امریکی نوجوان، مہاجرین کو خطرہ نہیں سمجھتے!

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کو انتہا پسند نسل پرستوں کی فتح اور غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف کامیاب ریفرنڈم تصور کیا جاتا ہے تاہم تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ امریکا میں نوجوانوں کی اکثریت عراق اور شام سے آنے والے مہاجرین کو ملک کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی۔

جنوری 2017 میں پیو ریسرچ کی جانب سے کی گئی تحقیق سے علم ہوا کہ 23 فیصد امریکی نوجوان غیر ملکیوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں سمجھتے جبکہ 50 سے 64 سال کی عمر والے 11 فیصد اور 65 سال سے زائد عمر والے 8 فیصد افراد بھی یہی خیال رکھتے ہیں۔

اس تحقیق سے علم ہوا ہے کہ 65 سال سے بڑی عمر والے 60 فیصد امریکی پناہ گزینوں کو ملک کے لیے سنگین خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ 35 سال سے کم عمر افراد میں یہ سوچ رکھنے والے افراد کی تعداد صرف 31 فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عمر بھی 70 سال ہے۔

علاوہ ازیں اسکول میں پڑھنے والے 50 فیصد طالب علم بھی اپنے بزرگوں کے ہم خیال ہیں اور غیر ملکی پناہ گزیوں کو امریکا کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

مجموعی طور پر بات کی جائے تو 46 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ عراق اور شام سے ہجرت کر کے امریکا آنے والے لوگ ملک کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ 35 فیصد کے خیال میں مہاجرین کی آمد مسئلہ تو ہے لیکن اس کی سنگینی بہت زیادہ نہیں جبکہ صرف 16 فیصد افراد مہاجرین کی آمد کو خطرہ تعبیر نہیں کرتے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں