خود کلامی کے 3 دلچسپ فوائد

بیٹھے بیٹھے یا راہ چلتے کوئی خود سے ہی باتیں کرنے لگے تو اسے لوگ کیا سمجھیں گے؟ پاگل۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو ماہر نفسیات یقیناً اس سے پرہیز کا مشورہ دیتے لیکن وہ تو لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ کچھ وقت اپنے لیے نکالیں اور خود سے باتیں کریں۔ اس سے آپ کو اپنی تنہائی دور کرنے، اپنے کاموں کی ترتیب بنانے، روز مرہ استعمال کی اشیاء ڈھونڈنے اور اپنی پریشانی دور بھگانے جیسے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ذیل میں خود کلامی کے چند مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ امید ہے اسے پڑھ کر آپ بھی خود کلامی کو اپنائیں گے اور شوق سے دوسروں کی نظر میں پاگل بننا پسند کریں گے۔

تنہائی سے چھٹکارا
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ آوازیں تنہائی کا احساس کم کرتی ہیں۔ اب چاہے یہ آپ کی اپنی ہی آواز کیوں نہ ہو، اس سے تنہائی کا احساس کم کیا جاسکتا ہے۔ خود کلامی کا بہترین انداز اپنے خیالات کو ٹٹولنے کا ہے۔ مثلاً آپ کسی شخص کو یاد کر کے اس کی تعریف کرسکتے ہیں یا پھر اپنے آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں خود سے بات کرسکتے ہیں۔ اس سے آپ کو گونا گوں فوائد حاصل ہوں گے جن میں سے ایک زبان و بیان کا سلیقہ اور روانی بھی ہے۔

خود کو منظم رکھنا
دیکھے، سنے یا لکھے ہوئے الفاظ دماغ میں جگہ بناتے رہتے ہیں لیکن منہ سے ادا ہونے والے الفاظ زیادہ لمبے عرصے تک یاد رکھے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ کسی نئے شخص سے تعارف حاصل کرتے ہوئے اس کا نام سننے کے ساتھ ساتھ خود بھی ادا کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں زیادہ عرصے تک یاد رکھ سکیں۔ ماہر نفسیات بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اپنے روز مرہ کاموں کو خود ہی سے بیان کرنا بہت مفید ہے۔ اس سے ہمیں دن بھر کا شیڈول ہمہ وقت یاد رہتا ہے اور یوں کوئی اہم کام بھول جانے کی غلطی سے بعض رہ سکتے ہیں۔

گمشدہ چیزوں کی تلاش
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چیز اپنے ہاتھ سے رکھ کر ہی بھول جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی چیز رکھتے ہوئے اس کا نام لیا جائے اور پھر ڈھونڈنے کے لیے وہی الفاظ دہرائے جائیں تو اس سے کھوئی ہوئی چیز باآسانی مل جاتی ہے۔ وسکونسن یونیورسٹی اور پنسلوینیا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق سے علم ہوا کہ جو لوگ سامان رکھتے ہوئے خود کلامی کرتے ہیں، ان میں چیزوں کو تلاش کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً موبائل فون ڈھونڈنے کے لیے کہا جائے کہ "فون، کہاں ہے فون؟" تو آپ کا دماغ خود ہی اس جگہ کی طرف جائے گا جہاں فون رکھتے ہوئے آپ نے کہا تھا کہ "یہ رہا فون"۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں