2018ء کی بہترین تصاویر اور اُن کی پسِ پردہ کہانیاں

معرکہ حق و باطل

مقام: غزہ شہر ، فوٹوگرافر: مصطفیٰ حسونا ، تاریخ: 22 اکتوبر 2018ء

یہ تصویر غزہ شہر میں فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان ایک تصادم کے دوران لی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج آنسو گیس کے گولے پھینک رہی تھی اور گولیاں بھی فائر کی جا رہی تھیں۔ مصطفیٰ کےاپنے الفاظ میں کہ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ فلسطینیوں میں اب بھی آزادی کا احساس موجود ہے۔


زلزلہ، سونامی اور کھلونا

مقام: وسطی سلاویسی، انڈونیشیا ، فوٹوگرافر: ہورگے سلوا، تاریخ 7 اکتوبر 2018ء

رواں سال انڈونیشیا میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ وسطی سلاویسی تھا۔ فوٹوگرافر کے مطابق سب کچھ اتھل پتھل ہو چکا تھا ۔ پس منظر میں موجود مسجد شہید ہو چکی تھی اور یہ خاتون ملبے میں اپنا گھر تلاش کر رہی تھیں اور حالت یہ تھی کہ گھر کی علامت بھی باقی نہ تھی بلکہ اس کا ملبہ اپنے اصل مقام سے 150 میٹر دور پڑا تھا۔ خاتون کے ہاتھ میں ایک کھلونا تھا جسے دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی کہ یہ انہوں نے کیوں پکڑا ہوا ہے؟ کیونکہ یہ ان کے تین بچوں کا تھا جو مر چکے تھے۔


مرے قتل کے بعد

مقام: استنبول، ترکی، فوٹوگرافر: کرس میک گرا، تاریخ: 15 اکتوبر 2018ء

یہ تصویر 15 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کے باہر لی گئی تھی جب ترک تفتیش کار سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پہلی بار عمارت میں داخل ہوئے تھے۔ گاڑیوں کے داخلے کے لیے اس واحد راستے پر صحافیوں کا رش تھا اور جب بھی کوئی گاڑی داخل ہوتی تو اسے جانے کا راستہ دیا جاتا جس کے بعد صحافی دوبارہ جمع ہوجاتے اور سکیورٹی گارڈ انہیں روکنے کی کوشش کرتا۔ کرس میک گرا نے کہا کہ یہ تصویر اس واقعے کی پوری داستان بیان کرتی ہے کہ خاشقجی ایک صحافی تھے، سعودی عرب ایک بند معاشرہ ہے اور ایک سکیورٹی گارڈ صحافیوں کو تصاویر لینے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔


آتش فشاں اور بے پروا گالفرز

مقام: ہوائی، امریکا، فوٹوگرافر: ماریو تاما، تاریخ: 16 مئی 2018ء

کلاؤیا آتش فشاں پھٹنے کی کوریج کے دوران فوٹوگرافر ماریو تاما کو معلوم ہوا کہ گالف کورس سے بہترین منظر مل سکتا ہے۔ وہ وہاں پہنچے تو گالفر کو کھیلتا پایا۔ ایسے واقعات ہوائی کے باشندوں کی عام زندگی کا حصہ ہیں۔ ایسے غیر معمولی واقعات میں بھی لوگ روزمرہ سرگرمیوں میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔


آگ کا دریا

مقام: ہوائی، امریکا، فوٹوگرافر: یو ایس جیولوجیکل سروے، تاریخ: 19 مئی  2018ء

جزیرہ ہوائی میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد لاوے کا دریا سمندر کی جانب بہہ رہا ہے۔


انگلیاں فگار اپنی

مقام: رنگون، برما، فوٹوگرافر: این وانگ، تاریخ: 2 مئی 2018ء

ہتھکڑیوں میں جکڑے رائٹرز کے صحافی کیا سو اوو رنگون میں ایک عدالت میں پیشی کے دوران اپنی بیٹی مو تھن وائی زِن کو گود میں لیے ہوئے ہیں۔ وہ نیوز ایجنسی رائٹرز کے ان دو صحافیوں میں سے ایک ہیں جنہیں اراکان میں مقامی بدھوں اور فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں روہنگیا آبادیوں پر حملوں کی خبریں دینے پر گرفتار کیا گیا۔ ستمبر میں دونوں صحافیوں کو سرکاری راز افشا کرنے پر سات سال قید کی سزا دی گئی۔


ماں اور بیٹی کی گرفتاری

مقام: میک ایلن، ٹیکساس، امریکا، فوٹوگرافر: جان مور، تاریخ: 13 جون 2018ء

ٹرمپ کی جانب سے تارکینِ وطن کے بچوں کو ان سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا گیا جب ایک رات اندھیرے میں فوٹوگرافر جان مور نے یہ منظر قید کیا۔ میکسیکو سے سرحد پار کرنے والے ہونڈیورس کے اس خاندان کے علم میں نہیں تھا کہ پالیسی تبدیل ہو چکی ہے۔ اس بھیانک پالیسی کا حقیقی چہرہ اس تصویر سے عیاں ہے۔ ماں کی تلاشی لی جا رہی ہے اور بچی رو رہی ہے۔


الاسکا کا تباہ کن زلزلہ

مقام: الاسکا، امریکا، فوٹوگرافر: مارک لیسٹر، تاریخ: 30 نومبر 2018ء

الاسکا میں آنے والے زلزلے سے ہونے والا نقصان حیران کن تھا۔ مارک کو اندازہ تھا کہ فوٹوگرافی کے لیے بذریعہ سڑک جانا ناممکن ہوگا اس لیے وہ ایک ہوائی جہاز کے ذریعے مختلف مقامات پر گئے کہ جن میں سے ایک یہ تھا۔ تباہی سے زلزلے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، بقول فوٹوگرافر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے زمین اپنی سطح کو نگل رہی ہو۔ واضح رہے کہ اس شدید زلزلے کے باوجود کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔


کوڑے کا سمندر

مقام: جزیرہ پینگانگ، انڈونیشیا، فوٹوگرافر: لارنٹ ویل، تاریخ 20 جولائی 2018ء

پینگانگ شمالی جکارتہ کا ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے کہ جہاں مقامی افراد کے رہنے کے لیے زمینی علاقہ کافی نہیں۔ اس لیے وہ سمندر میں کوڑا پھینک رہے ہیں تاکہ اپنے رہنے کے لیے جگہ بنا سکیں، ہے نا حیران کن؟ مقامی آبادی میں یہ شعور پایا ہی نہیں جاتا کہ پلاسٹک کوڑا کتنے بڑے مسائل جنم دے سکتا ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں لڑکی کتنی خوشی خوشی کوڑا پھینکنے جا رہی ہے۔ یہ تصویر پلاسٹک کے حد سے زیادہ استعمال کا بھیانک منظر پیش کرتی ہے۔


دوڑتے بیل اور انسان

مقام: پامپلونا، اسپین ، فوٹوگرافر: پابلو بلاسکوئز دومنگوئز، تاریخ 7 جولائی 2018ء

سان فرمین میں دوڑتے بیل اور انسانوں کو دیکھنا ایک حیران کن منظر ہوتا ہے۔ 9 دن جاری رہنے والے اس میلے میں بڑی تعداد شرکت کرتی ہے، جو آپ کو تصویر سے بھی نظر آ رہا ہوگا۔


مگر مچھ اور انسان

مقام: کیوبا، فوٹوگرافر: سین چن، تاریخ: 26 ستمبر 2018ء

کیوبا میں تمر کے جنگلات میں ایک ہفتے تک قیام کرنے والے فوٹوگرافر کا مقصد تھا دو دنیاؤں کو ایک ساتھ دکھانا، انسان اور مگر مچھ دونوں کی دنیائیں۔ فلموں میں مگرمچھوں کو آدم خور بلاؤں کے روپ میں دکھایا جاتا ہے، لیکن کیا درحقیقت وہ ایسے ہیں؟ فوٹوگرافر کے الفاظ میں یہ تصویر لیتے ہوئے یہ خوف ضرور طاری ہوا، لیکن مجھے مگرمچھ پرسکون مخلوق لگی کیونکہ اس نے آرام سے منہ کھول کر یہ تصویر بنوائیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر بچ کیسے گئے؟


ایک تاریخی مصافحہ

مقام: پان منجوم، جنوبی و شمالی کوریا، فوٹوگرافر: کوریا سمٹ پریس پول، تاریخ: 27 اپریل 2018ء

جنوبی کوریا کے صدر مون جائی-اِن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن دونوں کوریاؤں کے درمیان ڈی ملٹرائزڈ زون میں عین سرحد پر ایک دوسرے سے مصافحہ کر رہے ہیں۔


ننھا فوجی

مقام: یامبیو، جنوبی سوڈان، تصویر: اسٹیفنی گلنسکی، تاریخ: 7 فروری 2018ء

یہ تصویر ننھے فوجیوں کی رہائی کی ایک تقریب کے دوران لی گئی جو جنوبی سوڈان کے جنگ زدہ علاقوں میں استعمال کیے گئے۔ یہ تقریب کا سب سے کم عمر بچہ تھا کہ جس کی عمر صرف 9 سال تھی۔ خود سے بڑے اور قد آور بچوں کے درمیان اس کا چہرہ گواہ ہے کہ نوعمری میں اس کی معصومیت چھین لی گئی، وہ ان کے ساتھ رہا جن کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تھا اور وہ سب کیا، جو وہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ شرمندہ، خاموش اور مستقبل سے خوفزدہ!


شاہی شادی

مقام: ونڈسر، انگلینڈ، فوٹوگرافر: ڈینی لاسن، تاریخ: 19 مئی 2018ء

ونڈسر کے سینٹ جارج گرجا میں برطانوی شہزادے ہیری کی دلہن میگھن کلارک کی آمد۔


انوکھا لاڈلا

مقام: کیوبیک، کینیڈا، فوٹوگرافر: جیسکو ڈینزل، تاریخ: 9 جون 2018ء

کینیڈا میں ہونے والے جی7 اجلاس کے دوران جرمن چانسلر انگیلا مرکیل کیوبیک اور دیگر عالمی رہنما امریکی صدر سے بات کر رہے ہیں۔ ویسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ ناراض کس بات پر ہیں؟

فیس بک پر تبصرے



تبصرہ کریں