جنوبی کوریا کی صدر عہدے سے برطرف

جمعہ کے روز جنوبی کوریا کی عدالت عظمی نے خاتون صدر پارک جیون وئی کو عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ عدالت نے انہیں بدعنوانی کے شبہ میں ملوث قرار دے کر یہ حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کے متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 60 روز کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرائے جائیں۔

جنوبی کوریا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی صدر کو عدالت نے عہدے سے ہٹا دیا ہو۔ پارک جیون جنوبی کوریا کی پہلی خاتون صدر تھیں جن کے خلاف کئی ماہ سے مظاہرے جاری تھے۔ جنوبی کوریا کی چیف جسٹس لی جونگ می نے برطرفی کا حکم نامہ پڑھ کر سناتے ہوئے خاتون صدر کو قانون کی حکمرانی اور جمہوری روح کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔

اس فیصلے کے بعد ملک میں خاتون صدر کی حمایت اور مخالفت میں مظاہرے جاری ہیں۔ خاتون صدر کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اب ہم اس لڑائی کو سڑکوں پر ختم کریں گے۔ جبکہ خاتون صدر کے مخالفین نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا اہم ترین موڑ قرار دیا ہے۔

دارالحکومت سیوئل میں 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں جنہیں مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان مظاہروں میں اب تک دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے ایک شخص کی ہلاکت پولیس وین کے سامنے آجانے کے باعث ہوئی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں