پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک اور کھلاڑی پر پابندی عائد

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تیز گیند باز محمد عرفان کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ہر قسم کے کرکٹ میچز میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ محمد عرفان کو انسداد بدعنوانی قوانین کے تحت نوٹس بھی ارسال کیا جاچکا ہے۔

پی سی بی کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ محمد عرفان کی جانب سے ضابطے کی شق 2.4.4 کی دو مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے اور اس ضمن میں انہیں 14 دن میں جوابدہی کا نوٹس بھیجا جاچکا ہے۔ پی سی بی قوانین کی شق 2.4.4 کے مطابق کسی بھی مشکوک شخص کے رابطہ کرنے پر کھلاڑی کے لیے لازم ہے کہ وہ بورڈ کے حکام کو جلد از جلد اطلاع دے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کرکٹ سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے پی سی بی کی تحقیقات جاری رہیں گی اور کسی بھی غلط سرگرمی میں ملوث کھلاڑی کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پابندی کے اعلان سے قبل محمد عرفان انسداد بدعنوانی یونٹ کے سامنے پیش ہوئے اور اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوران بکیز نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ محمد عرفان نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے انتقال کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اسی لیے بروقت کرکٹ بورڈ کو اس واقعے سے متعلق اطلاع نہیں دے سکے۔

محمد عرفان نے 2010 میں کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ پاکستان کی جانب سے 60 ایک روزہ، 20 ٹی ٹوئنٹی اور 4 ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں۔ 34 سالہ تیز گیند باز پی ایس ایل کے دوسرے سیزن میں اسلام آباد کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ ہی کے دو بلے بازوں شرجیل خان اور خالد لطیف پر بھی ٹورنامنٹ کے دوران پابندی عائد کردی گئی تھی۔

پی ایس ایل میں فکسنگ کی تحقیقات پر علم ہوا کہ ان کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کرکٹر ناصر جمشید کے کہنے پر مشکوک افراد سے ملاقات کی تھی۔ پی سی بی نے ناصر جمشید کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان پر بھی ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

irfan-2

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں