اچھے والدین 3 کام نہیں کرتے

ہر والدین اپنے بچے سے بے پناہ پیار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ان کے پاس رہے اور اسے کبھی کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ لیکن بعض اوقات جانے انجانے میں والدین سے ایسی غلطیاں سرزد ہوجاتی ہیں کہ جو انہیں اپنے ہی بچوں سے دور کردیتی ہیں۔ ایسی ہی غلطیوں کے نتیجے میں بچے اپنے ہی والدین سے خوفزدہ ہونے لگتے ہیں، ان کے سامنے آتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، اپنی سرگرمیوں کو ان سے پوشیدہ رکھتے ہیں اور بااختیار ہوجانے کے بعد اپنے ہی والدین سے رشتہ توڑ بیٹھتے ہیں۔ آج ہم انہیں چند عادتوں کا ذکر کر رہے ہیں جو بچوں اور والدین کے درمیان ایک اندیکھی دیوار بنا دیتی ہیں۔

بچوں کی نہ سننا، صرف اپنی سنانا
والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت بہت اہم ہوتی ہے باالخصوص جب بچہ بڑا ہوتا ہے اور اس کا دماغ فیصلہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے میں اپنے بچوں کی باتیں سنے بغیر یا پھر سننے کے باوجود بلا وجہ رد کردینا اور ان پر اپنی مرضی تھوپ دینا انتہائی غلط ہے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں کی رائے ضرور معلوم کرنی چاہیے اور انہیں درست فیصلے میں مدد دینی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی اور پر انحصار کیے بغیر اپنے فیصلے خود لے سکیں۔ اگر والدین بچوں کی بات سنے بغیر انہیں اپنی سناتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ جب آپ کا بچہ کہے گا اور آپ کو سننا پڑے گا۔

اپنا غصہ بچوں پر نکالنا
روز مرہ کاموں کے دوران ہمیں ایک نہیں، دسیوں مرتبہ غصہ آتا ہے۔کبھی دفتر پہنچنے میں تاخیر ہوگئی تو کبھی بجلی چلی جانے پر غصہ، کبھی ماسی نے بغیر بتائے چھٹی کرلی تو کبھی گھر کے کاموں نے تھکا دیا، یہ اور ان جیسے تمام کاموں میں بچوں کا ہر گز کوئی قصور نہیں ۔ لیکن اکثر والدین لے دے کر اپنا تمام غصہ بچوں پر ہی نکالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس سے بچوں پر غیر معمولی ذہنی تناؤ آن پڑتا ہے اور خوف کا احساس پنپنے لگتا ہے۔ ایسے میں کوشش کرنی چاہیے کہ غصہ کی حالت میں خود پر قابو پائیں اور بچوں کو بھی ایسا کرنا سکھائیں۔

تضحیک آمیز القابات سے پکارنا
اکثر اوقات بچے کی کسی مخصوص عادت کو بنیادی بنا کر اس کا مزاحیہ نام رکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی بچہ کام کرنے میں دیر لگاتا ہے تو اسے لیٹو کے لقب سے نواز دیا اور اگر کوئی بچہ بہت زیادہ ضدی ہے تو اسے اڑیل کہنا شروع کردیا۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بچے میں منفی نوعیت کے جذبات جنم لیتے ہیں اور اس میں بری عادت تبدیل کرنے کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے نتیجتاً بری عادت پختہ ہوجاتی ہے اور وہ تمام عمر تضحیک کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو اچھے ناموں سے ہی پکاریں اور ان کی کمزوریوں کو بنیادی بنا کر مذاق نہ اڑائیں بلکہ انہیں اس سے نمٹنے میں مدد دیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں