درد کش دوائیں امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہیں: تحقیق

جسم میں درد ہے؟ فلاں دوا کھالو۔ پیٹ میں درد ہے؟ فلاں شربت پی لو۔ داڑھ میں درد ہے؟ فلاں دوا لے لو۔ کیوں۔۔۔ ایسا ہی ہوتا ہے ناں؟ اگر ہاں تو آپ کو آج بلکہ ابھی سے ہی اپنی عادت تبدیل کرلینی چاہیے ورنہ آپ چھوٹے موٹے درد کو بھگانے کے چکر میں دل کا درد لے بیٹھیں گے۔

یورپین ہارٹ جرنل: کارڈیو ویسکولر فارماکوتھراپی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں انسیڈ فارمولے کی حامل دوائیں جیسا کہ بروفن کا زیادہ استعمال کرنے والوں خبردار کیا گیا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ یہ دوائیں دل کا دورہ پڑنے کے خدشات کو 30 فیصد تک بڑھاتی ہیں۔

ڈینش کارڈیک اریسٹ رجسٹری کو استعمال کرتے ہوئے محققین نے ان تمام مریضوں کی معلومات اکھٹی کیں جنہوں نے 1995ء سے اب تک انسیڈ دوائیں استعمال کیں اور ساتھ ہی ان لوگوں کی معلومات بھی جمع کیں جنہیں سال 2001 اور 2010 کے دوران دل کا دورہ پڑا۔ دو مختلف سالوں میں امراض قلب کا شکار ہونے والوں کو پرکھا گیا کہ ان میں سے کتنے مریضوں نے دل کا دورہ پڑنے سے پہلے 30 روز میں انسیڈ استعمال کیں۔ اس سے پتہ چلا کہ انسیڈ (بشمول ڈائیکلوفینک، نیپروکسن، آئیبپروفن اور کوکس-2) ادویات کے استعمال نے دل کا دورہ پڑنے کے خطرے میں 31 فیصد تک اضافہ کیا۔

اس تحقیق کو انجام دینے والے گونر ایچ گیسلاسن کا تعلق کوپن ہیگن یونیورسٹی اسپتال گونٹوفتے سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ انسیڈ کا استعمال نقصان سے خالی نہیں ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ درد کش دوائیں دل کا دورہ پڑنے کے خطرات کو کس طرح بڑھاتے ہیں۔ محققین کہتے ہیں کہ انسیڈا قلبی نظام کو کئی طرح سے متاثر کرتا ہے۔ یہ دوائیں پلیٹلیٹ جمع کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں جس کے نتیجے میں خون کے قطرے جم جانے، نسوں کے پتلا ہوجانے اور فشار خون بلند ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر گونر گیسلاسن کہتے ہیں کہ ڈائیکلوفینک اور آئیبپروفن دونوں ہی قسم کی ادویات بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہیں اور انہی کی وجہ سے امراض قلب میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے معالجین سے مطالبہ کیا کہ وہ انسیڈ دوائیں تجویز کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں اور اپنے مریضوں کو ان دواؤں کے کثرت استعمال سے بعض رکھنے سے خبردار کریں۔

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں