شام نے اسرائیلی طیارہ مار گرایا

شامی افواج نے جمعے کے روز ایک اسرائیلی طیارے کو مار گرانے اور تین کو واپسی پر مجبور کردینے کا دعوی کیا ہے۔ یہ طیارے لبنان کے راستے دارالحکومت دمشق سے کچھ فاصلے پر موجودہ شہر تدمر پر حملے کے لیے شامی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے دعوی کیا تھا کہ اس نے شام کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی افواج کے مطابق یہ ان میزائل حملوں کا جواب تھا کہ جو شام کی جانب سے اسرائیلی شہروں پر داغے گئے تھے۔ البتہ اسرائیل کے مطابق ان میں سے کوئی بھی میزائل نشانے پر نہ لگ سکا۔

شامی حکام نے کہا ہے کہ صیہونی افواج کی تازہ ترین کاروائیں خطے میں داعش کو مدد کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ حملوں کا پوری قوت سے جواب دیں گے۔

یاد رہے کہ شام 2011 سے خانہ جنگی کا شکار ہے اور شامی افواج نے رواں ماہ تدمر کا علاقہ داعش کے قبضے سے حاصل کیا ہے۔ اب سے تقریباً تین ماہ قبل داعش نے تدمر پر قبضہ کرلیا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران اسرائیل کی جانب سے داعش کے مقبوضہ علاقے پر کوئی بھی حملہ نہیں کیا گیا۔ داعش کے خلاف جنگ میں شامی افواج کو روس کی زبردست حمایت بھی حاصل رہی ہے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں