پاکستان اور چین مشترکہ میزائل پروگرام شروع کرنے پر رضامند

چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ چینی حکومت نے پاکستان کے ساتھ متعدد عسکری منصوبوں پر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے جس میں مشترکہ کوششوں سے بیلسٹک، کروز اور زمین سے جہاز کو نشانے بنانے والے میزائلوں کی تیاری کا منصوبہ بھی شامل ہیں۔

پیپلز لبریشن آرمی کی راکٹ فورس کے سابق عہدیدار سانگ زوہنگ پنگ نے مقامی اخبار کو بتایا کہ پاک چین مشترکہ عسکری منصوبے صرف میزائل کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ اس میں چھوٹے جنگی جہاز FC-1 زاؤلونگ کی بڑے پیمانے پر تیاری کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چینی نمائندگان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات جاری کی جاچکی ہیں اور ان میں بیلسٹنگ میزائل کی تیاری سے متعلق معاہدے کے بارے میں کسی بات چیت کا ذکر نہیں ہے۔

یہ خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے کہ جب چین کی جانب سے بھارت کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت کی جانب سے اگنی V میزائل کے تجربے پر بھی چین کی جانب سے تحفظات اٹھائے گئے ہیں اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف قرار دیا جارہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان نئے معاہدے کا مقصد بھارت کی جانب سے طاقت کا توازن خراب کرنے کی کوشش کا جواب دینا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے رواں ہفتے چین کے دورے پر اعلی عسکری قیادت سمیت کئی دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن زانگ گاؤلی بھی شامل ہیں جنہیں چین کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قمر باجوہ نے مرکزی فوجی کمیشن کے نائب سربراہ جنرل فین چانگ لونگ، جوائنٹ سٹاف کے سربراہ جنرل فینگ فینگھوئی اور فوج کے کمانڈر جنرل لی زاؤچنگ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں