سڑی ہوئی گرمی کے لیے کمر کس لیں

سردیوں کا موسم رخصت ہوچکا اور اب کینو، انار اور چکوترے کی جگہ آم، خوبانی اور تربوز کا موسم آنے والا ہے۔ لیکن ڈرنے والی چیز موسم گرما کا ناقابل برداشت درجہ حرارت ہے جو پچھلے چند سالوں میں کئی ایک شہروں میں نئے ریکارڈ قائم کرچکا ہے۔ کہتے ہیں عقل مند وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت سے پہلے اس کی تیاری کرلے نا کہ وہ جو مشکل سر پر پہنچ جانے کے بعد ہاتھ پیر مارے۔ اگر آپ بھی سمجھداروں میں سے ایک ہیں تو گرمی کی تیاریاں ابھی سے کیجیے کہ جب جناب سورج اپنی تپش کا ٹریلر دکھا رہے ہیں۔ تو اس سے بھی پہلے کہ گرمی کا موسم اپنا قہر ڈھانے لگے، ان تجاویز پر عمل کر کے اس کے مقابلہ تیاری پکڑیں۔

پنکھے اور ایئرکنڈیشن چیک کریں
اکثر لوگ سال بھر پنکھے اور ایئرکنڈیشن کی سروس یا ضروری مرمت کروانا گوارا نہیں کرتے اور پھر جب انہیں گرمی میں بے تحاشہ استعمال کرتے ہیں تو یہ چیزیں جواب دینی لگتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہہ گھر کو ٹھنڈا رکھنے والے تمام برقی آلات کا معائنہ کیا جائے اور ان کی صفائی ستھرائی کے علاوہ سروس بھی کروالی جائے۔ ورنہ عین گرمیوں میں ان کے خراب ہوجانے پر آپ کو موسم کا غصہ تو برداشت کرنا پڑے گا ہی "ڈیمانڈ" زیادہ ہونے پر اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔

پانی زیادہ پینے کی عادت اپنائیں
موسم سرما میں پسینہ کم آتا ہے اور اسی وجہ سے پیاس بھی کم لگتی ہے۔ ایسے میں کئی لوگ پانی کی مناسب مقدار پینے کی عادت چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ ایسا گرمیوں میں ہر گز نہیں چلے گا کیوں آپ آنے والا موسم آپ کو پسینہ میں شرابور کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ اس لیے کوشش کریں کہ جب یاد آئے اور وقت ملے پانی زیادہ پیئں۔ گرمیوں میں سادہ پانی کے علاوہ لیمو پانی پینا بھی خاصہ مفید ہے۔

ورزش کے اوقات تبدیل کرلیں
بہت سے لوگ سردیوں کے موسم میں گھر سے باہر چہل قدمی یا ورزش کے لیے دوپہر کا وقت مقرر کرتے ہیں۔ یوں وہ سرد دوپہر میں سورج کی ہلکی پھلکی حدت کا مزہ بھی لے لیتے ہیں اور ورزش بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن گرمیوں میں معاملہ مختلف ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت سورج گویا آگ برساتا ہے۔ اس لیے ورزش، چہل قدمی اور ایسے تمام کام جو گھر سے باہر کرنا ضروری ہوں، کو صبح سویرے یا شام کے اوقات میں انجام دینے کی کوشش کریں۔ اس دوران پانی ہر 15 سے 20 منٹ بعد پانی پیتے رہنا چاہیے۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں