی نہ گھبرائے اور موضوع پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ چونکہ گفتگو سنجیدہ نوعیت کی تھی اس لیے انہیں مسکرانا زیب نہیں دیتا تھا اور اسی لیے انہوں نے بمشکل اپنے جذبات قابو میں رکھے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں