آئی سی سی کے صدر مستعفی؛ لیکن کیوں؟

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے صدر ششانک منوہر نے ذاتی وجوہات کے باعث عہدے سے استعفی دے دیا ہے جس کے بعد آئی سی سی کے ڈھانچے میں اصلاحات اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کا انعقاد ایک مرتبہ پھر التوی کا شکار ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ ششانک منوہر آٹھ ماہ قبل آئی سی سی کے پہلے منتخب صدر بنے تھے اور ان کے عہدے کی معیاد دو سال تھی۔ انہوں نے بگ تھری کی مخالفت کرتے ہوئے آئی سی سی کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کا عندیہ دیا تھا۔ آئی سی سی کے سربراہ ڈیو چرڈسن کو لکھے گئے خط میں ششانک منوہر نے نجی معاملات کو استعفی کی وجہ قرار دیا ہے تاہم ماہرین کے خیال میں یہ فیصلہ ان خبروں کے بعد لیا گیا ہے کہ جس میں ششانک منوہر کی اصلاحات کے خلاف بھارت، زمبابوے، سری لنکا اور بنگلہ دیش کا متحد ہوجانا زیر بحث رہا ہے۔

ششانک منوہر اس سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ BCCI کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سال 2014 میں "بگ تھری" کی مخالفت کی تھی۔ وہ انگلستان، آسٹریلیا اور بھارت کی ٹیموں کی آئی سی سی کے فیصلوں پر اجارہ کے خلاف تھے اور تمام اراکین کو یکساں اہمیت دینے کے خواہاں تھے۔ ششانک منوہر کی جانب سے آئی سی سی کے آئین کا ازسرنو جائزے کی تجویز پر آئندے ماہ پیش رفت ہونا تھی۔ اس سے قبل بھارت اور سری لنکا کی جانب سے آئین کے جائزے سے متعلق تجویز کے خلاف ووٹ دیا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق اب زمبابوے اور بنگلہ دیش بھی ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔

صدر کے مستعفی ہوجانے کے بعد آئی سی سی بورڈ کی جانب سے قائم مقام صدر کا نام سامنے آنا باقی ہے جس کے بعد مستقل صدر کا انتخاب ہوگا۔ ششانک منوہر کو گزشتہ سال مئی میں بلامقابلہ منتخب کیا گیا تھا تاہم انگلستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ جائلز کلارک کو ان کا مضبوط حریف مانا جارہا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ صدر کے لیے جائلز کلارک اپنا نام پیش کرتے ہیں یا نہیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں